ویب ڈیسک
جب کہیں باہر ہو اور موبائل کی چارجنگ ختم ہو رہی ہوتو کافی مشکلا ت کا سامنا کرناپڑسکتا ہے لیکن اس ترقی یا فتہ دور میں جلد ہی یہ پریشانی ختم ہو جائے گی ،کیوں کہ سائنس دانوں نے ایک ایسا کپڑا تیار کیا ہے جو شمسی توانائی کو استعمال کرتے ہوئے، ان آلات کو چارج کرسکے گا ۔یہ کپڑا برطانیہ کی ناٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی کے محققین نے تیار کیاہے۔ اس میں 1200 چھوٹے چھوٹے فوٹو ولٹائک سیلز یعنی سولر پینلز نصب کیے گئے ہیں۔ یہ سیلز سورج کی روشنی سے 400 ملی واٹ کی توانائی بناسکتے ہیں جو ایک اسمارٹ واچ یا موبائل فون کو چارج کرنے کے لیے کافی ہے اور ان کو کپڑے بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ٹیکسٹائل محقق ڈاکٹر تھیوڈور ہیوز۔رائلے کا کہنا ہے کہ، یہ نمونہ مستقبل کے ای ۔ٹیکسٹائل کی دلچسپ جھلک ہے۔ اب تک بہت کم لوگوں نے یہ سوچا ہے کہ، ٹیکسٹائل اشیاء بجلی بنانے کے لیے بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہےکہ جو مواد ہم نے بنایا ہے بالکل عام سے ٹیکسٹائل کی طرح دِکھتا ہے۔
اس پر سلوٹیں بھی آسکتی ہیں اور مشین میں دھویا بھی جاسکتا ہے۔ لیکن سطح کے نیچے ہزار فوٹو ولٹائک سیلز کا ایک نیٹ ورک لگایا ہے جو سورج کی روشنی سے توانائی بنا کر ذاتی آلات کو چارج کر سکتا ہے۔ اس مواد کو سولر سیلز کے ساتھ لمبائی میں 0.2 انچ اور 0.06 انچ چوڑائی میں جوڑا گیا ہے۔ ہر سولر سیل پر واٹر پروف تہہ چڑھی ہوئی ہے اور یہ آپس میں مضبوط اور لچکدار تاروں سے جڑے ہوئے ہیں۔
سائنس دان مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے اب تک متعدد چیزیں تیار کرچکے ہیں ۔اس ضمن میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے لیتھئیم آئن بیٹریوں کی کار کردگی بہتر بنانے کے لیے موثر محلول تیار کیا ہے ۔ کارنیگی میلن یونیورسٹی کے محققین نے لیتھیئم آئن بیٹریوں کے بہتر الیکٹرولائٹ بنانے کے لیے روبوٹک اور مصنوعی ذہانت کا مشترکہ نظام استعمال کیا۔
محققین کی ٹیم ایسے الیکٹرولائٹس ڈیزائن کرنا چاہتی تھی جو بیٹریوں کو تیزی کے ساتھ چارج کرسکیں ،جو آج کی بیٹری ٹیکنالوجی کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔ یتھیئم آئن بیٹریوں میں ایک کیتھوڈ اور ایک اینوڈ ہوتا ہے اوران کے اطراف میں ایک الیکٹرولائٹ موجود ہوتا ہے۔ جب انہیں چارج کیا جاتا ہے تو آئنز کیتھوڈ سے نکلتے ہیں اور الیکٹرولائٹ سے ہوتے ہوئے اینوڈ تک جاتے ہیں اور جب ڈِس چارج ہوتے ہیں تو اس کے برعکس عمل ہوتا ہے۔
الیکٹرولائٹ کا مرکب اس بات کا تعین کرتا ہے کہ بیٹری کتنی تیز چارج یا ڈِس چارج ہوتی ہے اور کیسی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے۔لہٰذا الیکٹرولائٹ محلول کی بہتری بیٹری بنانے والوں کےلیے ایک بڑا چیلنج ہے۔محققین کی ٹیم نے تین محلل(سالوینٹ) اور ایک نمک کو مختلف تناسب سے ملانے کے لیے پمپ، والو، برتن اور لیب کے دیگر آلات کی ترتیب کے خود کار نظام، جس کو’’ کلائیو‘‘ کا نام دیا گیا، کا استعمال کیا ہے۔مزید بہتری کے لیے کلوئیو سے حاصل ہونے والے نتائج کو’ ’ڈریگن فلائی‘‘ نامی مشین لرننگ سسٹم میں ڈالا گیا ،جس کی مدد سے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، تاکہ مختلف طریقے اور متبادل تناسب سامنے لائے جاسکیں جو بہتر کارکردگی رکھتے ہوں۔
����������������