جموں//جموں وکشمیر بھاجپا یونٹ کے صدر رویندر رینا نے کہاکہ کانگریس نے ہی جموں وکشمیر کا بیڑا غرق کیا۔انہوں نے کہاکہ راہول گاندھی سے جموں وکشمیر کے لوگ سوال کر رہے ہیں کہ یہاں پر ملی ٹینسی کو کس نے فروغ دیا ، لداخ ، پاکستانی زیر قبضہ کشمیر، اکسائی چن، گلگت بلتستان کو کس نے پاکستان اور چین کے حوالے کیا۔ اس کا کانگریس اور راہول گاندھی کو جوب دینا ہی پڑے گا۔ان باتوں کا اظہار موصوف نے جموں میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس کے دوران کیا۔رویندر رینا نے کہاکہ جموں وکشمیر میں امن و امان کے قیام کی خاطر موجودہ مرکزی حکومت زمینی سطح پر کام کر رہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کے سبھی طبقوں کو انصاف فراہم کرنے کی خاطر موجودہ حکومت کوشاں ہے۔اْن کے مطابق کانگریس نے جموں وکشمیر کا بیڑ ا غرق کیا۔رویندررینا نے کہاکہ آج راہول گاندھی بھارت جوڑو یاترا پر نکلا ہے لیکن جموں وکشمیر کے لوگ اْن سے سوال کر رہے ہیں کہ جموں وکشمیر میں حالات کو درہم برہم کرنے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟انہوں نے کہاکہ کانگریس نے جموں وکشمیر کو ہر ایک شعبے میں پیچھے رکھا اور لوگوں کے حقوق سلب کئے۔رویندر رینا نے راہو ل گاندھی سے سوال کیا کہ سال 1947میں ملک کیوں ٹوٹا ، یونین ٹریٹری لداخ میں گلگت بلتستان، اکسائی چن اور پاکستانی زیر قبضہ کشمیر کو کس نے چین اور پاکستان کے حوالے کیا ؟انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس لیڈر شپ نے ہی چین اور پاکستان کو اراضی فراہم کی۔رویندر رینا نے کہاکہ جموں وکشمیر میں ملی ٹینسی کو کیسے فروغ ملا یہ راہول گاندھی سے پوچھا جاسکتا ہے کیونکہ 40برسوں تک کانگریس نے جموں وکشمیر اور ملک میں حکومت کی۔انہوں نے کہاکہ کانگریس نے ہمیشہ ملی ٹینسی کے حوالے سے نرم گوشہ رکھا جس وجہ سے یہاں بے گناہ لوگ مارے گئے۔رویندر رینا نے کہاکہ جموں وکشمیر کو برباد کرنے کا کام کانگریس نے کیا ہے۔اْن کے مطابق موجودہ سرکار سب کا ساتھ ، سب کا وشواس کو دھیان میں رکھ کر کام کر رہی ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ملک کو جوڑنے کاکام مودی جی کر رہے ہیں اور راہول گاندھی ملک کو توڑنے کی خاطر یاترا پر نکلے ہیں۔ رینہ نے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا کو ‘گپکار گینگ’ کی حمایت اس کے ‘بھارتوڑو یاترا’ ہونے کی طرف “واضح طور پر اشارہ” کرتی ہے۔انکاکہناتھا کہ جب جموں و کشمیر کے اس وقت کے مہاراجہ1947 میں ہندوستان کے ساتھ الحاق کے لیے آمادہ ہوئے تو پنڈت جواہر لال نہرو نے شیخ عبداللہ کے لیے ایک بڑا کردار مختص کرنے کے لیے تاریخی قدم کی مزاحمت کی اور جان بوجھ کر مہاراجہ کو سائیڈ لائن کرنے کی کوشش کی جس پر راہل گاندھی کو واضح بیان دینا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کو والمیکی سماج کو جواب دینا چاہئے جو صفائی ملازمین کے علاوہ جموں کشمیر میں ملازمتوں کے لئے درخواست نہیں دے سکتے تھے۔انہوںنے کہا’’ آج گپکارگینگ بھارت جوڑو یاترا کی حمایت کر رہا ہے ،گپکارگینگ جموں و کشمیر پر چین اور پاکستان کے ساتھ بات چیت کی حمایت کر رہا ہے۔ کیا راہول گاندھی ان لوگوں کی حمایت کرتے ہیں؟”۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی کو اپنا موقف واضح کرنا چاہئے کہ آیا وہ ہندوستان کے اتحاد کے لئے کھڑے ہیں اور وہ ہندوستان کو تقسیم کرنے کے خواہشمند افراد کی حمایت میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔رینہ نے یہ بھی کہا کہ جب راہول گاندھی جموں و کشمیر میں داخل ہوتے ہیں، تو انہیں شیاما پرساد مکھرجی کے قدموں میں جھک کر ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ وہ پہلے اجازت نامے کے لیے درخواست دیے بغیر خطے میں داخل ہو رہے ہیں ۔