پولیس چیف کا متاثرہ علاقہ کا ہوائی دورہ،ریسکیو آپریش تیز کرنے پر زور دیا
کشتواڑ//کشتواڑ کے ہونزڈ میں27جولائی کو رونما ہوئے دردناک واقعہ میں لاپتہ19 افراد کی تلاش چھٹے روز بھی جاری رہی تاہم آج بھی بچائوکاروائی میں لگی ٹیموں کے ہاتھ کچھ نہ لگ سکا۔کشمیر عظمیٰ کو ملی تفصیلات کے مطابق آج صبح سات بجے ایڈیشنل ایس پی کی زیرنگرانی شروع کئے گئے ریسکیو آپریشن میں این ڈی آر ایف، ایس ڈی آرایف، پولیس، فوج و مقامی لوگوں نے دن بھر ڈھونڈنے کا کام کیا لیکن باوجود اسکے انکے ہاتھ کچھ نہ لگا۔ اس واقعہ میںسات افراد کی نعشوں کونکالا گیا ہے جبکہ 19ہنوز لاپتہ ہیں جنھیں ڈھونڈنے کیلئے کام جاری ہے۔ وہیں ڈی جی پی دلباگ سنگھ نے علاقے کا ہوائی دورہ کیااور وہاں صورتحال کا جایزہ لیا ۔ کشمیر عظمیٰ کو ذرائع نے بتایا کہ خراب موسم کے سبب جہاں نیچے نہ اتر سکا جسکے بعد ڈی جی پی واپس کشتواڑلوٹے۔ڈی جی پی نے ضلع میں سیکورٹی ، امن و امان اور جرائم کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے افسران کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی پی نے لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن کو تیز کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ گائوں کے متاثرہ لوگوں کو تمام ضروری مددفراہم کریں۔ گائوں میں ہونے والے نقصان کے بارے میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے ڈی جی پی نے افسران پر زور دیا کہ انتظامیہ متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے مقامی کمیونٹی کے ارکان کو شامل کریں۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈی جی پی نے کہا کہ ہونزڈمیں سیلاب آنے کے بعد پولیس ، فوج ، ایس ڈی آر ایف ، این ڈی آر ایف اور سول انتظامیہ حرکت میں آگئی اور موقع پر پہنچ کر متاثرہ افراد کو فوری اور ضروری مدد فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ سات لاشیں نکال لی گئیں اور سترہ پھنسے ہوئے افراد کو نکال کر طبی امدار فراہم کی جارہی ہے اور مزید کہا کہ امدادی ٹیمیں باقی لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قائم لشکر طیبہ اور جیش محمد کی تنظیمیں جموں و کشمیر میں ڈرون کے ذریعے اسلحہ ، آئی ای ڈی اور منشیات بھیجنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ڈی جی پی نے کہا کہ امن کے خلاف کسی بھی سازش کو شکست دینے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں پتھرا ئو کے واقعات تقریباختم ہوچکے ہیں اور یہ نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں سے ہوا ہے بلکہ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کشمیری نوجوان اس کے پس پردہ عزائم کو سمجھ چکے ہیں۔
بادل پھٹنے کے بعد سیلابی صورتحال کا شاخسانہ
گلاب گڑھ اور کنڈالی پاڈر کے 14 خاندانوں کو لگا یہ ان کی آخری رات ہے
گھروں میں دراڑیں پڑی ہیں ، پہاڑ کھسکنے سے مکین ترک سکونت کرنے پر مجبور
سید امجد شاہ
جموں // ضلع کشتواڑ کے پاڈر کے دو گاؤں کے 14 خاندانوں کو یقین نہیں آرہا ہے کہ وہ تباہ کن بادل پھٹنے سے بچ گئے ہیں جس کی وجہ سے وہ بے گھر ہو گئے ہیں کیونکہ ان کے گھروں میں 27 جولائی اور 28 جولائی 2021 کی درمیانی رات کے دوران مٹی کے کٹاؤ کے بعد دراڑیں پڑ گئی ہیں۔اگرچہ ہونزڈ گاؤں میں ریسکیو آپریشن اب بھی بادل پھٹنے کے بعد 19 لاپتہ افراد کا سراغ لگانے کے لیے جاری ہے ، کشتواڑ کے دیگر دیہاتوں کے ہولناک حساب نے بہت سے لوگوں کو بے گھر کر دیا ہے۔امر سنگھ ، سرپنچ پنچایت گلاب گڑھ ان متاثرین میں سے ایک ہیں جن کے مکان کو بادل پھٹنے کے بعد پھسلنے کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے جس نے بڑے سیلاب اور مٹی کے کٹاؤ کو جنم دیا ہے جس سے ان کا گاؤں غیر محفوظ ہے۔صدیوں سے وہاں اپنے خاندان کے ساتھ رہ رہے سنگھ گلاب گڑھ میں خوشگوار زندگی گزار رہے تھے جب بد قسمت بادل پھٹ گئے اور تمام دیہاتی اپنی جانوں کے لیے بھاگ گئے۔امر سنگھ نے پاڈر سے فون پر بات کرتے ہوئے یاد کیا "ہم نے اس رات کے دوران اپنے گھروں کو چھوڑ دیا اور اس خوف سے پہاڑوں میں پناہ لی کہ یہ ہماری زندگی کا آخری دن ہے کیونکہ ہم سب مرنے والے ہیں۔"انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین تھا کہ ہم اگلی صبح ایک دوسرے کو نہیں دیکھیں گے۔ جب پالالی گڑھ کے پہاڑوں پر بادل پھٹ گیا تو میکال سے گلاب گڑھ تک سینکڑوں دیہاتی کھانا کھائے بغیر یا گھروں کو تالے لگائے بغیر چلے گئے۔انہوں نے کہا: "بادل پھٹنے سے آنے والا فلیش فلڈپہاڑوں میں پھنس گیا۔ اس رات گلاب گڑھ اور اس کے آس پاس کے دیہاتی خوفناک آوازوں سے خوفزدہ تھے جیسے یہ جہنم سے آرہی تھیں۔ اور اچانک سیلاب نے اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو بہا دیا۔گاؤں نے مٹی کے کٹاؤ سے ناقابل تلافی نقصان دیکھا اور ہمارے گھروں میں دراڑیں پڑ گئیں۔ وہ رہنے کے لیے غیر محفوظ ہوچکے ہیں اس لیے انتظامیہ نے ہمیں سرائے اور دیگر محفوظ مقامات پر منتقل کردیا ہے ۔ سرپنچ نے دعویٰ کیا کہ وہ خود اپنا گھر کھو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے گلاب گڑھ کے ارد گرد حفاظتی کنکریٹ کی دیوار بنانے اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔اس نے گلاب گڑھ کے 10 بے گھر خاندانوں کی شناخت کی یعنی یوگراج ولد لال چند ، امر ناتھ ولد منگل سان ، کرشن لال ولد ناتھ رام ، ہنس راج ولد رویل سنگھ ، پریم سنگھ ولد ناتھ رام ، امر سنگھ ولد ناتھ رام رام ، بھیم سنگھ ولد لسا رام ، بنسی لال ولد امر چند ، ونود کمار ولد ناتھ رام ، بھرت سنگھ ولد نند لال ، پہاول سنگھ ولد ناتھ رام ، رادھا کرشن ولد لال چندکے طور کی ہے۔کشتواڑ کے کنڈالی گاؤں کے کئی بے گھر خاندان یعنی پریم لال ، ہری سرن ، تارا مانی ، بنسی لال ، اور رام سنگھ ، جو پالالی پنچایت کے کنڈالی کے رہنے والے ہیں۔ وہ بھی اپنے گھروں سے محروم ہو گئے ہیں کیونکہ ان کے گھروں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔
۔2004 میں آگ نے گائوں تباہ کیا ، رہی کسر بادل پھٹنے سے پوری ہوئی
سیلاب متاثرہ ہونزڈ کی عوام انتظامیہ سے کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کی فریادی
عاصف بٹ
کشتواڑ//27جولائی کی شام کشتواڑضلع ہیڈکوارٹر سے ستر کلومیٹر دور علاقہ دچھن کے ہونزڈ گائوں میں بادل پھٹنے کے واقعے میں قریب 26 افراد کی جانیں چلی گئیں جن میں سات افراد کی نعشوں کو برآمد کیا گیا لیکن دیگر ہنوز لاپتہ ہیںجبکہ بچاو کاروائیاں ہنوزجاری ہیں۔کشمیر عظمیٰ کو مقامی لوگوں نے بتایا کہ علاقہ دچھن میں پہلی بار اس طرح کا واقعہ رونما ہوا ہے جہاں اگرچہ اسے قبل اسی علاقہ میں 2004میں آگ کی ہولناک واردات میں پورا گائوں جل گیا تھاجسکے بعد مقامی لوگوں نے گائوں کے لوگوں کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کی مانگ کی تھی لیکن اس وقت انکی بات پر کوئی دھیان نہیں دیا گیا ۔اُس وقت اگرچہ مالی نقصان ہو تھا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا لیکن اس بار علاقہ میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے اور ہر طرف چیخ و پکار سنائی دے رہی ہے۔ اگر اس وقت انتظامیہ نے انکی بات کو سنا ہوتا اور انھیں کسی دوسری جگہ منتقل کیا ہوتا تو اسوقت اتنا جانی نقصان نہ ہوا ہوتا۔ ستر سالہ بزرگ شخص محمد رحمان نے بتایا کہ جہاں اسی نالے میں چالیس سال قبل سیلاب آیا تھا اور زرعی زمین کو نقصان پہنچا تھا لیکن اس وقت بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ اپنی زندگی میں پہلی بار اس طرح کا قہر دیکھا ہے اور اپنی آنکھوں کے سامنے نوجوانوں کو کھودیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ اب اپنے آپکو غیر محفوظ تصور کررہے ہیںاورانکی راتوں کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں۔محمدعباس نے کشمیر عظمیٰ کو روتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے اس سے قبل بھی کسی دوسری جگہ منتقلی کی مانگ کی تھی ،اگر انتظامیہ علاقے کی عوام کی پرواہ کرتی ہے اور انھیں بچانا چاہتی ہے تو انھیں کسی دوسری جگہ منتقل کیا جائے جہاں انتظامیہ کو بہتر لگے گا۔انھوں نے بتایا کہ علاقہ میں جگہ کی کمی کے سبب لوگوں نے نالے کے بالکل قریب مکانات تعمیر کئے تھے اور جو مکانات بچ گئے ہیں انکے نیچے بھی پانی ہے، اگرمزید بارشیں ہوئیں تو انھیں بھی خطرہ لاحق ہے۔انھوں نے لیفٹنٹ گورنر و ضلع انتظامیہ سے اپیل کی کہ اگر انھیں بچانا ہے تو انھیں جلد از جلد کسی دوسری جگہ منتقل کیا جائے تاکہ وہ اپنے اپ کو محفوظ سمجھ سکیں۔