مینڈھر//گزشتہ روزمینڈھرکے معززشہریوں کے ایک وفدنے مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست جموں وکشمیرکے لوگوں کے مسائل کاجائزہ لینے اورمسئلہ کشمیرکے حل کی راہیں ہموارکرنے کی غرض سے تعینا ت کیے گئے خصوصی نمائندہ دنیشورشرماسے ملاقات کی۔اس دوران وفدمیں شامل معززافرادجن میںایڈوکیٹ معروف خان، ایڈوکیٹ ندیم احمدخان، ایڈوکیٹ نذیرچوہدری ،ماسٹرمحمدصادق چوہدری، معروف مغل، جاویداقبال،عمران علی خان ودیگران شامل تھے۔ اس دوران وفدنے کہاکہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی آرزوں اور تمناؤں کے عین مطابق حل ہونا چاہیے۔وفدنے کہا ہے کہ جب تک یہ معاملہ حل نہیں ہوگا تب تک ہندوستان اور پاکستان مضبوط دوست بن سکتے ہیں اور نہ ہی دونوں ممالک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو 70سے سال لٹاکر اس مسئلہ کو انتہائی پیچیدہ بنادیا ہے۔اس موقعہ پر وفدنے راجوری پونچھ کی سرحدوں پرسرحدپارکی گولہ باری بندکرانے پرزوردیا۔انہوں نے کہاکہ خطہ پیرپنچال کے لوگ 1947سے آج تک سرحدی گولی باری کاشکارہیں اوراپنے کاندھوں پرلاشوں کوڈھورہے ہیں۔انہوں نے مسئلہ کشمیرکوبات چیت کے ذریعے حل کرنے کی وکالت کی۔اس کے علاوہ وفدنے کہاکہبارڈربیلٹ میںٹراماہسپتال قائمہوناچاہیئے تاکہ لوگ علاج ومعالجہ کراسکیں۔تتاپانی پوائنٹ اورمزیدراستوں کوکھونے،پہاڑیوں کوایس ٹی کادرجہ دیاجائے۔مینڈھرکواے ڈی سی کی اسامی دینے،بی پی ایمبولینس مہیاکروانے کیلئے پرزوراپیل کی۔وفدنے مزیدکہا ہندوستان اور پاکستان کے کروڑوں لوگوں کی خوشحالی، تعمیر و ترقی اور دونوں ممالک کے آزادی صرف اور صرف دوستی سے ہی قائم و دائم رہ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ عدم تشدد اور بات چیت کے ذریعے ہی دنیا میں بڑے بڑے مسائل کا حل نکالا گیا ہے۔