سرینگر //سردیوں کے بادشاہ 40روزہ چلہ کلان کی آخری شب بھی وادی میں ٹھنڈ کا راج رہا اور 30برس کا ریکار ڈ ٹوٹ گیا۔30سال بعد جنوری میں موسم کی سب سے سرد ترین رات کا ریکارڈ قائم ہوا، جس دوران شبانہ درجہ حرارت منفی 8.8درج کیا گیا جبکہ منفی15.1ڈگری سیلسیش کیساتھ شوپیان وادی کا سرد ترین مقام رہا۔ شبانہ درجہ حرارت کیساتھ ساتھ دن کا درجہ حرات بھی منفی ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات نے اگلے 24گھنٹوں کے دوران بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری کا امکان ظاہر کیا ہے ۔محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر سونم لوٹس نے بتایا کہ گزشتہ 30برسوں کے بعد پہلی مرتبہ سرینگر میں موسم کی سرد ترین رات ریکارڈ کی گئی ۔ درجہ حرارت میں متواتر کمی ہونے سے پوری وادی سخت ترین سردی کے لپیٹ میں ہے ۔ شدت کی سردی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اتوار کو سرینگر سمیت 5علاقوں میں دن کا درجہ حرارت بھی منفی ریکارڈ کیا گیا۔اتوار دن اڑھائی بجے منفی 1.4،قاضی گنڈ میں منفی 1.8،کوکرناگ میں منفی1.2، شوپیان میں منفی 2.4اور کولگام میں منفی 3.6کے علاوہ پلوامہ میں منفی1.2ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق ماہ جنوری1991میں سرینگرمیں کم سے کم درجہ حرارت منفی11.3ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا تھا ۔محکمہ موسمیات کے ا عدادوشمار کے مطابق 10فروری 1983میں سرینگر میں منفی 9.0ڈگری سیلسیش ریکارڈ کیا گیا تھا اسی طرح 8 جنوری 1986میں کم سے کم درجہ حرات منفی 8.2ڈگری ، 9جنوری 1986میںمنفی 8.7 ،10جنوری 1986کو منفی 8.3 ، 11جنوری 1986میں منفی 9.0 ،2 جنوری 1991کو منفی8.2 ،4جنوری 1991کو منفی 8.2 ،5جنوری 1991کو منفی 10.8 ، 6جنوری 1991کو منفی 9.0، 15جنوری 1991کو منفی10.7، 19جنوری 1991کو منفی 10.5 ، 20جنوری 1991کو منفی11.8 ، 21جنوری 1991کو منفی 9.5 ، 22جنوری 1991کو منفی 10.5، 2جنوری 1995کو منفی 8.2 ، 14جنوری 2021کو منفی 8.4ڈگری سیلسیش ریکارڈ کیا گیا ۔ سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات شوپیاں میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 15.1ڈگری سیلسیش ریکارڈ کیا گیا ہے وہیں قاضی گنڈ میں منفی 10.2 ، سیاحتی مقام پہلگام میں منفی 12.0 ،سیاحتی مقام گلمرگ میں منفی 8.0 ، کپوارہ میں منفی 4.7 ، کوکرناگ میں منفی13.1 ، کونہ بل میں منفی 10.0 ، اونتی پورہ میں منفی 12.9 ، اننت ناگ میں منفی 10.0، بڈگام میں منفی 9.8 ، پلوامہ میں منفی 10.3 ، کولگام میں منفی 12.1 ، سوپور میں منفی 4.5 ، بانڈی پورہ میں منفی 5.4ڈگری سیلسیش ریکارڈ کیا گیا ۔ادھر لداخ خطہ میں بھی شدید سردی پڑ رہی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لداخ کے دراس علاقے میں منفی 26.2ڈگری ، کرگل میں منفی 17.4ڈگری سیلسیش ریکارڈ کیا گیا ہے ۔
نل جم گئے، پائپیں بھی منجمند | گھروں اورمساجدمیں بھی پانی نہیں
بلال فرقانی
سرینگر//وادی میں ریکارڑ توڑ سردی کے نتیجے میں پینے کے پانی کا سخت بحران پیدا ہوگیاہے،جس کے نتیجے میں گھریلو استعمال کے علاوہ مساجد اور ہوٹلوں میں سیاحوں کیلئے پانی کی ایک بوند بھی میسر نہیں جبکہ عوامی بیت الخلائوں کو بھی بند کیا گیا ہے۔ چلہ کلان اگرچہ رخصت ہوگیا ہے تاہم آخری دن سخت ترین ثابت ہوا۔پوری وادی میں خاص کر سرینگر، وسطی کشمیر اور جنوبی کشمیر کے علاوہ شمال و جنوب کے بالائی علاقوں میں لوگ پینے کے پانی کیلئے ترس رہے ہیں۔ شدید سردی کے ایام میں پہلی دفعہ وادی میں نل جم جانے سے پانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ سردی کے قہر کے نتیجے میں پانی کی پاپئیں منجمند ہوگئی ہیں،جس سے رہائشی مکانات،ہوٹلوں،عوامی بیت الخلائوں اور مساجدوں میں پانی کی سپلائی نا ممکن ہوچکی ہے۔وادی کے جنوب و شمال کی بیشتر مساجد سے یہ اعلان کئے جا رہے ہیں کہ پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے نمازی گھروں سے ہی وضوکرکے آئیں۔ منتظمین مساجد کا کہنا ہے کہ جس طرح رہائشی مکانات تک پانی کی سپلائی نہیں پہنچ رہی ہے،اسی طرح مساجد بھی پانی کی قلت ہے۔شمال و جنوب کے بیشتر علاقوں، بستیوں اور قصبوں میں پانی کی لائنیں منجمند ہوگئی ہیں جس سے بیشتر آبادی پانی سے محروم ہے۔ شہر سرینگر کے بیشتر لاقوں میں یہی صورتحال ہے اور گھروں کے اندر بھی نل جم گئے ہیں جس سے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔محکمہ جل شکتی کا کہنا ہے کہ انکے محکمہ کے تمام پانی کے پلانٹ و اسکیمیں ٹھیک ہیں،اور ان میں کوئی بھی نقص پیدا نہیں ہوا ہے،مگر پانی کی پاپئیں منجمند ہونے کی وجہ سے رہائشی مکانات و دیگر جگہوں پر پانی کی سپلائی نہیں ہو پارہی ہے۔ محکمہ کے سپر انٹنڈنٹ انجینئر نصیر احمد ککرو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پانی کی قلت نہیں ہے تاہم سردیوں کا زور اس قدر زیادہ ہے کہ محکمہ بھی ریکارڑ توڑ سردی کے سامنے بے بس نظر آرہا ہے۔ ککرو نے کہا کہ محکمہ نے متبادل کے طور پر ٹینکروں سے ان جگہوں پر پانی پہنچانا شروع کیا ہے،جہاں پر پانی کی انتہائی قلت ہے،اور اس کیلئے ایک کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے جو ہمہ وقت کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن مساجدوں،ہوٹلوں سے محکمہ کو اطلاع ملتی ہے،وہاں ٹینکروں سے پانی پہنچایا جاتا ہے۔