مرادآباد// ہماچل پردیش کے شملہ میں کھدائی کے دوران برآمد 698 مغل دورکے چاندی کے سکوں کی تقسیم پر اتر پردیش کے مراد آباد میں ٹھیکیدار اور مزدوروں کے درمیان تنازعہ ہونے پر پولیس نے تمام سکوں کو اپنے قبضہ میں لے لیا ۔عربی-فارسی زبان والے یہ سکے 400 سے 500 سالہ قدیم مانے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ سکے مغل دور کے ہو سکتے ہیں۔پولیس ذرائع نے یہاں بتایا کہ ضلع مجسٹریٹ کے ذریعے محکمہ آثار قدیمہ کو بھی مطلع کر دیاگیا ہے ۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہماچل پردیش میں ایک جگہ مرادآباد کے مزدور کھدائی کر رہے تھے ۔ جہاں پر ایک صندوق میں بند یہ خزانہ ملا۔ بعد میں مزدوروں اور ٹھیکیدار گلاب نبی کے درمیان خزانے کی تقسیم پر تنازعہ ہو گیا تھا، جس کی شکایت کرنے کے بعد پولیس نے ان سکوں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے ۔اس دوران مرادآباد کے مونڈھاپانڈے علاقے کے باربالا خاص گاؤں کے رہنے والے مہندر نے بتایا کہ وہ گاؤں کے کچھ مزدوروں کے ساتھ گلاب نبی ٹھیکیدارکے کام کروانے شملہ لے کر گیا تھا۔ وہا ں کھدائی کرتے وقت کچھ آواز ہونے پر ٹھیکیدار کو بتایا گیا تو اس نے جے سی بی لگوا کر کھدائی کروائیاس کے بعد گلاب نبی سے بڑے ٹھیکیدار بھی وہاں آ گئے اور ایک بہت بڑے لوہے کے ایک بڑے صندوق میں یہ چاندی کے سکے ملے تھے . جن کوبوریوں میں بھر لیا گیا اور ایک بورا اسے دیا باقی چاندی کے سکے گلاب نبی اپنی گاڑی میں رکھ کر سکوں کے ساتھ واپس مرادآباد اپنے گاؤں آ گیا۔ ٹھیکیدار نے گاؤں آکر سکوں کو آپس میں بانٹنے کی بات کہی تھی، لیکن ٹھیکیدار کی سکوں پر نیت خراب ہو گئی اور تمام سکے اپنے پاس رکھ لئے ۔اس نے مزدوروں کو کسی کو بتانے پر انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ سکوں کے وزن 40 سے 50 کلو گرام کے درمیان ہے ، جس کی شکایت مزدوروں نے اپنے گاؤں کے پردھان سے کی۔انہوں نے بتایا کہ پولیس نے اس معاملہ پر کارروائی کرتے ہوئے ٹھیکیدار گلاب نبی سے سکے برآمد کر لئے ۔ شملہ میں کھدائی کے وقت ملے سکے تقریبا 450 سال پرانے ہیں۔ ایک سکے پر‘ اکبر محمد جلالدین’ لکھا ہوا ہے . کچھ سکوں پر‘ کلمہ’ لکھا ہوا ہے ۔ بادشاہ محمد اکبر جلال الدین صاف سمجھ میں آ رہا ہے ۔ کل 698 سکے پولیس نے گلاب نبی ٹھیکیدار سے برآمد کر لئے ہیں. محکمہ آژار قدیمہ بھی ان کی سکوں کی جانچ کر رہا ہے ۔یو این آئی