نئی دہلی//مرکزی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز کے آیوش ونگ کی جانب سے جاری کردہ عوامی صحت ایڈوائزری میں شدید گرمی اور ہیٹ ویو سے بچاؤ کیلئے مناسب مقدار میں پانی پینے اور دھوپ میں براہِ راست جانے سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔بیان کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور ہیٹ ویو کی صورتحال کے پیش نظر یہ ایڈوائزری وزارتِ آیوش کے اشتراک سے جاری کی گئی۔ایڈوائزری میں عام لوگوں، حساس طبقات، آجرین، مزدوروں، عوامی اجتماعات اور کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینے والوں کیلئے تفصیلی رہنما خطوط جاری کئے گئے ہیں تاکہ وہ گرمی کے دباؤ اور اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔اس میں مناسب مقدار میں پانی پینے، شدید دھوپ کے اوقات میں باہر نکلنے سے بچنے، ہلکے سوتی کپڑے پہننے اور موسمی پھلوں اور الیکٹرولائٹس سے بھرپور مشروبات استعمال کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ شیر خوار بچے، کم عمر بچے، حاملہ خواتین، بزرگ افراد، کھلے ماحول میں کام کرنے والے مزدور اور دل کی بیماری یا ہائی بلڈ پریشر جیسی دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد ہیٹ ویو کے دوران زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں، اس لئے انہیں خصوصی نگہداشت اور نگرانی کی ضرورت ہے۔کام کی جگہوں، عوامی اجتماعات اور بیرونی سرگرمیوں کیلئے بھی خصوصی احتیاطی تدابیر تجویز کی گئی ہیں، جن میں سایہ دار آرام گاہوں کی فراہمی، وقفے وقفے سے پانی پینے کا انتظام، مزدوروں کو موسم سے ہم آہنگ کرنے کے اقدامات اور ہیٹ اسٹریس کی علامات سے متعلق بیداری شامل ہے۔ایڈوائزری میں شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر چکر آنا، سر درد، متلی، ذہنی الجھن، جسمانی درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ، پانی کی کمی، دورے یا بے ہوشی جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری احتیاط برتی جائے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ہیٹ سٹروک ایک طبی ایمرجنسی ہے جس کیلئے فوری طبی امداد ضروری ہوتی ہے، جبکہ شدید صورتحال میں فوری طور پر ایمرجنسی ہیلپ لائن 108 یا 102 پر رابطہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔آیوروید حصے میں ٹھنڈی غذاؤں کے استعمال، لسی، ناریل پانی اور لیموں پر مبنی مشروبات پینے اور جسمانی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے کیلئے روایتی مشروبات جیسے نمبوکافل پانکا، آمرا پرپانکا اور چنچا پانکا کے استعمال کی سفارش کی گئی ہے۔یونانی طریقہ علاج میں سن برن اور جسم میں پانی کی کمی سے بچاؤ کیلئے روایتی ٹھنڈے مشروبات اور جڑی بوٹیوں کے استعمال کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ ہومیوپیتھی حصے میں شدید گرمی کے اوقات میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔