پونچھ//مرکزی جامع مسجدپونچھ کے خطیب مولانا مفتی فاروق حسین مصباحی نے مُسلم پرسنل لاء میں مرکزی حکومت کی جانب سے مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے کہااکہ اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے جس کے اصول و ضوابط خدائے قدوس کے نازل کردہ ہیں۔ یہاں جاری بیان کے مطابق پونچھ میں نماز جمعہ کے دوران خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ اسلامی قوانین انسانیت کی فلاح و بقاء اور تعمیر و ترقی کے ضامن ہیں جبکہ اِن سے انحراف میں ذلت و رُسوائی کے علاوہ کُچھ نہیں۔ مولانا نے کہا کہ اسلام کا نظامِ نکاح و طلاق فطرت کے عین مطابق اور نہایت سادہ ہے جس میں انسانیت کی کامیابی پوشیدہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ تعدادِ ازدواج میں بے شُمار حکمتیں مضمر ہیں جو اہلِ ہوش و خِرد بخوبی جانتے ہیں۔ مصباحی نے کہا کہ نکاح میں زیادہ اختیار عورت کو ہے اور وہ جتنا مہر چاہے اُس کا مطالبہ کر سکتی ہے اور مرد پر نان و نفقہ کی مُکمل ذمہ داری ہے۔ موصوف نے کہا کہ خُدائے قُدوس نے طلاق کا مُکمل اختیار مرد کو دیا ہے اس لئے کہ مرد کو دور اندیشی اور صبر و ضبط مرد میں ہے وہ عورت میں نہیں اور پھر طلاق سے پہلے اسلام نے اپنے ماننے والوں کو کُچھ اصول و ضوابط بھی سکھائے ہیں۔ موصوف نے مُلک کی سُپریم کورٹ کے موجودہ فیصلے پر اپنا ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کورٹ کے فیصلے میں تضاد ہے، ایک طرف تو یہ کہا گیا ہے کہ مُسلم پرسنل لاء میں مداخلت نہ کی جائے اور وہیں دوسری طرف طلاق پر حُکم ِ امتناعی لگاتے ہوئے سرکار کو حُکم دیا گیا ہے کہ چھ ماہ کے اندر اس تعلق سے قانون بنایا جائے۔ مولانا نے کہا کہ یہ واضح طور پر مُسلم پرسنل لاء میں مداخلت ہے جسے کسی صورت برداشت نہ کیا جائے گا۔ موصوف نے کہا مرکزی حکومت اپنی ناکامیوں کا چُھپانے کے لئے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال میں لا کر مُلک کے امن و قانون کو خراب کرنے کا کام کر رہی ہے اورہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت فلاح و ترقی کے اپنے تمام وعدوں کو نبھانے میں مُکمل طور ناکام ہو چُکی ہے جس کی وجہ سے وہ ایک قوم کی توجہ اپنی جانب مرکوز کراکر اپنے ووٹ بینک کو بڑھاوا دینا چاہتی ہے۔ مولانا نے کہا کہ اسی خاطر مرکزی حکومت کبھی رام مندر کی تعمیر، کبھی طلاقِ ثلاثہ ، کبھی یکساں سول کوڈ اور کبھی گائے رکشا کو مُدعا بنا کر 2019 ء کے الیکشن کی راہ ہموار کر رہی ہے جس کے لئے اُسے ہر گز کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ مفتی موصوف نے مرکزی حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو پونچھ کے مُسلم عوام اس سے بڑی تعداد میں سڑکوں پر اُتر کر احتجاج کریں گے۔