گول //ہر گاﺅں کو سڑک رابطوں سے جوڑنے کے سرکاری دعوﺅں کے بیچ مہاکنڈ پی ایم جی ایس وائی سڑک کی تعمیر عوام کےلئے ایک خواب بنی ہوئی ہے ۔ جموںو کشمیر کے دور دراز ایسے بھی گاﺅں ہیں جو صدیوں سے سڑکوں کی تعمیر کے منتظر ہیں اور ہر بار انتظامیہ اور سرکار کی یقین دہانی پر لوگ بھروسہ کرتے ہیں لیکن انہیں کیا معلوم ان کے ساتھ یہ سراب دعوے کیوں کئے جا رہے ہیں ۔ جس طرح سے الیکشنوں کے دوران سیاسی لیڈران عوام سے زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کےلئے لوگوں کو سبز باغ دکھاتے ہیں اسی طرح سے انتظامیہ بھی عوامی درباروں میں لوگوں کو یہ کہہ کر خوش کرتے ہیں کہ یہ کام جلد مکمل کئے جائیں گے اور یہ کہہ کر اپنی جان چھڑاتے ہیں اور آفیسران کو معلوم ہوتا ہے کہ ہمار ا وقت نکل جائے گا تب تک کسی دوسری جگہ ٹرانسفر ہوجاتے ہیں لیکن عوام جو صدیوں سے ان دوردراز علاقوں میں اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں وہ آج کے اس جدید دور میں قدیم زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔ ضلع رام بن کے سب ڈویژن گول کے بہت سارے گاﺅں جو ابھی بھی سڑک رابطوں سے محروم ہیں، کئی گاﺅں میں کئی برس قبل سڑکوں کی تعمیر کے لئے اراضی کی کٹائی کی گئی تھی اور ابھی تک وہاں سڑکیں تعمیر نہیں ہو پائی ہیں ۔ علاقہ مہا کنڈ جو گول سے دس کلو میٹر کی دوری پر واقعہ ہے جہاں جبڑ سر جو ایک خوبصورت سیاحتی مقام بھی ہے اور یہ علاقہ سیاحتی لحاظ سے بھی کافی خوبصورت ہے اور آبادی کے لحاظ سے بھی کافی بڑا ہے لیکن قریباً دس بارہ سا ل قبل اس علاقے میں پی ایم جی ایس وائی کے تحت ایک سڑک کی تعمیر کا کام شروع کرنے کےلئے کھودائی کا کام شروع کیا گیا لیکن تب سے اب تک سڑک کا کام نہ ہونے کے برابر ہے ۔کئی مرتبہ یہاں پر لوگوں نے احتجاج بھی کیا لیکن صرف لوگوں کو یقین دہانی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو رہا ہے ۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم نے کیا گناہ کئے ہیں کہ ہمارے ساتھ جہاں سیاستدان سوتیلا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں اور صرف وعدے کرتے ہیں وہیں انتظامیہ بھی اپنے دعوﺅں میں سراب ثابت ہو رہی ہے “۔انہوں نے کہا کہ کئی مرتبہ علاقے کے لوگوں نے ایس ڈی ایم گول ، ڈی سی رام بن اور محکمہ سے التجاءکی تھی کہ سڑک کو مکمل کیا جائے تاکہ لوگوں کو پریشانیوں سے چھٹکارہ مل سکے لیکن اس کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اندھ علاقہ میں گزشتہ ماہ ڈی سی رام بن نے یقین دلایا تھا کہ جلد سڑک کو بحال کیا جائے گا لیکن ابھی تک یہاں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔انہوں نے گورنر انتظامیہ سے سوال کیا ہے کہ جس سڑک کی کٹائی2008میں ہوئی اُسے آج تک کیوں مکمل نہیں کیا جا سکا ہے۔ان کا مطالبہ ہے کہ سڑک کی مکمل تعمیر کےلئے اقدامات کئے جائیں تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔