ایجنسیز
کابل// پاکستان سے واپس آنے والے افغان مہاجرین کو لے جانے والا ایک ٹرک ہفتہ کے روز مشرقی افغانستان میں ایک شاہراہ پر الٹ گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد جاں بحق اور 35 زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔یہ حادثہ لگما ن صوبے میں اس مرکزی شاہراہ پر پیش آیا جو افغان دارالحکومت کابل کوننگرہارصوبے سے ملاتی ہے۔صوبائی گورنر کے ترجمان عبدالملک نیازئی نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں 10 بچے اور 5 خواتین شامل ہیں، جبکہ زخمیوں کو علاج کے لیے ننگرہار کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔طالبان حکومت کے ترجمان مجاہدذبیح اللہ نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔افغانستان میں ٹریفک حادثات ایک عام مسئلہ ہیں، کیونکہ ملک کی بہت سی سڑکیں خستہ حال ہیں اور ڈرائیور اکثر ٹریفک قوانین کی پابندی نہیں کرتے۔حادثے کا شکار ہونے والے مسافر ان ہزاروں افغان شہریوں میں شامل تھے جو حالیہ عرصے میں پاکستان سے واپس اپنے وطن لوٹے ہیں۔ پاکستان نے 2023 میں غیر دستاویزی تارکینِ وطن کے خلاف کارروائی شروع کی تھی، جس کے بعد بڑی تعداد میں افغان باشندوں کو واپس بھیجا گیا یا ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔اسی دوران ایران نے بھی افغان مہاجرین کی بے دخلی کے اقدامات میں شدت پیدا کی۔ اس کے بعد سے لاکھوں افغان پاکستان اور ایران سے واپس افغانستان لوٹ چکے ہیں، جن میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو پاکستان میں پیدا ہوئے تھے اور کئی دہائیوں سے وہیں رہائش اور روزگار اختیار کیے ہوئے تھے۔