رمیش کیسر
نوشہرہ//نوشہرہ کے مختلف دیہات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد نے جمعہ کے روز بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر (بی ڈی او) کے دفتر کے باہر زبردست احتجاج کیا۔ مظاہرین نے بی ڈی او نوشہرہ کے خلاف سخت نعرے بازی کرتے ہوئے مبینہ بدعنوانی اور لاپرواہی کے الزامات عائد کیے۔اطلاعات کے مطابق دنیکا لنگر کے رہائشی ونود کمار چودھری نے منریگا اسکیم کے تحت تقریباً 53 لاکھ روپے کے ترقیاتی کام انجام دیے تھے، تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ ان تمام کاموں کا ریکارڈ اچانک بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر کے پورٹل، دفتر اور گرام سیوک کے آن لائن نظام سے حذف کر دیا گیا ہے۔
متاثرہ شخص کے مطابق اس کے باعث نہ صرف اس کی محنت ضائع ہوئی بلکہ اسے مالی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ونود کمار چودھری جمعرات کے روز اپنے کاموں کی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے بی ڈی او دفتر پہنچے، مگر انہیں بتایا گیا کہ ان کے کام کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔ اس صورتحال سے مایوس ہو کر انہوں نے یہ معاملہ سوشل میڈیا پر شیئر کیا، جس کے بعد یہ خبر تیزی سے وائرل ہو گئی اور عوامی سطح پر تشویش پھیل گئی۔سوشل میڈیا پر معاملہ سامنے آنے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر ریونیو راجوری نے فوری طور پر ایک انکوائری میٹنگ طلب کی، جس میں دو بلاک ڈیولپمنٹ افسران اور تین دیگر سرکاری افسران کو شامل کیا گیا۔ کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر مکمل تحقیقات کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے۔جمعہ کے روز بڑی تعداد میں لوگ ونود کمار چودھری کے ساتھ بی ڈی او دفتر پہنچے، لیکن افسر کی غیر موجودگی کے باعث مظاہرین نے دفتر کے باہر احتجاج شروع کر دیا۔اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق سرپنچ سکھ دیو چودھری، بندو چودھری اور پرشوتم لال سمیت دیگر مقامی رہنماؤں اور بی جے پی کے سینئر لیڈروں نے کہا کہ ایک غریب شخص کے 53 لاکھ روپے کے ترقیاتی کاموں کا ریکارڈ غائب ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس معاملے میں سیاست شامل ہے اور ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی سی بی آئی کے ذریعے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔ رہنماؤں نے مزید الزام لگایا کہ سرکاری افسران بی جے پی کارکنوں کے مسائل پر توجہ نہیں دے رہے اور ان کے کاموں میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔مظاہرین نے لیفٹیننٹ گورنر سے مطالبہ کیا کہ بلاک ڈے کو دوبارہ بحال کیا جائے جیسا کہ گورنر راج کے دوران ہوتا تھا، تاکہ عوام کے مسائل کا موقع پر ہی حل ممکن ہو سکے۔ انہوں نے موجودہ حکومت پر انتقامی کارروائیوں کا بھی الزام عائد کیا۔احتجاج میں شریک دیگر دیہاتیوں نے بھی ترقیاتی کاموں میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو عوام کا اعتماد سرکاری نظام سے اٹھ جائے گا۔دوسری جانب جب بی ڈی او نوشہرہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے اور جو بھی رپورٹ سامنے آئے گی، اسے قبول کیا جائے گا۔ انہوں نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری پورٹلز سے کسی بھی کام کو حذف نہیں کیا جاتا تاہم انہوں نے مزید گفتگو سے گریز کیا۔