جموں//عام آدمی پارٹی کے ریاستی ترجمان پرتاپ جموال نے منگل کو جموں کے مصنوعی جھیل پروجیکٹ کی تکمیل میں تاخیر کی تحقیقات کا مطالبہ کیا جس میں چھ ڈیڈ لائنس چھوٹ چکی ہیں اور لاگت میں تیزی سے اضافہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور بتایا کہ اس کے بعد بھی یہ باوقار پروجیکٹ زمین پر کہیں نہیں ہے۔ پرتاپ جموال نے کہا کہ جموں کی مصنوعی جھیل اور اس سے منسلک پروجیکٹ ایک باوقار پروجیکٹ ہے جو ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل شروع کیا گیا تھا اور بی جے پی نے بار بار اس پروجیکٹ پر کام میں تیزی لانے کا سہرا لیا تھا جو کہ ابھی مکمل ہونا باقی ہے۔پرتاپ نے کہا اگر آپ پروجیکٹ کی تفصیلات پر غور کریں تو یہ بات سامنے آئے گی کہ پروجیکٹ کی ڈیڈ لائن چھ بار چھوٹ چکی ہے جو کہ آنے والی حکومتوں اور بی جے پی کی اپنے آپ میں انوکھی ناکامی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پروجیکٹ 2009 میں کانگریس۔این سی حکومت نے شروع کیا تھا بہت سی ڈیڈ لائنوں کے چھوٹنے اور تاخیر کے چلتے 2018 میں اس پروجیکٹ کا کام رک گیا۔ریاستی حکومت نے گزشتہ ایک دہائی میں اس پروجیکٹ پر 58 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے ہیں، اس کی سنگ بنیاد اس وقت کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے 5 دسمبر 2009 کو رکھی تھی تب سے 2012، 2013، 2015، 2016، 2017 اور 2018 میں ڈیڈ لائنس چھوٹی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کی لاگت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو مزید ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کی جانب سے مناسب فنڈنگ کے خدشات کے باوجود منصوبہ مکمل نہیں ہو رہا جس سے لاگت میں بھی اضافہ ہوا۔پرتاپ نے اس معاملے پر بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مصنوعی جھیل کا منصوبہ جموں کے لیے ایک باوقار منصوبہ ہے کیونکہ یہ شہر کو ایک نئی شکل دے گا اور خوبصورتی میں اہم کردار ادا کرے گا اور بی جے پی نے اس منصوبے کی تکمیل کے بڑے بڑے دعوے کیے ہیں۔جموال نے کہا کہ بی جے پی کی ناکامی اس چیز سے صاف ظاہر ہوتی ہے کہ جموں و کشمیر ریاست کے ساتھ ساتھ مرکز میں بھی پارٹی کی حکومت ہونے کے بعد بھی وہ اس پروجیکٹ کو مکمل کرنے میں ناکام رہی اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی لیڈروں کے نعرے اور بیانات محض نظریاتی نظام پر ہیں جس کی کوئی عملییت بنیاد نہیں ہے۔منصوبے کی تکمیل میں طویل تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جموال نے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ منصوبے کی تکمیل میں تاخیر کے لیے ایگزیکیوشن ایجنسی اور ٹھیکیدار پر ذمہ داریاں عائد کی جائیں۔انہوں نے جموں وکشمیر ایل جی انتظامیہ پر جموں کے باوقار پروجیکٹ کی کوئی پرواہ نہ کرنے اور محض جعلی نعروں اور دعووں پر قائم رہنے اور پروجیکٹوں کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑنے پر مزید سخت تنقید کی۔جموال نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر ایل جی انتظامیہ فرضی تشہیر پر یقین رکھتی ہے اور جگہ جگہ ہورڈنگز لگائے جاتے ہیں لیکن زمین پر کام کہیں نہیں ہوتے اور حالات کی افسوسناک صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہزاروں سرکاری ملازمین حکومت کے خلاف سڑکوں پر ہیں۔