مصنفہ:ڈاکٹرکوثر رسول(اسسٹنٹ پروفیسرشعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی)
صفحات:218،قیمت:300
ناشر:ایچ۔ایس آفیسٹ دہلی
سنہ اشاعت:2020
انسانی زندگی آج جس نشیب و فرا ز اور شکست و ریخ سے دو چار ہے، اس کے اظہار اور ترسیل کا بہترین ذریعہ شاعری ہے۔شاعری نہ صرف خارجی واقعات ،عوامل اور عناصر کو پیش کرتی ہے بلکہ داخلی اور اندرونی تضادات کو بھی اپنی گرفت میں لیتی ہے۔ڈاکٹر کوثر رسول عہد حاضر کی ایک سنجیدہ صاحب طرز شاعرہ اور (فکشن تنقید نگار)کی حیثیت سے ادبی حلقوں میں متعارف ہیں۔پچھلے کئی برسوں سے صلہ اور ستائش کی پروا ہ کیے بغیر نہاہت خاموشی کے ساتھ پرورش لوح وقلم اور ادب کی آبیاری میں مشغول ہیں۔اگر چہ انہیں کئی اصناف پر دسترس حاصل ہے لیکن بنیادب طور پر ان کا محور تنقید ہی ہے۔افسانوں ،ناولوں ،شاعری اور ڈراموں کی توضیح اور تشریح کرتے وقت کوئی ایسا گوشہ تلاش کرلیتی ہیں،جس سے متعلقہ شاعر ،ناول نگار ،افسانہ نگار اور ڈرامہ نگار کا اصلی رنگ ورپ اور حقیقی چہرہ آئینہ دار ہوجاتا ہے۔
زیر تبصرہ کتاب’’ممکنات‘‘ڈاکٹر کوثر رسول کی تازہ ترین تصنیف ہے۔اس کتاب کا موضوع تحقیق وتنقید ہے۔ڈاکٹر کوثر رسول نے اس کتاب کو استاذ پروفیسر نذیر احمد ملک کے نام منسو ب کیا ہے۔فہرست کے تحت کل 15 مضامین ہیں جن کے عنوانات کچھ اس طرح سے ہیں؛ مولانا شبلی نعمانی سیرت ﷺجلد اول کی روشنی میں،طرز بیدل اور غالبؔ،ہماری ثقافت اور اردو ادب۔داستان اور مثنوی کی روشنی میں،حسرت موہانی کی ادبی صحافت۔ار دو معلی کے آئینہ میں،نظم فلسفہ و مذہب ۔ایک خاص نقطہ آغاز،شہہ زور کاشمیری کی نظم۔پری محل کا تجزیاتی مطالعہ،خالد میاں ایک نفسیاتی مطالعہ،حامدی کاشمیری کی افسانوی کائنات اور ان کا افسانہ ’سائے ‘کی تفہیم،حسین الحق کے افسانہ’مٹی کے ڈھیر ‘کا تجزیہ،ڈرامہ ’ضحاک ‘ کی تفہیم ۔بریختی تھیٹر کے حوالے سے،تانیثیت اور ادب،تانیثی تنقید،تزنم ریاض کا ناول’مجسمہ ‘کا تجزیہ۔ایکوتانیثیت کے حوالے سے اور ریاست کی شاعر ات ۔نسائی حسیت کے تناظر میں ہیں۔
کتاب کے پہلا موضوع کا عنوان شبلی نعمانی سیرت ﷺجلد اول کی روشنی میں ہے۔علامہ شبلی نعمانی کا شمار اسلام کے ان نفوس قدسہ میں ہوتا ہے جنھیں ابدی حیثیت حاصل ہے۔وہ اصلا ًعبقری تھے اور بیک وقت مفکر ،مدبر،موجد ،مجتہد ،مورخ ،محقق انشاپر داز اور سیرت نگار تھے۔سیرت کے حوالے سے مولانا شبلی نعمانی اور سید سلمان ندوی کی مشترکہ تصنیف ’’سیرت نبیﷺ‘‘ ایک معتبر سیرت ہے، جو پہلے چھ جلدوں پر مشتمل تھی اور اب اس کی ساتویںجلد بھی شائع ہوگئی ہے۔پہلی دو جلد مولانا شبلی نعمانی کے قلم سے ہیں اور باقی پانچ جلد ان کی وفات کے بعد،ان کے شاگردسید سلمان ندوی نے تحریر کیں۔’’سیرت نبیﷺ‘‘ کی پہلی جلد1918 میں شائع ہوئی۔یہ کتاب نہ صرف اردو میں،بلکہ انیسویں صدی میں لکھی ہوئی تمام زبانوں کی سیرتی کتب میںایک ممتاز مقام کی حامل ہے۔’’سیرت نبیﷺ‘‘کے بارے میں شبلی نے لکھاتھا اگر مر نہ گیا اورایک آنکھ بھی سلامت رہی تو ان شاء اللہ دنیا کو ایک ایسی کتاب دے جائوں گا جس کی توقع کئی برس تک نہیں ہوسکتی۔مولانا شبلی نعمانی نے سیرت نبیﷺ کی پہلی جلدجس محنت ،وسعت نظر،غوروفکر،حسن استدلال اور ادبی شان کے ساتھ لکھی ہے، اس کی مثال عالمی اسلامی کے ادب میں مشکل سے ملے گی۔بقول ڈاکٹر کو ثر رسول:’’شبلی نعمانی نے حضور پاکﷺ کی بعثت سے قبل عرب کی تاریخ،سلسلہ نسب نبویﷺ،ظہور قدسی،ولادت،حضرت حلیمہ سعدیہؓ کی رضاعت،حضرت آمنہؓ کی وفات،ابو طالب کی کفالت،
شام کا سفر،ترویج خدیجہ،آفتاب رسالت کا طلوع ہونا،غار حرا میں عبادت،رویا ئے صادقہ سے نبوت کا آغاز،فرشتہ کا پہلی بار نظر آنا،ورقہ بن نافل کے پاس جانا، اور اس کا تسکین دینا،دعوت اسلام کا آغاز،ان تمام واقعات پر سلسلہ وار بحث اور روایت سے صحیح معلومات ایسی خوش اسلوبی اور سادگی و پرکاری کے امتزاجی اسلوب کے ساتھ بہم پہنچائی ہیں کہ پڑھنے والا مرغوب و مسرور ہونے کے ساتھ ساتھ مستجس
ہو کر مزید آگے بڑھنے کی طرف راغب ہوجاتا ہے جہاں حقیقتا مزید اہم واقعات موجود ہیں۔ان سبھی واقعات کو قلم بند کرتے ہوئے
مولانا شبلی نے حضورپاکﷺکے اقوال وافعال،وضع وقطع،رفتار وگفتار،آپﷺ کے فضائل،اخلاق زہد وتقوی ،احسان وکرم،عزم وثبات،علم وعفوان تمام کے بیان کرنے میںروایت و درایت کوحتی المقدر سامنے رکھا ہے۔یہ تمام ذمہ داریاںجس حوصلہ وجوش،صبر واستقلال کی متقاضی تھی ،وہ حقیت میں شبلی ہی کی شخصیت کی متحمل ہوسکتی تھی۔’’(ص۔۔۔20,21)
کتاب میں شامل مضمون بہ عنوان’’حسرت موہانی کی ادبی صحافت۔ار دو معلی کے آئینہ میں‘‘ ہے۔اس مضمون میں حسرت موہانی کی ادبی صحافت کو پیش کیا گیا ہے۔حسرت موہانی علی گڑھ میں زمانہ طلب علم ہی سے جنگ آزادی کے سر گرم رکن بن گئے تھے۔مولانا کی شخصیت ہمہ جہت شخصیت تھی۔صحافت اور عملی سیاست میں انھوں نے حصہ لیا۔ہندوستان میں قومی علمی اور سیاسی شعور پیدا کرنے اور شمع آزادی کی لوکوتیز کرنے کے لئے انھوں نے علی گڑھ سے 1903 میں’’اردو معلی اخبار جاری کیا۔اردو معلی میں ادبی ،مذہبی ،سیاسی موضوعات پر پرْمغزز مضامین شائع ہوتے تھے۔ یہ رسالہ تقریبا ۴۲ سال تک ملک وقوم کی خدمت بڑی جرات اور دلیری سے کرتا رہا۔اس کا اعتراف کرتے ہوئے ڈاکٹر کوثر رسول لکھتی ہیں:’’اردو معلی ‘‘اردو ربان کا پہلا ادبی اور سیاسی رسالہ تھا۔حسرت نے صرف سیاسی شعوربیدار کرنے میں ہی حصہ نہیں لیا بلکہ شروع سے ہی عملی اور سائنسی مضامین پر خصوصی توجہ دی ،انگریزی تراجم،فلسفیانہ،اخلاقی،تکنیکی مضامین کے علاوہ نظم ونثر،تنقید،انشایئے،ادبی چشمکیں،طویل اور مختصر افسانے بھی اس میں جگہ پاتے تھے۔
حسرت موہانی نے اردوکے قدیم ادبی سرمائے خصوصاشعری سرمائے کی بازیافت بھی کی اور ادبی ذوق کی آبیاری میں نمایا ںحصہ لیا،زبان وبیان کی غلطیاں پر ٹوکا،معائب سخن گنائے،نوواردوں کو ہدایت کی اور اس طرح پوری ایک نسل کی ادبی تربیت کی۔‘‘(ص۔۔۔55,56 )
مضمون’’تانیثیت اور ادب ‘‘میں تانثیت پر مدلل بحث دیکھنے کو ملتی ہے۔ادب میں تانیثیت سے مراد اس عورت کو Deconstruct کرنا ہے جو اپنی ذات اور پہچان سے ہی بے خبر نہیں بلکہ سماجی ،تہذیبی منظر نامے سے بھی نابلد تھی اور جوعورت اپنی حقیقت کو فراموش کر چکی تھی ۔اسی ظلم کے خلاف جو آواز تھی اس کو تانیثی تحریک کانام دیا گیا کیونکہ مردوں نے عورت کو انسان نہیں بلکہ شئے سمجھ لیا تھا کہ وہ جس طرح چاہیں اس پر حکمرانی کریں اور اپنے ظلم کا شکار بنائیں۔بقول ڈاکٹر کوثر رسول :’’تانیثیت کی تحریک نہ صرف خواتین کی جنسی وحیایتاتی محکومیت کے خلاف احتجاج کا نام ہے بلکہ یہ سماج اور قانون ساز حلقوں سے مرد کے مساوی حقوق کی دعویدار بھی ہے اور سب سے زیادہ یہ اس پدری تصورکی نفی کر تی ہے جس کی بنا پر عورت ناقص العقل بھی ہے اور مہجول ومحض بھی۔تانیثیت تحریک کے اولین نقوش میری وول سٹون کرافٹ کی کتاب’’A Vinidication Of Rights Of Women ‘‘ میں ملتے ہیں۔جس میں انہوں نے مرد اساس معاشرے نظام کی تنقید کے ساتھ ساتھ خواتین کی اہمیت کو بھی جتایاتھا۔اسی طرح جان اسٹورٹ مل نے’’On The Subjucation Of Women ‘‘لکھ کر لوگوں کی توجہ کی اس نابراری اور غیر متعدل رویے کی طرف مبذول کرنی چاہی۔مگر جس کتاب نے پورے عالم کے مرداساس ادبی و سیاسی حلقوں میں تہلکہ مچایاوہ فرانس کی ایک اہم نظریہ ساز خاتونSimon De‘‘’’Beauviour کی کتاب’’Le Beuxione Sexe 1949‘‘ ہے۔جس کا ترجمہ بعد میں انگریزی میںThe Second Sex 1974 کے نام سے کیا گیا۔چنانچہ سمون نے تانیثی رجحان کو بڑھاوا دیا بلکہ یہ دعویٰ بھی کیاکہ:عورت کی آزادی در حقیقت مردکی آزادی ہے‘‘۔(ص۔۔155 )
یوں تو اس کتاب میں سبھی مضامین اہم ہیں لیکن’’ حسین الحق کے افسانہ’مٹی کے ڈھیر کا تجزیہ‘‘کافی اہمیت کا حامل ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ موصوفہ نے بیانیہ اور تکنیک کے درمیان پیدا ہونے والے فرق اور کنفیوژن کو مثال کے ذریعے دور کرنے کی کامیا ب سعی کی ہے۔ہر مضمون کا بہ نظرغائر مطالعہ کرنے کے بعد اس کی اہمیت اور افادیت کا انداز ہ ہوتا ہے۔ڈاکٹر کوثررسول نے بہت ہی عرق ریزی اور جانفشانی سے کام لیا ہے اورانہی فنکاروںاور قلمکاروں کو زیر بحث لایا ہے جنہوں نے تخلیقی ادب کو ایک نئی سمیت عطا کرنے میں اپنا خون جگر صرف کیا ہے۔موصوفہ نے عام روایت سے انحراف کرتے ہوئے اس کتاب میں ایک نئے طرز کو اپنایا ہے۔مجموعی طور پر کتاب قابل مطالعہ ہے اور تحقیق و تنقید سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے قیمتی مواد پر مشتمل ہے۔کتاب طباعت کے لحاظ سے معیاری اور دیدہ زیب ہے۔امید ہے کہ اہل علم و ارباب ذوق کے مابین اس کی خاطر خواہ پذیرائی ہوگی۔
رابطہ۔رعناواری سرینگر،9103654553