عدنان ابن بشیر
بلا شبہ ہم اپنے آپ کو کلمہ گو کہتے ہیں ،اسلئے کہ ہم مسلمان گھروں سے تعلق رکھتے ہیںاور مسلمان گھروں میں ہی جنم لیا ہے، جس کی بدولت ہمیں مسلمان ہونے کا نام دیا گیا ہے۔ظاہر ہے ہمیں مسلمان بننے میں اُس کشمکش سے گزرنا نہیں پڑا اور نہ ہی اُن شدید دشواریوں اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا، جو کسی غیر مسلم کو اسلام قبول کرنے یا مسلمان بننے سے پہلےبرداشت کرنا پڑتا ہے۔کسی غیر مسلم کو اسلام میں داخل ہوکر مشرف بہ اسلام ہونے کے لئے جہاں اپنے گھر والوں ،رشتہ داروں اور اپنے معاشرے کی ناراضگی جھیلنی پڑتی ہے وہیں مختلف قسم کی باتیں ،طعنے سُننے کے ساتھ ساتھ رشتے اور تعلقات تک توڑنے پڑتے ہیں۔ شائدیہی وجہ ہے کہ ہر نو مسلم دین ِ اسلام کی حقانیت کی قدرو حفاظت کرنے میں کوئی لغزش نہیں کرتا ہے اوراسے دل و جان سے عزیز رکھتا ہے۔اور ہم ہیں کہ جو ببانگ دہل کھلے عام اپنے آپ کو کلمہ گو کہتے پھرتے رہتے ہیں، اس دین ِحق(ا سلام) کی بے قدری کرتے چلے جارہے ہیں۔بحیثیت کلمہ گو مسلمان ہمیں اسلام نے کیا کچھ نہیں دیا ہے،دنیا و آخرت کا ہر پہلو بتایا ہے، زندگی گذارنے کا ہر بہتر اور افضل طریقہ دکھایا اور سکھایا ہے۔اس عارضی دنیا میں کیا کرنا ہے، کیسے رہنا ہے، دوسروں کے ساتھ کس طرح پیش آنا ہے، اپنے والدین کے ساتھ کیسا سلوک کرنا ہے،بچوں کی پرورش کیسے اور کس طرح کرنا ہے،میاں بیوی کو ایک دوسرے کے ساتھ کیسے رہنا ہے،غرض کہ نہ صرف انسانی رشتےکے تعلق اور حقوق کی ادائیگی کے متعلق تمام طور طریقوں سے روشناس کرایا ہے بلکہ دوسرے جاندارمخلوق کے ساتھ پیش آنے کا طریقہ و سلیقہ بھی سکھایا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہم زیادہ تروہ سب کچھ کرتے رہتے ہیں، جسے اسلام نے ہمیں نہ کرنے کے لئے کہا ہے۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ ، جس کی روایت عبدالله بن عمرو بن العاصؓ کرتے ہیں کہ اللہ کے پیارے محبوب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واالہ وسلم نے فرمایا کہ’’ وہ شخص کامیاب ہوگیا، جس نے اسلام قبول کیا‘‘۔ یہ بات اللہ کے محبوب حضرت محمدؐ نے فرمائی ہے،جو نعوذ باللہ ہرگز جھوٹی نہیں ہوسکتی۔ پھر اگر ہم دیکھیں کہ ہم بھی تو مسلمان ہیں، ہم بھی تو یہ ماننے والےہیں کہ اللہ ایک ہے، اس کا رسول حضرت محمدؐ آخری پیغمبر ہے اور اللہ کا کلام ’قرآن‘ ہے۔اس سب کچھ کا اقرار کرنے کے باوجود ہم کامیاب کیوں نہیں ہیں؟
تو واضح ہوجائے گا کہ ہمارایہ اقرار محض زبانی ہے قلبی نہیں۔ ہم نے تو یہ بول دیا کہ اللہ لا شریک ہے،لیکن پھر بھی دانستہ یا غیر دانستہ کئی شخصیات کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ ہم نے زبان سے نبی آخر الزماںؐکو بھی تسلیم کیاہے اور اپنے آپ کونبی اکرم ؐ کا اُمّتی بھی بتایالیکن آپؐ کی اطاعت سے محروم ہیں۔اسی طرح اللہ کے کلام قرآن کو بھی تسلیم کیا ہے،لیکن قرآن کو پڑھنے کی کوشش تک نہیں کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہم اس دور میں ہر سطح پر اور ہر معاملے میں ناکام ثابت ہورہے ہیں۔اور اسی وجہ سے ہر جگہ مسلمانوں پر ہی ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ جس کی ہمیں اطاعت کرنی تھی، جس کے راستے پہ ہمیں ثابت قدم رہنا تھا اور جس کو ہمیں نہ صرف زبان سے بلکہ دل سے بھی قبول کرنا تھا، ہم وہ نہیں کر پاتے،بلکہ گمراہ بن کر ہم نے اسلامی تہذیب کو بالائے طاق رکھ کر کو مغربی تہذیب کے دلدادہ بن گئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ہماری دنیا کے ساتھ ساتھ ہماریآخرت بھی بُرباد ہورہی ہے۔
جب ہم مسلم معاشرے پر نظر ڈالتے ہیںتو بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ہم کس طرف جا رہےہیں۔ہم نے کون سا رویہ اپنالیا ہے،کون سا طرزِ عمل اختیار کیا ہے۔ مسلمان لڑکوں اور لڑکیوں نے اپنے دل و دماغ میں مغربی تہذیب کو بسا لیا ہے۔ غیر مسلموںکا رویہ اختیار کر بیٹھے ہیں۔کئی مسلمان لڑکیاں اُس اسلام سے بھاگ رہی ہیں، جس اسلام نے اُسے چودہ سو سال قبل زندہ دفن ہونے سے بچایا ہے۔ہماری نوجوان نسل نے تواب جن کو اپنا آئیڈیل بنایاہے، وہ یاتو فلمی کلاکار ہیں یا کوئی کھلاڑی۔ افسوس صد افسوس! ہم اس سرورِ کائنات حضرت محمد صلی الہ علیہ وآلہ وسلم کو بھول گئے ہیں جو ہمارے لئے راتوں کو اشک بہاتے رہتے تھے اور اللہ سے بار بار التجا کرتے رہتے’’اللهم اغفرلي اُمتى ،اللهم اغفرلي اُمتى ‘‘۔اپنے نبی رحمت ؐ کی تعلیمات اور احکامات سے منہ موڑکر ہم اپنی زبان سے اپنے آپ کو کلمہ گو اور اُمتِ محمدیؐ کہتے ہیں،اور ہر معاملے میں پشیمان اور ناکام ونامرادہوجاتے ہیں۔ظاہر ہے نہ تو ہم فرمانِ ربّ العزت مانتے ہیں اور نہ ہے اظاعت رسول اللہ ؐ کرتے ہیں،محض نام کے مسلمان رہ گئے ہیں۔ حق کا راستہ چھوڑ کرہم گمراہی کی طرف بڑھ رہے ہیں،اور اتنے بے حِس ہوچکے ہیں کہ صحیح اور غلط تک کی تمیز نہیں کرپارہے ہیں۔سرسری نظر ڈالیں توآج کے مسلم معاشروں میں والدین اپنی اولاد کو دینی تعلیم سے محروم رکھ کر وہ تعلیم دے رہے ہیں، جو کہ دُنیوی اعتبار سے ضروری ہے لیکن دینی اعتبار سے زیادہ ضروری نہیں۔دورِ حاضر کے والدین تو خود اپنے بچوں کو اُس تہذیب میں ڈال رہےہیں جہاں گمراہی کے سوا اُنہیں کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ جہاں روشنی نہیں اندھیرا ہی اندھیرا ہے ۔جتنے شرمناک واقعات آج کل رونما ہوتے ہیں ،اُس کا سبب یہی تہذیبی یلغار ہے۔
ہمارے بچے “drug addict”ہورہے ہیں۔ مختلف سڑکوں کے نوجوان لڑکے فُٹ پاتھوں پر نشے میں دَت پڑے ہوتےہیں۔ کیا وہ کہنے کو کلمہ گو نہیں ، کیا اُن کے والدین نام کے مسلمان نہیں؟اور بھی ایسے کئ واقات سامنے آرہےہیںکہ مختلف علاقوں سے جو طلبا و طالبات شہر میں تعلیم کے حصول سے آرہے ہیں ،اُن میں سے ایک خاصی تعداد منشیات کے عادی بن چکی ہے ،بے حیائی اور بے شرمی کی حدیں پار کرکے خود راہ ہوچکی ہے۔ جس کے نتیجے میںوقفہ وقفہ کے بعد ہسپتالوں کے وارڈوں کی زینت بن رہی ہے۔ اسی طرح کی صورت حال خود کشی کی وارداتوں میں بھی پائی جاتی ہے ۔جہاں منشیات کے استعمال بڑھتا ہوا رُجحان تشویش ناک بنتا جارہا ہے وہیں خود کشیوں کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ میرے خیال کے مطابق ان دونوں معاملات میں اس ساری صورت حال کا اصل سبب والدین کی اپنی اولاد کے تئیں حد سے زیادہ بے حِسی اور غیر ذمہ داری ہے۔اور اگر یوں کہا جائے ،اولاد کو بگاڑنے ،اور بے راہ رَو بنانے میں اُن کے والدین کا ہی ہاتھ ہوتا ہے تو بے جا نہ ہوگا ۔
آخر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آج کے دور کی بات کرے تو ہم مغرب کی غلامی کا پٹہ اپنے گلے میں ڈالے ہوئے ہیں، ہمارا معاشرہ مغرب کا فطری غلام بن کر رہ گیا ہے، جس سے ہم تبھی نجات حاصل کر سکتےہیں جب ہم اللہ کے دین کو مضبوطی سے پکڑ کر رکھیں گے،اسلام کا پٹہ اپنے گلے میں ڈالیں گے اور اللہ کے رسول ؐ کی تعلیمات پر مکمل عمل کریں گے ۔ہاں!والدین پر لازم ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سب سے پہلے دینی تعلیم سے آراستہ کریں،اُس کے بعد دُنیوی تعلیم سے بھی سنواریں، تب جاکے سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں سیدھے راستے پہ چلنے کی توفیق دے۔ آمین ثم آمین
[email protected]