جموں//پاکستان سے آئے رفیوجیوں نے وزیر اعظم کے پیکیج کی عمل آور میں ہونے والی تاخیر پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں اس پیکیج کے تحت ملنے والے معاﺅضہ کی جلد از جلد ادائیگی کی راہ ہموار کی جائے۔ جمعرات کو یہاں انتظامیہ مخالف احتجاج کے دوران انہوں نے حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ طبقہ 1947کے بعد 1965اور1971کی جنگوں کے درمیان بری طرح سے تباہ ہو گیا۔ طویل جدوجہد کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کے لئے 2000کروڑ روپے کے پیکیج کو منظوری دی لیکن اس کی عمل آوری سست روی کا شکار ہو گئی ہے اور متاثرین کی نشاندہی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ کنبوں کے پاس دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اپنے آپ کو رفیوجی ثابت کرنے میں دقت پیش آ رہی ہے ۔ انہوں نے پی آر سی کا عمل آسان بنانے کے علاوہ شناختی کارڈ دئیے جانے، نوکریوں اور تعلیم میں ریزرویشن،12اسمبلی حلقے مختص کرنے، بیرون ریاست مقیم رفیوجیوں کو بھی معاﺅضہ کی ادائیگی ، زمینوں کے مالکانہ حقوق دینے، ریونیو ریکارڈ محفوظ رکھنے اور ان تمام رفیوجیوں کو بھی پیکیج کے دائرہ میں لانے کی مانگ کی جو کوئی بھی دستاویز پیش نہیں کرسکتے ہیں۔