سرینگر //سرحدی سب ڈویژن کرناہ میں گردوں اور دیگر کنسر جیسی مہلک بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی تعداد آئے روز بڑھتی جا رہی ہے اور حکام ایسے مریضوں کی مدد کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہے ،کیونکہ سب ضلع ہسپتال میں ان مریضوں کیلئے ڈائیالیسس کا کوئی بھی انتظام نہیں ہے اور ایسے غریب اور لاچار مریض 100 سے 200 کلو میٹر کی مسافت طہ کر کے کپوارہ اور سرینگر کے ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیںجہاں انہیں ڈائیالیسس پر 20سے 30ہزار روپے کا خرچہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔یہی نہیں بلکہ ایسے مریضوں کی ایک بڑی تعداد بھی کرناہ میں موجود ہے ،جنہیں ایوشمان بھارت اسکیم کے تحت مفت علاج ومعالجہ کیلئے بنائے جانے والے گولڈن گارڈ سے محروم رکھا گیا ہے کیونکہ ان کارڈ کو بنانے کیلئے سخت ضوابط مریضوں کیلئے پریشانی کا سبب بن رہے ہیں۔ یاد رہے کہ مرکزی سرکار نے دسمبر 2020میں آیوشمان بھارت سکیم کو شروع کیا اور اس دوران دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس سکیم سے لاکھوں لوگوں کو فائدہ پہنچے گا لیکن سرحدی اور پسماندہ علاقوں میںایسے مریضوں کی کوئی نہیں سنتا، جنہیں مہانہ یا پھر سالانہ ڈائیالیسس کی ضرورت ہوتی ہے ۔شدید نوعیت کے مریضوں کا صرف اتنا مطالبہ ہے کہ انسانی بنیادوں پر اُن کیلئے کرناہ سب ضلع ہسپتال میں ڈائیالیسس کا بندوبست کیا جائے اور وہاں پر مشنری دستیاب رکھی جائے تاکہ وہ ماہانہ ہونے والے خرچہ سے بچ سکیں ان میں ایسے مریض بھی شامل ہیں ، جو اپنے کنبہ کے واحد کفیل ہیں او ر اب وہ بستر مرگ پر ہیں اور ان کی حالت ہر گزرتے دن خراب ہوتی جا رہی ہے۔کرناہ سب ضلع ہسپتال کی اگر بات کریں تو وہاں پر کوئی بھی سٹی سکین مشین موجود نہیں ہے اور مریضوں کو سٹی سکین کرانے کیلئے سرینگر کے ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے ،ہسپتال پر اس وقت 80ہزار آبادی کا دارمدار ہے اور وہاں صرف ایک الٹرساونڈ میشن نصب ہے جبکہ ضرورت کے مطابق وہاں پر 3مشینوں کے علاوہ اس کو چلانے والے ماہر معالجین کی اشد ضرورت ہے لیکن علاقے کی جغرفائیائی پوزیشن سے واقف ہو کر بھی حکام یہ سہولیات کرناہ ہسپتال میں بہم پہنچانے میں ناکام ہے ۔کرناہ میں فی الوقت الٹر ساونڈ میشن کو چلانے کیلئے صرف ایک ہی ڈاکٹر موجود ہے جبکہ ہسپتال میں مریضوں کا بھاری رش ہوتا ہے اور وہاں ایک ڈاکٹر اور ایک میشن ناکافی ہے ۔ کرناہ کے معروف سماجی کارکن اور کرناہ کے قاضی حمید الدین قریشی نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کرناہ کے ایسے مریضوں کیلئے کرناہ ہسپتال میں ان سہولیات کا بندوبست رکھا جائے تاکہ انہیں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑا ۔