لمحہ ٔ فکریہ
سید سرفراز احمد
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ اس روئے زمین پر ایک مسلمان کے نزدیک اللہ اور اس کے رسولؐ کی محبت و مرتبہ کے بعد والدین اس کے لئے سب سے عزیز ہوتے ہیں۔لیکن بنیادی طور پر یہ تقاضا تب ہی مکمل ہوسکتا ہے جب تک وہ اپنے سے زیادہ ان کو عزیز نہ جانیں۔ یہ بات بھی درست ہے کہ والدین سے محبت اور مرتبہ صرف قول سے نہیں بلکہ عمل سے کر دکھانے کا نام ہے۔ ورنہ بلند بانگ دعوے کرنا اور محبتوں کا اظہار کرنا یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ بلکہ ان سب میں مثبت کردار ہی سب سے اہم ہوتا ہے۔ لیکن مادہ پرست کے اس دور میں انسان نے اپنے والدین کی خدمت کو عبادت کے بجائے بوجھ سمجھ رکھا ہے۔ جو والدین بچپن سے بچے کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتے ہیں، جو اس کی تعلیم و تربیت کا پورا انتظام کرتے ہیں، جو خود اپنی بھوک و پیاس کو چھپا کر اس کی خواہشات کو پورا کرتے ہیں، اس کوذرا سا بھی کانٹا چبھ جائے تو والدین کا دل کانپ اٹھتا ہے۔ وہ ماں جو اس کو نو ماہ تک اپنے پیٹ کی تکالیف برداشت کرتے ہوئے اس کو جنم دیتی ہے۔ اس کے ذرا سا خوف کھا جانے سے وہ اپنے سینے سے لپیٹ لیتی ہے۔ جب بچہ بھوک و پیاس سے رو اٹھنے لگتا ہے تو ماں تڑپتی ہوئی سب کام کاج چھوڑ کر اپنے بچے کی بھوک و پیاس مٹانے میں مصروف ہوجاتی ہے۔ وہ باپ جو نہ دھوپ دیکھتا ہے نہ بارش بلکہ وہ تپتی دھوپ اور بارش میں بھیگتا ہوا اپنی اولاد کے لئے ہر لمحہ دوڑ و دھوپ کرتا ہےاور جب تھکا ہوا گھر پہنچتا ہے تو وہی بچوں کو دیکھ کر دنیا کے سارے غم پیچھے چھوڑ کر اپنے بچوں کی محبت میں مشغول ہوجاتا ہے۔ جس کی مہربانی اور شفقت بھرے سایے سے یہ بچے فیضیاب ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن یہی بچے جب وقت کے ساتھ ساتھ بڑے ہونے لگتے ہیں تو ان ہی والدین کو وہ محبت کے بدلے جھڑک کر بات کرتے ہیں۔ ان کی ضروریات اور خواہشات سے انھیں گٹھن ہونے لگتی ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ جب والدین بوڑھی عمر میں پہنچ جاتے ہیں تو ان ہی بچوں کو یہ شفقت بھرا سایہ بوجھ لگنے لگتا ہے اور بالآخر نوبت یہاں تک آ پہنچتی ہے کہ یہی بچے اپنے بوڑھے والدین کو گھر میں رہنے کے لئے جگہ اور کھانے کے لیئے دو وقت کا کھانا بھی نہیں دے سکتے۔ خدمت کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ پھر انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔
آج کے اس ترقی یافتہ دور میں انسان نے جتنی ترقی کرلی ہے وہ سب انسانی عیش و عشرت کی خاطر ہے۔ خاص طور پر مغربی کلچر کو مسلم معاشرے نے ترقی کے نام پر اپنے فرائض اور اپنی ذمہ داریوں سے پیچھا چھڑانے کے لئےاپنے اوپر حاوی کرلیا ہے۔ آج سے دس بارہ سال قبل تک مسلم معاشرے میں ’’اولڈ ایج ہوم‘‘ کا تصور نہ کے برابر تھا۔ لیکن گذرتے وقت اور ترقی کے نام پر’’اولڈ ایج ہوم‘‘ نے مسلم معاشرے میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوگیا۔ حالاں کہ اسلام میں اولڈ ایج ہوم کا کوئی تصور کہیں نہیں ملتا۔ پھر کیا اولڈ ایج ہوم کی ابتداء قرون وسطیٰ کے یورپ میں المز ہاؤس کے نام سے ہوئی جو بنیادی طور پر مغربی کلچر کا جدید تصور ہے۔ ہمارے ملک میں اس اولڈ ایج ہوم کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالتے ہیں، تاکہ ہمیں پتہ چلے کہ یہ گھناؤنا تصور کیسے ہندوستان اور پھر مسلمانوں میں پہنچا۔ Friend in need society of madras کی سرپرستی میں سن 1882 ء میں کلکتہ میں پہلی مرتبہ ناداروں اور بے یارومددگار بزرگوں کے لیے مذکورہ بالا تنظیم کی زیر قیادت ایک ہاسٹل کا انتظام کیا گیا تھا۔ لیکن باقاعدہ مستقل اولڈ ایج ہوم کا آغاز ریاست کیرالا کے علاقے تروشور میں سن 1911ء کوچن کے بادشاہ راجہ ورما کی سرپرستی ہوا تھا، جو راجہ ورما اولڈ ایج ہوم کے نام سے موسوم تھا۔ اولڈ ایج ہوم کی ضرورت اس وقت اس لیے پیش آئی کہ اس وقت معمر وعمر رسیدہ لوگوں کی تعداد بڑھتی جارہی تھی۔ذرائع کے مطابق 2023 میں مرکزی حکومت کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ملک میں 1,658 اولڈ ایج ہومس کو مختلف سرکاری اسکیموں کے تحت برقرار رکھا جا رہا ہے۔ یہ سرکاری اعداد ہیں جو رجسٹرڈ شدہ ہیں۔ غیر رجسٹرڈ شدہ اولڈ ایج ہومس کی تعداد سینکڑوں میں ملے گی۔اگر یہ معاملہ ملک کے دیگر مذاہب میں ہوں تو یہ ان کے اپنے مذاہب کا مسئلہ ہے۔ لیکن بات جب مسلم معاشرے کی کریں گے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلم معاشرے کے سماجی و فلاحی ادارے یا این جی اوز کو اولڈ ایج ہومس کھولنے کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے؟
بوڑھی عمر میں الدین کو گھر سے بے دخل کرنے کے ایسے کئی واقعات رونما ہورہے ہیں۔ کہیں جائداد اپنے نام کرلے کر تو کہیں درد ناک اذیتیں دی جاتی ہے۔ ایسے میں بوڑھے والدین گھر میں رہنا کیوں پسند کریں گے اور ایسی اولاد کی طرف سے شائد اسی لئے ایسا کیا جاتا ہے کہ وہ گھر چھوڑ کر کہیں چلے جائیں۔ ایسے میں بے یار و مددگار کئی معمرین میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ جس کے بعد مسلم معاشرے میں ان کی دیکھ بھال کے لئے اولڈ ایج ہوم کھولے جارہے ہیں۔ یہ اولڈ ایج ہوم مسلم معاشرے میں اس لئے بھی کھولے جارہے ہیں کہ اگر یہ بے یار و مددگار غیر مسلم اولڈ ایج ہوم جائیں گے تو کفر و ارتدار کا شکار ہونے کا خدشہ لگا رہتا ہے۔اسی اندیشے کی وجہ سے مسلم معاشرے میں اولڈ ایج ہومس کھولے جارہے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ نئی نسل ترقی کے نام پر مغربی کلچر کو اپنا رہی ہے اور اسلامی تعلیمات کو فراموش کر رہی ہے۔ مغربی کلچر کو اپنانے والے افراد گھر میں کتا پالنا اور اس کی پرورش کرنا جانتے ہیں لیکن جو والدین پیدا کرنے سے لے کر قابل بناتے ہیں انھیں در در بھٹکتا چھوڑ دیتے ہیں۔اس کی اہم وجہ یہی ہے کہ اسلامی تعلیمات سے ناواقفیت کا ہونا یا جانتے بوجھتے قصداً ایسا کرنا، ایسا وہی اولاد کرسکتی ہے جنھیں اللہ اور اس کے رسولؐ سے نہ محبت ہے اور نہ ہی اللہ کا کوئی خوف ہے۔ آج ہمارے مسلم معاشرے میں والدین کے ساتھ کیسا سلوک کیا جارہا ہے؟ جس کا آئے دن ہم کئی کئی واقعات سنتے اور مشاہدہ بھی کرتے رہتے ہیں۔آخری سوال یہ اٹھتا ہے کہ مسلم معاشرے میں اولڈ ایج ہوم کے بڑھتے کلچر کو کیسے روکا جائے؟
اسلامی تعلیمات کے مطابق مساجد، اجتماعات اور تعلیمی اداروں میں اس موضوع پر مسلسل گفتگو ہونی چاہیے تاکہ نئی نسل والدین کی خدمت کو نہ صرف خدمت سمجھے بلکہ ان کے اندر اس اصول کو بٹھایا جائے کہ والدین کی خدمت کو وہ عبادت سمجھے۔ ہر والدین کو چاہئے کہ اپنی اولاد کو بچپن سے بزرگوں کی صحبت اختیار کرنے اور ان کی خدمت و احترام کرنے کی تربیت دی جائے۔ والدین یا بزرگوں کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے، انہیں فیصلوں میں شامل کیا جائے اور بچوں کی تربیت میں ان کا کردار برقرار رکھا جائے تاکہ وہ خود کو غیر ضروری محسوس نہ کریں۔ ہر فرد کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ صالح مسلم معاشرے کی تشکیل اور مثالی خداندان کی تعمیر میں اپنی اپنی حصہ داری کو شامل کرتے ہوئے اس خطرناک مغربی کلچر کا تدارک کریں۔