پونچھ//انجمن جعفریہ پونچھ نے عالمی یوم قدس کے سلسلہ میں بولتے ہوئے کہاکہ مسئلہ فلسطین پوری انسانیت کا مسئلہ ہے۔پونچھ میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران امام جمعہ و جماعت علی جامعہ مسجد پونچھ مولانا سید ظہور علی نقوی نے کہا کہ وہ آیت اللہ خمینی رضوان اللہ تعالی کے حکم کے مطابق فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت جاری رکھیں گے اور رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس مناتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عالم انسانیت کے سب سے بڑے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے غفلت برتی جا رہی ہے۔ مسئلہ فلسطین تاریخ کے سنگین دور سے گزر رہا ہے۔ دنیا میں پھیلی کورونا وبا کے باعث جہاں کئی ایک اور مسائل نے جنم لیا ہے، وہاں مسئلہ فلسطین کو بھی پس پشٹ ڈال دینے کی ہر ممکنہ کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کی نسبت آج فلسطین کاز کے خلاف اندرونی بیرونی دشمن سرگرم ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف عمل ہیں، مسلم ممالک کو اسرائیل جیسی جعلی ریاست کو تسلیم تو دور دوستانہ تعلقات کو بھی مسترد کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے والوں کو مسلم امہ کا خائن سمجھتے ہیں۔ اسرائیل سے تعلقات قائم کرنا درحقیقت مسلم امہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی امریکی و صہیونی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کا حل مسلم امہ کے اتحاد ہی سے ممکن ہے، تاہم جو ممالک اور حکمران اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرچکے ہیں، ہم ان سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل سے فی الفور تعلقات منقطع کریں اور مسلم امہ کے جذبات کو مجروح ہونے سے بچالیں۔اس دوران ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انجمن جعفریہ پونچھ کے صدر انور حسین ونتو نے کہاہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے طور مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کریں۔ انہوں نے کہا عالم اسلام فلسطین اور بیت المقدس پر صیہونیوں کے غاصبانہ تسلط کو مظلوم فلسطینیوں کے خلاف سامراجی جارحیت سمجھتا ہے اور قدس کی بازیابی کے لئے ملت فلسطین کا طرفدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ساٹھ سال کے دوران صیہونیوں نے یہاں برطانیہ اور امریکہ کی سامراجی سازشوں کے تحت اپنے قدم جمائے اور ساحلی شہر " یافا " اور " حیفا " کے قریب تل ابیب کو آباد کیا اور بیت المقدس پر اپنے خونی پنجے گاڑنے شروع کرد?یے اور اس وقت تقریبًا 80 فیصدی علاقوں پر قبضہ کررکھا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینیوں کے منصوبہ بند قتل عام ، گھروں اور کاشانوں پر فوجی یلغار ، قید وبند ، جلاوطنی اور مہاجرت کی مانند خوف و وحشت کی فضائیں ایجاد کرکے ایک ملت کو اس کے ابتدائی ترین انسانی حقوق سے محروم کردینا اسراء?ل کا سب سے بڑا جرم ہے ،یہی نہیں سنہ 1950 میں تمام بین الاقوامی قوانین کو پامال کرکے صیہونیوں نے مغربی بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت اعلان کرکے اقوام متحدہ کی قرارداد کا بھی کْھلَم کْھلا مذاق اڑایا ہے۔یہاں کی آبادی کے تناسب کو بدلا گیا ، فلسطینیوں کو جلاوطن کرکے یہاں کی سڑکوں اور گلیوں تک کے نام بدل د?یے گئے حتٰی کہ مشرقی بیت المقدس کو بھی یورش کا نشانہ بنایاگیا اگرچہ یہاں کے مسلمان مجاہدین ، تمام ظلم و بربریت کے باوجود دشمنوں کے مقابل سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے ہیں اور انتفاضہ تحریک بیت المقدس میں فلسطینی پہچان بنی ہوئی ہے۔