ایجنسیز
پٹھان کوٹ// مغربی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل منوج کمار کٹیار نے جمعرات کو کہا کہ انہوں نے جموں و کشمیر میں ملی ٹینسی میں مسلسل کمی کو نوٹ کیا ہے، اور حالات بہت نارمل ہو گئے ہیں۔اس بات کو برقرار رکھتے ہوئے کہ فوج ملی ٹینسی کے بنیادی ڈھانچے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے مطابق اس سے نمٹنے کے لیے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔انہو ں نے کہا “جیسا کہ آپ نے دیکھا ، جموں و کشمیر میں ملی ٹینسی کے تمام پیرامیٹرز میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے، حالات بہت نارمل ہو چکے ہیں، تاہم جیسا کہ میں نے پہلے کہا، یہ پاکستان کی طرف سے چند ملی ٹینٹوں کو بھیج کر ماحول خراب کرنے کی سوچی سمجھی سازش ہے،ہماری فوج اور سول انتظامیہ کے تمام محکمے اس سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں”۔
کٹھوعہ-کشتواڑ پٹی میں ملی ٹینٹ مقابلوں کے بارے میں آرمی کمانڈر نے کہا، “جہاں بھی ہمیں اطلاع ملتی ہے، ہم ر فوری کارروائی کرتے ہیں، اس سال بھی کئی کامیاب کارروائیوں میں، ہم نے ملی ٹینٹوں کو بے اثر کیا جو ہمارے ملک میں بدامنی پھیلانے آئے تھے۔”پاکستان میں لانچ پیڈز اور ملی ٹینٹ کیمپوں کی بحالی کے بارے میں، انہوں نے کہا، “ہم نے ان پر نظر رکھی ہوئی ہے، ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ وہاں کیا کارروائیاں ہو رہی ہیں، اگر وہ اپنے ملی ٹینٹ اڈوں کو دوبارہ فعال کی کوشش کر رہے ہیں تو ہمارے پاس وہ معلومات ہیں، ہم اس کے مطابق اپنا منصوبہ بنائیں گے۔” لیفٹیننٹ جنرل کٹیار نے کہا کہ پاکستان کی عسکری قیادت محاذ آرائی میں پروان چڑھتی ہے۔ “پاکستان کی عسکری قیادت متعلقہ رہنا چاہتی ہے اور نہیں چاہتی کہ سیاست دان اقتدار پر قبضہ کریں، ان کی مطابقت بھارت کے ساتھ تصادم کی حالت سے آتی ہے، ہماری طرف سے بار بار امن کی کوششوں کے باوجود وہ اس محاذ آرائی کو برقرار رکھنے کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں،” انہوں نے اسے تشویشناک قرار دیا۔