محمد شمیم احمد نوری مصباحی
حدیث شریف میں ہے کہ ’’لوگوں میں بہتر وہ ہے جو لوگوں کو فائدہ پہنچائے‘‘۔ اور ’’دین ہر مسلمان بھائی کے ساتھ بھلائی اور خیر خواہی کا نام ہے‘‘۔ لہٰذا ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کی نفع رسانی و خیر خواہی کے لیے کمر بستہ اور تیار رہنا چاہئے، معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہئے۔ اس سلسلے میں ہمارے علمائے کرام، قائدین دین و ملت موثر رول اور کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ویسے اگر معاشرے کا ہر فرد اپنی ذمہ داری کا احساس کرکے خود اوامر پر عمل پیرا اور منہیات سے پرہیز کرنے کے ساتھ لوگوں کی اصلاح کی ذمہ داری باقاعدہ نبھائے تو معاشرہ ہر طرح کی برائیوں سے محفوظ و مامون ہو جائے گا اور اگر ہمارے اور آپ کے اندر احساس ذمہ داری نہیں ہے تو اس بارے میں ہم سے مواخذہ ہوگا، جیسا کہ حدیث رسول کا مفہوم ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا، امام نگراں ہے اور اس سے اس کی رعایا (ماتحت) کے بارے میں باز پرس (پوچھ تاچھ) ہوگی، آدمی اپنے گھر کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا (گھر والوں) کے بارے میں پوچھ گچھ ہو گی اور عورت اپنے شوہر کے گھر کی ذمہ دار ہے، اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا،خادم اپنے آقا(مالک) کے مال کا نگراں ہے ،اس سے اس کی نگرانی کے بارے میں پوچھا جائےگا، پس تم میں سے ہر ایک نگراں اور ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا۔‘‘ (متفق علیہ)
اس حدیث پاک میں اللّٰہ کے رسول صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم نے امت کے ہر شخص کو اپنے اپنے فرائض کی ذمہ داری کا احساس دلایا ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی فرمایا کہ جو اپنی ذمہ داریوں کے تئیں غفلت و لاپرواہی کرے گا ،وہ قیامت کے دن بارگاہ الٰہی میں جوابدہ ہوگا۔ اور جو ان ذمہ داریوں کی ادائیگی میں حساس اور کوشاں ہوں گے، انہیں دوسری حدیثوں میں اللّٰہ کے رسول صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم نے دخولِ جنت اور ابدی سعادت کی بشارت وخوشخبری بھی دی ہے۔
مذہب اسلام نے اپنے ماننے والوں کو ایک مکمل دستور حیات عطا کیا ہے، جس پر عمل پیرا ہو کر زندگی گزارنے والا مسلمان زندگی کے ہر شعبے میں کامیاب و کامران اور دنیا و آخرت کی سعادتوں کا حقدار ہوتا ہے۔اسلامی نظام زندگی کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں انسانی زندگی کے ہر گوشے اور انسانوں کے ہر طبقے کے لیے واضح ہدایات موجود ہیں۔ کھانے پینے، سونے جاگنے، اٹھنے بیٹھنے اور شادی بیاہ،تجارت و معیشت وغیرہ ہر طرح کے معاملات کے لیے دفعات و قوانین متعیّن ہیں۔ گویا انسانی ضرورتوں کا کوئی گوشہ ایسا نہیں، جس کے بارے میں اسلام نے کوئی رہنمائی نہ کی ہو۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان اسلام سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ آمادہ ہو اور اپنا تعلق اپنے حقیقی خالق و مالک سے جوڑے اور اپنی ہر خواہش رب تبارک و تعالیٰ کے حکم کے سامنے قربان کر دے۔
ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اسلامی دستور حیات کا عملی نمونہ ہمارے لئے حضور نبی اکرم صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم کی حیات طیبہ اور آپ کا اسوۂ حسنہ ہے، صحابۂ کرام،تابعین عظام اور سلف وخلف نے سرکار دوعالم صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم کی سیرت طیبہ کو اپنے لیے آئیڈیل بنایا تو وہ زندگی کے ہر موڑ پر کامیاب و کامران رہے۔آج اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں تو ہمارا معاشرہ اسلامی طرز زندگی سے کوسوں دور نظر آتا ہے، اسلامی احکام و قوانین کا کوئی پاس ولحاظ نہیں، اور نہ ہی اپنے آقا و مولیٰ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم کی سیرت طیبہ کو زندگی کا نمونہ بنانے میں کوئی دلچسپی ہے۔ گویا شرمِ نبی اور خوفِ خدا دونوں ہم سے رخصت ہو چکا ہے۔ آج ہمارے معاشرے کی یہ بدلی ہوئی حالت کیوں ہے؟ ہمارے گھر کا ماحول غیر اسلامی کیوں ہے؟ ہمارے خاندان کا شیرازہ کیوں بکھر رہا ہے؟اور ہمارا معاشرہ اصلاح کی شاہراہ پر کیوں نہیں چل رہا ہے؟ اس کی وجہ صرف اور صرف دین اسلام سے دوری اور اصلاح معاشرہ کے پیغمبرانہ اصولوں سے انحراف اور بیزاری ہے۔اصلاح معاشرہ کے لئے ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم کی حیات طیبہ کا مطالعہ کریں اور ان کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کریں۔
اصلاح معاشرہ کے سلسلے میں حضور نبی اکرم صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم نے دو بنیادی اصولوں پر عمل فرمایا: ایک تو یہ کہ آپ نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی جس پر آپ خود عمل نہ فرماتے ہوں، آپ کے قول اور فعل میں تضاد نہ تھا، جو فرماتے تھے خود اس پر عمل فرماتے تھے، اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اصلاح معاشرہ کی کوئی بھی کوشش اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی، جب تک اصلاح کرنے والا خود اس پر عمل نہ کرتا ہو، یہی وجہ ہے کہ حضورنبی اکرم صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم سے پہلے اور بعد بہت سے فلاسفہ اور حکما ومصلحین ایسے بھی گزرے جو وعظ و نصیحت کرتے رہے اور انہوں نے فلسفہ اور عقل و دانائی کی بنیاد پر اپنا لوہا منوایا، لیکن معاشرے پر ان کا کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔ ایسا صرف اس لئے ہوا کہ وہ دوسروں کو تو روشنی دکھاتے رہے، لیکن خود تاریکی سے باہر نہیں آئے، وہ لوگوں کو رحم و محبت کا سبق پڑھاتے رہے لیکن خود غریبوں کو ستاتے رہے۔
اصلاح معاشرہ میں آپ کا دوسرا بنیادی اصول جھوٹ سے پرہیز کرتے ہوئے سچائی اور حق کے راستہ پر چلنا تھا۔ آپ ہمیشہ اپنے ماننے والوں کو جھوٹ سے بچنے کی تلقین فرماتے رہے اور خود بھی اپنی زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا اور اپنے صحابہ کو بھی اس رزیل ترین فعل سے پرہیز کرنے کی تاکید فرماتے رہے۔ حضور نبی کریم صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم کا یہ وصف اس قدر نمایاں تھا کہ کفار و مشرکین بھی آپ کو صادق اور امین مانتے تھے۔ جھوٹ معاشرے کے بگاڑ کی ایک اہم ترین برائی ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلام میں لعنت کے مستحقین میں جھوٹے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
اصلاح معاشرہ کے سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر شخص پر خود اپنی اصلاح و سدھار کی ذمہ داری ہے، اگر معاشرے کا ہر شخص اس ذمہ داری کو محسوس کر لے اور اس کی ادائیگی کی فکر کرے تو معاشرے کی اصلاح اپنے آپ ہو جائے گی، کسی دوسرے کو تکلیف اٹھانے کی ضرورت ہی نہیں پیش آئے گی، اصل خرابی یہ ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری کے احساس سے بالکل خالی ہوچکے ہیں اور محض دوسروں کی اصلاح کی فکر میں رہتے ہیں، دوسروں کی اصلاح بھی یقیناً ایک اچھی بات ہے مگر اس سے پہلے خود کی اصلاح ضروری ہے، اس لیے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے انسان سے خود کی ذات کے متعلق سوال ہوگا، کسی دوسرے کے متعلق سوال کا مرحلہ بعد میں آئے گا۔ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سرکار دو عالم صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: کہ قیامت کے دن آدمی کے پاؤں اس وقت تک اپنی جگہ سے نہ ہٹ سکیں گے جب تک اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے گا۔
(1) اس کی عمر کے بارے میں کہ زندگی کے ماہ وسال اور اوقات کہاں گزارے؟(2) جوانی کے بارے میں کہ جوانی کس چیز میں کھوئی؟(3) مال کے سلسلے میں کہ مال کہاں سے کمایا؟(4) اور یہ کہ وہ مال کہاں خرچ کیا؟(5) اور یہ کہ جو باتیں وہ جانتا تھا ان پر کتنا عمل کیا؟ [ترمذی ج/2 ص/67]۔۔۔(جاری)۔۔۔۔