نئی دہلی // سپریم کورٹ نے ملک سے غداری کے معاملے سینئر صحافی ونود دُوا کو فوری راحت دیتے ہوئے اگلے حکم تک ان کی گرفتاری پر اتوار کو روک لگا دی لیکن ان کے خلاف ہماچل پردیش پولیس کی تفتیش کو جاری رکھا ہے ۔جسٹس ادے امیش للت، جسٹس ایم یم شانتنگودر اور جسٹس ونیت سرن کی بینچ نے خصوصی شنوائی کے دوران دُوا کی جانب سے پیش سینئر وکیل وکاس سنگھ کے دلائل سننے کے بعد مرکز اور ہماچل پردیش حکومت کو نوٹس جاری کیا۔سالسٹر جنرل تُشار مہتا نے مرکز اور ریاستی حکومت کی جانب سے دستی نوٹس قبول کیا اور انہوں نے ہفتے کے اندر حلف نامہ داخل کرنے کی اجازت طلب کی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا اس معاملے میں اگر ضروری ہوا تو اس کے بعد جوابی حلف نامے کے لیے مزید ایک ہفتہ دیا جائے گا۔بینچ نے تحریری حکم نامے میں کہا کہ دُوا کی گرفتاری پر اگلے حکم تک امتناع رہے گا لیکن انھیں تفتیش میں تعاون کرنا ہوگا۔ اس دوران ہماچل پولیس کی تفتیش جاری رہے گی۔ پولیس کو دُوا سے ان کی رہائش گاہ پر پوچھ گچھ کی اجازت ہے لیکن اس کے لیے اسے 24 گھنٹے پہلے نوٹس دینا ہوگا۔ عدالت عظمیٰ نے معاملے کی اگلی شنوائی کے لیے چھ جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے ۔بینچ نے اس معاملے میں شملہ میں ایف آئی آر درج کرنے والے شاکی کو بھی نوٹس جاری کیا جس پر معاملے کی اگلی شنوائی تک جواب طلب کیا ہے ۔ عدالت نے ہماچل پولیس کو شنوائی کی اگلی تاریخ تک تفتیش کی مکمل اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے ہماچل پولیس کی جانب سے دُوا کے خلاف تعذیرات ہند کی دفعہ 160 کے تحت جاری کی گئی ہدایت پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔شنوائی کے آغاز میں دُوا کی جانب سے پیش سنگھ نے کہا کہ ہماچل پولیس دہلی میں بیٹھی ہے اور وہ کسی بھی وقت ان کے موکل کو گرفتار کر سکتی ہے حالانکہ عدالت نے تفتیش پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔