سرینگر// پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے اپنے والد مرحوم خواجہ عبدالغنی لون کو یاد کرتے ہوئے کہا’’ میرے والدقومی ہیروکی موت مرے لیکن اُن کے مخالفین آج بھی زندہ ہوتے ہوئے مردے جیسے ہیں‘‘۔سجاد لون نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ’’ میرے والد کو آج سے19 برس قبل اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی پاداش میں ہلاک کیا گیا۔انہیںسچ بولنے کی سزا دی گئی۔وہ سچ جو آج بھی اتنا ہی نایاب ہے جتنا کہ تب تھا‘‘۔انہوں نے کہا’’ مجھے اب سکون ہے کہ جن لوگوں نے اُس وقت میرے والد کی مخالفت کی تھی، غلط بیانات دئے تھے جس کی وجہ سے اْن کی ہلاکت ہوئی تھی آج وہ زندہ ہوتے ہوئے بھی مردے جیسے ہیں‘‘۔انہوںنے ٹویٹ میںمزید لکھا’’ میرے والد اس وقت اس دنیا سے چلے گئے جب ہلاکت کا مطلب وقار اور قربانی تھا۔ وہ اس دنیا سے صحیح وقت پر ایک ہیرو کی طرح رخصت ہوئے۔ جب تک ہم اجتماعی طور پر جھوٹ بولنے سے باز نہیں آتے، خاص طور پر کس نے کس کا قتل کیا، ہم لوگوں کے حالات ایسے ہی رہیں گے۔ لوگ جاننے کے مستحق ہیں کہ ظلم کرنے والوں کے بہت سے چہرے ہیں اور جابروں کی بدترین شکل وہ ہے جو ظلم کے خلاف جنگ کا نقاب پہن کر ظلم کرتے ہیں‘‘۔ادھراپنی پارٹی کے سینئر نائب صدر غلام حسن میر نے میر واعظ مولوی فاروق اور عبدالغنی لون کو جموں وکشمیر میں تعلیم کو عام کرنے میں اُن کی انتھک کوششوں کے لئے خراج ِ عقیدت پیش کیا ہے۔ ایک بیان میں میر نے مذکورہ شخصیات کی خدمات کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ جنگجوئوں نے دونوں عظیم رہنماؤں کو مار دیا صرف اِس لئے کہ اُن کا سیاسی نظریہ مختلف تھا۔انہوں نے کہا’’ یہ ایک انتہائی مایوس کن حقیقت ہے کہ اُنہیں صرف اختلاف رائے ہونے کی وجہ سے ظالمانہ تشدد کا نشانہ بنایاگیا اور اُن کی آواز کو خاموش کر دیاگیا‘‘۔میر نے مزید کہاکہ دونوں لیڈران کشمیر ی سماج میں جہالت پر کافی فکر مند رہتے تھے اور ہمیشہ انہوں نے نوجوانوں میں معاصر تعلیم کو عام کرنے کے لئے جدوجہد کی۔ بیان میں غلام حسن میر نے مزید کہا ’’میر واعظ مولوی فاروق معروف عالم ِ دین تھے جنہیں نے ہمیشہ اسلام کے امن پیغام کو عام کیا جبکہ عبدالغنی لون نے سماج کے کمزور اورغرباء کی بہتری کے لئے خود کو وقف کیاتھا، وہ عوامی مفادات کے مسائل کو اُجاگر کرنے میں ہمیشہ سرفہرست رہے‘‘۔ غلام حسن میر نے مذکورہ دونوں شخصیات کیلئے مغفرت کی دعاکی اور کہاکہ اُن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔