بانہال//جموں سرینگر شاہراہ کے مسلسل تیسرے روز بھی بند ہونے کی وجہ سے منگل کی طرح بدھ کے روز بھی سینکڑوں مجبور اور درماندہ مسافروں نے اپنی اپنی منزلوں کا رخ کرنے اور بانہال سے ریل گاڑی اور رام بن سے گاڑیاں پکڑ کر اپنی اپنی منزلوں کا رخ کیا۔شاہراہ کو چہار گلیارہ بنانے کے لئے شروع کئے گئے تعمیری کام اور بالخصوص کھدائی کی وجہ سے زمین کھسکنا اور پسیوں کا آنا روز کا معمول بن کر رہ گیا ہے ، حالیہ بارشوں اور برفباری کی وجہ سے یہ معاملہ اور بھی زیادہ شدید ہو گیا ہے ، تمام مشینری اور انتظامیہ قدرت کے سامنے بے بس ہو کر رہ گئی ہے۔ آئے روز آنے والی پسیوں کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں درماندہ ہو کر رہ گئی ہیں اور اب شاہراہ کے بند رہنے کی وجہ سے پسی کے دونوں طرف رام سو ، بانہال ، رام بن ، ادہم پور اور ٹنل کے دوسری طرف سینکڑوں مال اور مسافر بردار گاڑیاں تین روز سے درماندہ ہیں۔نہ صرف جموں سرینگر شاہراہ پر چلنے والے مسافر بلکہ ناشری تا بانہال چلنے والے مقامی مسافروں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے اور پسیوں کو عبور کرنے کے لئے انہیں کئی کئی کلومیٹر پیدل سفر طے کرنا پڑتا ہے ۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق ادھم پور نگروٹہ علاقے میں قریب800گاڑیاں، رام بن میں200، مگر کوٹ بانہال سیکٹر میں100اور چندر کوٹ علاقے میں قریب200گاڑیاں درماندہ پڑی ہیں۔اس کے علاوہ جموں میں بھی مسافر و مال بردار گاڑیوں اور ٹینکروں کی بڑی تعداد شاہراہ کھلنے کا انتظار کررہی ہے۔ان میں پیٹرولیم مصنوعات اور اشیائے خوردنی سے بھرے سینکڑوں ٹرک بھی شامل ہیں جب کہ جواہر ٹنل کے دونوں طرف حالیہ برفباری کے بعد پھسلن پیدا ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد ٹنل سے قاضی گنڈ تک کے علاقے میں درماندہ پڑی ہے ۔ان گاڑیوں میں مجموعی طور ہزارو ں مسافر سوار ہیں جو مسلسل تین روز سے سخت مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ سرینگر سے تعلق رکھنے والے نعیم احمد متو نے رام بن میں کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک معاملے میں کسی بھی حالت میں دو روز تک چندی گڑھ پہنچنا ہے اور اس کیلئے میں اپنے ایک دوست محسن منظور شوپیاں سمیت دیگر درجنوں مسافروں کے ہمراہ منگل کی صبح نو بجے سرینگر سے اپنے سفر کا آغاز کیا ہے اور بدھ کی شام سات چھ بجے رام بن پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا قاضی گنڈ میں روکے جانے کی وجہ سے منگل کی رات وہاں ہی گذارنا پڑی اور بدھ کی صبح ریل میں بانہال ریلوے سٹیشن پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں پر کوئی گاڑی میسر نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے پیدل سفر کرنا شروع کیا اور ماروگ کے مقام دشوار پہاڑی کو پیدل عبور کرکے دوسری طرف گاڑی میں بیٹھ کر شام سات بجے رام بن پہنچے میں تیس کلومیٹروں کا پیدل سفر کیا چھ گھنٹوں میں طے کیا۔ اسی طرح رام بن سے سینکڑوں کی تعداد میں اپنی گاڑیاں چھوڑ کر مسافروں نے ماروگ اور انوکھی فال کی پسی کے مقام پہاڑی کا پرخطر حصہ پار کرکے پیدل ہی سفر طے کیا تاکہ بانہال ریلوے سٹیشن تک اخری ریل سے پہلے پہنچ سکیں۔