عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی //ملک کے بڑے آبی ذخائر میں پانی کی سطح تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ کئی بڑے ڈیم سنگین بحران کی حالت میں پہنچ چکے ہیں۔ ملک کے 166 بڑے ریزرو واٹر میں پانی کا ذخیرہ کم ہو کر 34.45 فیصد رہ گیا ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ 13 بڑے آبی ذخائر میں پانی کی سطح 50 فیصد سے بھی نیچے پہنچ چکی ہے، جب کہ کچھ ڈیم مکمل طور پر خشک ہو چکے ہیں۔ جنوبی اور مشرقی ہندوستان میں صورتحال سب سے زیادہ خراب ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ’ال نینو‘ کے اثر سے مانسون کمزور رہا تو آنے والے مہینوں میں پینے کا پانی، آبپاشی اور پن بجلی کی پیداوار کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔سینٹرل واٹر کمیشن (سی ڈبلیو سی) کی رپورٹ کے مطابق ملک میں اس وقت کل 63.232 ارب کیوبک میٹر (بی سی ایم) پانی دستیاب ہے۔ 30 اپریل تک ان 166 آبی ذخائر میں 71.082 بی سی ایم پانی تھا جو ان کی کل صلاحیت کا 38.72 فیصد ہے۔ اب یہ کم ہو کر 34.45 فیصد رہ گیا ہے۔ یعنی صرف 2 ہفتوں میں تقریباً 8 بی سی ایم پانی کم ہوگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تمل ناڈو، کیرالہ، کرناٹک اور تلنگانہ کے کئی آبی ذخائر میں پانی کی سطح معمول سے نصف نیچے پہنچ کی ہے۔ تمل ناڈو کے ویگئی آبی ذخیرے میں صرف 12.47 فیصد پانی بچا ہے جبکہ علیار میں 21.25 فیصد پانی ہے۔کیرالہ کے پیریار ڈیم میں 41.65 فیصد تک رہ گیا ہے۔ کرناٹک کا تتہلہ ریزروائر 26.27 فیصد اور تلنگانہ کا پریہ درشنی جورالا ڈیم 39.49 فیصد سطح پر پہنچ گیا ہے۔ مشرقی اور وسطی ہندوستان کے کئی آبی ذخائر کی صورتحال بھی تیزی سے خراب ہوئی ہے۔ بہار کے چندن ڈیم، مہاراشٹر کے بھیما اجینی اور اتر پردیش کا موداہا ریزروائر کی سطح صفر تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ آسام میں کھنڈونگ ریزرو وائر صرف 17.42 فیصد، مدھیہ پردیش کا راج گھاٹ ڈیم 35.05 فیصد، اتراکھنڈ کا ٹہری ڈیم 20.85 فیصد اور مغربی بنگال کا کانگ سباتی ریزروائر 31.50 فیصد سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اتر پردیش میں ماتاٹیلا ڈیم بھی اپنے عام ذخیرے کے 40.58 فیصد تک سمٹ گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق گنگا بیسن کا ذخیرہ بھی کم ہو کر 43.34 فیصد رہ گیا ہے۔ گوداوری بیسن میں 36.52 فیصد اور نرمدا بیسن میں 34.96 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کرشنا بیسن کی صورتحال تشویشناک ہے، جہاں صرف 19.31 فیصد پانی بچا ہے۔ شمال مشرق کی براک بیسن کی سطح 20 فیصد سے نیچے برقرار ہے۔ برہانی-بیترنی، کاویری اور مہا ندی-پنار کے درمیان مشرقی ندیوں والے بیسن بھی معمول کی سطح سے نیچے چل رہے ہیں۔