مینڈھر//ڈی ڈی سی کونسلر منکوٹ بلاک چوہدری عمران ظفر نے ریاستی و مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ منکوٹ بلاک کے سرحدی گائوں ابھی بھی پچاس سال پیچھے ہیں اور کسی بھی حکومت نے سرحدی گائوں کی طرف توجہ نہیں دی ۔انکا کہنا تھا کہ منکوٹ بلاک کے بنلوئی، ناڑمنکوٹ، ساگرہ ،دبڑاج اور گانی پنچائتوں میں بہت خستہ حالت ہے اور لوگ بنیادی سہولیات سے دور ہیں انکا کہنا تھا کہ لوگوں کو پینے کا صاف پانی کہیں پر بھی دستیاب نہیں ہے اور کئی کلومیٹر دور سے خواتین جاکر پانی لاتی ہیں انہوں نے مزید الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بہت ساری جگہوں پر بیس بیس خواتین پانی کی انتظار کیلئے اکھٹی کھڑی رہتی ہیں اور فوج کی گاڑی جب آتی ہے تو انکو پانی دیا جاتاہے انکا کہنا تھا کہ میں نے چھوٹی چھوٹی بچیاں دیکھیں جو پانی کے انتظار کیلئے پانچ پانچ گھنٹے پانی کے چشمے پر یا فوج کی گاڑی کا انتظار کرتی ہیں جس کے بعد وہ بچیاں اسکول بھی نہیں جاسکتی اور لوگ پانی کے معاملہ میں بری طرح پریشان ہیں انہوں نے محکمہ بجلی پر بھی الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کئی لوگوں کے گھروں میں بجلی کا نام ونشان ہی نہیں ہے اور متعلقہ محکمہ کی طرف سے ہزاروں روپے کا بیل لوگوں کے گھروں میں پہنچ جاتاہے جبکہ بہت ساری جگہوں پر میں نے دیکھا کہ لکڑ کے کھنبے یا سرسبز درختوں کے ساتھ تاریں باندھی ہوئی ہیں اور علاقہ کی حالت بہت خستہ ہے انکا کہنا تھا کہ بنلوئی پنچائت بالکل ہی سرحد پر واقعہ ہے جہاں لوگ پچاس سال پھیچے ہیں ان لوگوں کو کوئی بنیادی سہولیات میسر نہیں ہے سڑک ،بجلی،پانی جیسی اہم سہولیات سے لوگ بہت پیچھے ہیں جبکہ محکمہ صحت کی طرف سے لوگوں کو کوئی سہولیات میسر نہیں ہیں ایک انجیکشن لگوانے کے لئے کئی کلومیٹر دور تک لوگوں کو جانا پڑتاہے انہوں نے ریاستی گورنرر انتظامیہ سے اپیل کی کہ سرحد پر بسنے والے لوگ بری طرح متاثر ہیں کیوں کہ فائرنگ اور گولہ باری رک رک کر ہوتی رہتی ہے لیکن بینکروں کی یہ حالت ہے کہ جتنے بھی بینکر علاقہ کے اندر بنے ہوئے ہیں وہ مکمل نہیں ہیں کئی بینکروں میں پانی ٹپک رہاہے اور کئی بینکروں کے اندر پانی ہی پانی ہے اور بینکر ادھورے چھوڑ دئے گئے ہیں بینکروں کی تحقیقات کیلئے ٹیم علاقہ کے اندر بھیجی جائے جس کے بعد لوگوں کو بینکر مکمل کر کے دئے جائیں تاکہ لوگ فائرنگ اور گولہ باری کے دوران اپنی جانیں بچاسکیں انہوں نے ریاستی و مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ سرحد پر بسنے والے لوگوں کو سہولیات فراہم کی جائیں۔