بلال فرقانی
سرینگر// پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کشمیر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے براہ راست اثرات سامنے آنے کے امکانات ہیں۔کیونکہ ماضی کا تجربہ یہی کہتا ہے۔وادی کشمیر روزمرہ ضروریات کیلئے بیرونی منڈیوں سے آنے والی اشیاء پر انحصار کرتی ہے۔تاجروں کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ٹرانسپورٹ اخراجات میں اضافے کا سبب بنے گا جس کے نتیجے میں سبزیاں، پھل، راشن، دودھ، تعمیراتی سامان اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مال بردار گاڑیوں کے کرائیوں میں اضافہ آخرکار عام صارفین پر ہی منتقل ہوگا۔ ٹرانسپورٹ شعبے سے وابستہ افراد نے کہا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے مال برداری اور مسافر بردار خدمات دونوں متاثر ہوں گی۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بڑھتے بجلی بل، تعلیمی اخراجات اور مہنگی اشیائے خوردونوش کے باعث گھریلو بجٹ شدید متاثر ہے، جبکہ ایندھن کی نئی قیمتوں سے متوسط اور غریب طبقے پر مزید دباؤ بڑھے گا۔ صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ آنے والے دنوں میں سبزیوں، دودھ اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں نئی بڑھوتری دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ماہر معاشیات اور کے ٹی ایم ایف کے چیئرمین ابرار ترین خان کے مطابق کشمیر جیسے خطے میں، جہاں جغرافیائی اور موسمی حالات پہلے ہی ترسیلی اخراجات بڑھاتے ہیں، ایندھن کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی مہنگائی پر وسیع اثرات مرتب کرتا ہے۔ ان کے مطابق ٹرانسپورٹ، زراعت، سیاحت اور چھوٹے کاروبار سبھی شعبے اس سے متاثر ہوتے ہیں۔سبزی و میوہ تاجروں کا کہنا ہے کہ بڑھتے کرائیوںسے ان کے منافع میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔کشمیر ویلی فروٹ گرووس کم ڈیلرس ایسوسی ایشن کے صدر بشیر احمد بشیر کا کہنا ہے کہ فروٹ گاڑیوں کے کرایہ میں بہت زیادہ اضافہ ہونے کا اندیشہ ہے جس سے میوہ تاجر بری طرح متاثر ہونگے۔