جموں کشمیرپروجیکٹ کنسٹرکشن کارپوریشن کی بورڈآف ڈائریکٹرس کی97ویں میٹنگ | تسلی بخش کام کی سندکے بعدٹھیکیدارو ں کو بروقت ادائیگی کی جائے:بھٹناگر
رواں سال27پروجیکٹ مکمل،66منصوبے مکمل ہونے کی اُمید
جموں//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بھٹناگر نے یہاں سول سیکرٹریٹ میں جموں و کشمیر پروجیکٹس کنسٹرکشن کارپوریشن (جے کے پی سی سی) کے 97 ویں بورڈ آف ڈائریکٹرس میٹنگ کی صدارت کی۔ میٹنگ میں فائنانشل کمشنر خزانہ ارون کمار مہتا ، پرنسپل سیکرٹری پی ڈبلیو ڈی(آر اینڈ بی) شیلندر کمار ، منیجنگ ڈائریکٹر جے کے پی سی سی وِکاس کنڈل ، ترقیاتی کمشنر ورکس سمیع عارف یسوی ، چیف انجینئر پی ڈبلیو ڈی(آر اینڈ بی) کشمیر شوکت جیلانی، انجینئر پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی) ، جموں اشوک کمار ککلونے شرکت کی۔بورڈ آف ڈائریکٹر میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے مشیر موصوف نے کہا کہ جے کے پی سی سی کو ایک پریمیم پروجیکٹ عمل آوری ایجنسیوں میں سے ایک ہونے کے ناطے یہ یقینی بنانا چاہئے کہ وہ ہمیشہ ہر سطح پر شفافیت کو برقرار رکھے گا۔ اِس کے علاوہ جہاں بھی ضرورت پڑتی ہے وہاں مختلف اِصلاحی اِقدامات بھی کریں۔مشیر موصوف نے کہا کہ کام کی تسلی بخش کامیابیوں اور مناسب سند کے بعد ٹھیکیداروں کو بروقت ادائیگی کی جانی چاہئے۔مشیر بھٹناگر نے کارپوریشن کے کام کاج کا جائزہ لیتے ہوئے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں کیوں کہ جے کے پی سی سی کے کام کو اس کے نتائج کے مطابق جانچا جارہا ہے۔کاموں میں معیاری مواد کے اِستعمال کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مشیرموصوف نے کہا کہ کاموں کے معیار اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کارپوریشن کا معیار ہونا چاہئے۔منیجنگ ڈائریکٹر جے کے پی سی سی نے کارپوریشن کے کام کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جے کے پی سی سی نے 27 منصوبے مکمل کئے ہیں جبکہ رواں سال 66 منصوبے مکمل ہونے کی توقع ہے۔بورڈ آف ڈائریکٹرس نے مالی سال 2020-21اسٹیبلشمنٹ بجٹ ، کیپٹل بجٹ اور ورکس بجٹ کو منظوری دی۔بورڈ آف ڈائریکٹرس نے مختلف ایجنڈا نکات پر سیر حاصل بحث کی جس میں سونپے گئے منصوبوں کے لئے اوپن اِی ۔ ٹینڈرنگ کوجے کے پی سی سی کے مختلف پروجیکٹ بشمول سول ، میکنیکل اور الیکٹریکل کمپونٹس اور کچھ بڑے پروجیکٹوںکے لئے ای پی سی موڈ اَپنا نا ہے ۔
کسی بھی ملک کیخلاف جارحانہ عزائم نہیں | ملک کی سالمیت اورسلامتی پرآنچ نہیں آنے دی جائے گی:راجناتھ سنگھ
سرینگر//فوج ملک کو درپیش کسی بھی حفاظتی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہے۔اس بات کااظہار وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے کسی بھی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں ہیں،جس کی مثال پاکستان اور چین کی سرحدوں پر ہوئی کاررائیاں ہیں۔سی این آئی کے مطابق فضائیہ کے اعلیٰ کمانڈروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ملک کی سیکورٹی فورسز پر انہیں فخر ہے اور واضح کر دیا کہ ملک کی سیکورٹی اور سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی ۔ انہوںنے کہا کہ ملک کی فوج نے ہمیشہ تمام چیلنجوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے جس کی مثال پاکستان اور چین سے لگنے والی سرحدیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مشرقی لداخ میں بھی فوج نے چین کے فوجیوں کا بھر پور انداز میں جواب دیا اور جو بھی کارروائی اس طرف سے ہوئی اس کو کامیاب نہیں ہونے دیا گیا ۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ خو ش قسمتی ہے کہ گزشتہ سال مشرقی لداخ میں پیش آنے کے واقعات پر انڈیاائرفورس نے فوری اور جارحانہ انداز میں جوا ب دیا۔انہوںنے مشورہ دیاکہ کمانڈروں کو مستقبل میں اس طر ح کے خطرات سے نمٹنے کیلئے طویل مدتی حکمت عملی وضع کرنی چاہئے جسکی بنیاد پرصلاحیت سازی کی جاسکتی ہے ۔انہوںنے مزید کہا کہ سیکورٹی کو بڑھائو ادینے اور انہیںجدید ہتھیار سے لیس کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے ۔
کشمیر میں ظلم کی انتہا ء،خواتین کو بھی بخشا نہیں جاتا | سائمہ اختر جائز سوالات پوچھنے پر گرفتار: محبوبہ مفتی
سری نگر//سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کولگام کی خاتون ایس پی ائو سائمہ اخترکی گرفتاری کوظلم کی انتہاء قراردیتے ہوئے کہاہے کہ اب کشمیرمیں خواتین کوبھی نہیں بخشا جاتاہے ۔انہوں نے الزام لگایاکہ خاتون اہلکارکوجائزسوالات پوچھنے پرگرفتارکیاگیا ۔کے این ایس کے مطابق پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز سماجی رابطہ گاہ ٹویٹر پراس حوالے سے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا،’’کولگام کی رہنے والی ایس پی ائو سائمہ اختر پر اس وجہ سے یو اے پی اے لگایا گیا کیونکہ اس نے اپنے مکان کی بغیر وجوہات کے بار بار تلاشی لینے پر جائز سوالات پوچھے۔ بظاہر سائمہ اپنی بیمار والدہ کی وجہ سے پریشان ہیں۔ جب بات ظلم کی ہو تو نئے کشمیر میں خواتین کو بھی نہیں بخشا جاتا ہے‘‘۔ محبوبہ مفتی نے کولگام کی رہنے والی سائمہ اختر کی گرفتاری اوراُس کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون کے تحت مقدمہ درج کئے جانے کوبلاجواز قرار دیتے ہوئے لکھاکہ سائمہ نے اپنے مکان کی بلاوجہ تلاشی لینے پر سیکورٹی فورسز سے جائز سوالات پوچھے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نئے کشمیر میں ظلم کی انتہا یہ ہے کہ خواتین کو بھی بخشا نہیں جاتا ہے۔بتا دیں کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں خاتون ایس پی ائو سائمہ، کو اپنے مکان کے صحن میں سیکورٹی فورسزاہلکاروں پر چیختے سنا جا سکتا ہے۔برطرف شدہ خاتون ایس پی ائو کو ویڈیو میں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے ،’’روز روز یہ کیا ہو رہا ہے؟ ہمیں سحری بھی کھانے نہیں دی۔ جوتے سمیت اندر آتے ہو۔ میری ماں بیمار ہے، اگر اسے کچھ ہوا یاد رکھنا۔ پچھلی بار بھی میری ماں اکیلی تھی اور یہ لوگ آئے تھے، کیا کرنے آئے تھے؟‘‘۔ سائمہ اختر کے خلاف پولیس تھانہ یاری پورہ کولگام میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے حوالے سے قانون کی دفعہ 13 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں ان پر ملی ٹنسی کو’گلوریفائی‘کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔
رمضان المبارک میں بھی لوگوں کو بجلی پانی کے مسائل درپیش | بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی پرنیشنل کانفرنس برہم
سرینگر// نیشنل کانفرنس نے رمضان المبارک کے دوران عوام کو بنیادی ضروریات میسرنہ رکھنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ اور سرکاری محکمے کاغذی گھوڑے دوڑانے میں تو ایک دوسرے سے سبقت لیتے پھرتے ہیں لیکن جب زمینی سطح پر عوام کو راحت پہنچانے کی بات آتی ہے تو سب کچھ سراب ثابت ہوجاتا ہے۔ پارٹی کے ترجمان عمران نبی ڈار نے ایک بیان میں اس بات پر افسوس اور تشویش کا اظہار کیا کہ ایام متبرکہ کے دوران بھی لوگوں کو اُن بنیادی ضروریات سے محروم رکھا گیاہے جو ماضی میں خود بہ خود میسر رہا کرتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک میں بھی لوگوں کو بجلی اور پینے کے پانی کی عدم دستیابی کے مسائل درپیش ہیں جبکہ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں اور صارفین سے منہ مانگی قیمتیں وصول کی جارہی ہیں جبکہ انتظامیہ کی طرف سے قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کیلئے کوئی بھی اقدام نہیں اُٹھایا جارہا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ تینوں خطوں میں رمضان المبارک کے دوران لوگوں کو ہر سطح پر راحت پہنچانے کے لئے ٹھوس اور بروقت اقدامات اُٹھائیں۔ اُنہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ اس مقصد مہینے کے دوران بجلی ، پینے کی پانی ، صحت وصفائی کے انتظامات کے ساتھ ساتھ رسوئی گیس ، معیاری چاول، آٹا دستیاب رکھا جائے اور خصوصی طور پر سحری و افطار کے اوقات پر لوگوں کو بجلی کی فراہمی یقینی بنانے میں کوئی بھی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جانا چاہئے۔ ترجمان نے انتظامیہ سے قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے کیلئے چیکنگ سکارڈ ٹیمیں تشکیل دینے کی ساتھ ساتھ تاجروں اور دکانداروں سے بھی اپیل کی کہ وہ عوام کو مناسب اور معقول داموں پر اشیاء ضروریہ فروخت کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے میونسپل حکام پر بھی زور دیا کہ صحت و صفائی کے ساتھ ساتھ اُن جگہوں پر سٹریٹ لائٹوں کی مرمت کرنے کی اپیل کی ہے جہاں جہاں لائٹیں خراب ہوئی ہیں۔
اسپتالوں میں انتہائی نگہداشت والے وارڈوں اور آکسیجن سے لیس بیڈوں کی کمی | کووِڈ- 19مریضوں کی تعداد میں اضافہ پر’ڈاک‘ کوتشویش
سرینگر // ڈاکٹر س ایسوسی ایشن کشمیر نے کہا ہے کہ وادی کے ہسپتالوں میں آئی سی یو اور آکسیجن برداربیڈوں کی کافی قلت پائی جا رہی ہے اور اس وقت ہسپتالوں میں انتہائی نگہداشت والے نئے وارڈوں کے قیام کی اشد ضرورت ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثا ر الحسن نے سرکار پر زور دیا ہے کہ وادی میں قایم ہسپتالوں میں آئی سی یو، یونٹوں میں اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دو ہفتوں سے وادی کے ہسپتالوں میں کووڈ میں مبتلا مریضوں کو نازک حالت میں داخل کرانے کا سلسلہ بڑھ گیا ہے جس کے نتیجے میں آئی سی یو بیڈوں کی کمی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ مریضوں کو 50ََ۔ 60آکسیجن پر ہسپتال پہنچایا جاتا ہے جن کو فوری طور پر آئی سی یو کی ضرورت ہوتی ہے، تاہم آکسیجن والے بیڈوں کی عدم دستیابی کے نتیجے میں ایسے مریضوں کی موت کا اندیشہ بڑھتا ہے ۔ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے کہا ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران کشمیر کے اسپتالوں میں شدید اور شدید بیمار کووڈ 19 مریضوں کے داخلے میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور ان میں سے بہت سے لوگوں کو انتہائی نگہداشت یا وینٹیلیٹر مدد کی ضرورت ہے۔ایس ایم ایچ ایس ہسپتال میں ہمیں روزانہ 20-30 شدید کیسز موصول ہوتے ہیں اور ان میں سے بہت سے افراد تشویشناک حالت میںلائے جاتے ہیں۔ڈاک کے صدر نے کہالیکن وہ آکسیجن حاصل نہیں کرسکتے کیونکہ تمام آئی سی یو بیڈ وں پر پہلے سے ہی مریض ہوتے ہیں۔دوسرے اسپتالوں میں بھی صورتحال ایک جیسی ہے جہاں مریضوں کو آئی سی یو بیڈ حاصل کرنے کی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔انہوں نے کہاکووڈ۔19 کی بحالی کے ساتھ ہی اسپتالوں میں آئی سی یو بیڈ ختم ہوگئے ہیں۔ڈاکٹر نثار نے کہاکہ شدید معاملات کی انتہائی نگہداشت میں جلد منتقلی کورونا مریضوں کے نتائج کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرنے کے لئے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔انہیں کتنی تیزی سے نگہداشت کی جاتی ہے اس سے یہ طے ہوتا ہے کہ وہ زندہ رہیں گے یا نہیں ۔ڈاکٹر نثار نے کہاکہ اگلے چند ہفتوں میں مشکل پیش آسکتی ہے کیونکہ توقع ہے کہ معاملات میں مزید اضافہ ہوجائے گا کیونکہ کافی لوگ ابھی بھی وائرس کا شکار ہیں۔انہوںنے کہا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ویکسین دیا جائے تو صورتحال کو قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔
تعلیمی اداروں کو مالی بحران کا سامنا | نجی اسکولوں کی والدین بچوں کی فیس بروقت اداکرنے کی اپیل
سرینگر//نجی اسکولوں کی انجمن نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ مختلف نجی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچوں کی اسکول فیس ادا کریں کیونکہ بیشتر اسکول مالی بحران کے سبب بند ہونے کی دہلیز پر پہنچے ہیں۔ایک بیان میںانجمن نے کہا کہ ایک طالب علم کی طرف سے ادا کی جانے والی فیس ہی اسکول کی آمدنی کا واحد ذریعہ ہے اور اگر یہ آمدنی وقت پر نہیں آتی ہے، تو یہ خود ہی تعلیمی انسٹی ٹیوٹ کے لئے بقا ء کا مسئلہ پیدا کردیتی ہے۔ ابھی تک اسکولوں میںکلاس بند ہیں لیکن ہر اسکول پوری کوشش کر رہا ہے کہ آن لائن کلاسز کے انعقاد سے ہونے والے نقصان کی تلافی کی جائے اور آن لائن کلاسوں کے انعقاد کے لئے اساتذہ کو دوگنا کام کرنا پڑتا ہے۔انجمن نے کہا کہ جب ایک ٹیچر کو بروقت تنخواہ نہیں مل سکتی ہے تو ہم کیسے اس سے توقع کرسکتے ہیں کہ وہ طلباء کو پڑھائے گا۔ ہم جانتے ہیں کہ آن لائن کلاسز فزیکل کلاسوں سے کوئی مماثل نہیں ہیں لیکن پھر بھی اس پر انحصار کرنے کے سوا اس وقت ہمارے پا س کوئی چارہ نہیں ہے۔ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ سکولوں کے اخراجات میں کسی قسم کی کمی نہیں ہورہی ہے لیکن آمدنی کے ذرائع محدود ہورہے ہیں جس کی وجہ سے سکول بند ہونے کی دہلیز پر پہنچے ہیں۔ انجمن نے کہا کہ اگر فیسوں کی عدم وصولی سے اسکول بند ہوجاتے ہیں تو اس سے تعلیم کا پورا شعبہ غیر مستحکم ہوجائے گا اورگزشتہ تین دہائیوں کے دوران حاصل کردہ ہماری ساری پیش رفت ختم ہوجائے گی اور لاکھوں بچوں کا مستقبل خطرے میں پڑے گاجبکہ ہزاروں کی تعداد میں اساتذہ بے روزگار ہوجائیں گے جس سے ایک اور سماجی مسئلہ پیدا ہوگا۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے اور معاشرے کو اس موقع پر آگے آنے کی ضرورت ہے۔ تعلیم کے شعبے کو بچانے میں حکومت کے کردار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایسوسی ایشن نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس سلسلے میں حکومت کے سامنے کوئی نقش راہ نہیں ہے۔
دربار کو جموں میں رکھنے کا غیردانشمندانہ فیصلہ، کشمیریوں کو ناقابل قبول:حق اطلاعات تحریک
سرینگر//جموں کشمیر حق اطلاعات تحریک نے لیفٹینٹ گورنرمنوج سنہا سے سالانہ دربار مودفاتر کی سرینگر منتقلی نہ کرنے کے فیصلے پرسرنوغور کرنے کی اپیل کی ہے۔ایک بیان میں حق اطلاعات تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر راجہ مظفربٹ نے کہا کہ یہ ایک غیردانشمندانہ فیصلہ ہے جس پرسرنوغور کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ کوروناکے پھیلائو کا دربار مودفاتر کی منتقلی سے کوئی لینادینا نہیں ہے۔ڈاکٹر راجہ مظفر نے کہا،’’مرکزی زیرانتظام علاقہ کی انتظامیہ نے اچانک کورونا وائرس کے پھیلائو کی بناء پرسالانہ دربار مودفاتر کی منتقلی پرروک لگادی ۔تاحکم ثانی دفاترجموں سے سرینگرمنتقل نہیں ہوں گے ۔اگر ایساتھا تو گزشتہ برس سرینگر میں اکتوبر کے آخری ہفتے میں دفاتر کو کیوں بند کیاگیا اور نومبر کے پہلے مہینے میں جموں میں ان دفاتر نے کام شروع کیا۔اس وقت بھی کووِڈ کی وباء تیزتر تھی،یہ کشمیر کے لوگوں کے ناقابل قبول ہے جو جموں کشمیرکے روایات اور تمدن کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ حاکم اپنے پرائیویٹ کاروں مین سفر کریں گے ،وہ سرینگر جلوس کی صورت میں یا بھیڑبھاڑ والی بسوں یا ٹرینوں میں نہیں آئیں گے۔سبھی دفاتر کو سرینگر،منتقل نہ کرنے سے اقتصادیات پر بھی اثر پڑے گااور اسٹیٹس محکمہ کے ہوٹل،اور گیسٹ ہاوس جہاں چھ ماہ ملازم قیام کرتے ہیں ،خالی رہیں گے۔
اپنی پارٹی ضلع کپواڑہ کے عہدیداروں کی تقرریاں
سرینگر//اپنی پارٹی نے ضلع کپواڑہ کے لئے دفتری عہدیداروںکا اعلان کیا ہے۔ پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری کی منظور ی کے بعد کبیر احمد بٹ کو بلاک صدر کیرن، خضر محمد لون کو بلاک صدر کرالہ پورہ، ستار محمد فمدہ کو بلاک صدر میلیال، شیراز جو کو بلاک نائب صدر کیرن، حاجی ضمیراحمد کو بلاک سیکریٹری کیرن، شبیر احمد نائیکو کو بلاک سیکریٹری کرالہ پورہ، عبدالحمید کو بلاک جوائنٹ سیکریٹری کیرن اور طارق مشود کو بلاک کارڈی نیٹر ٹنگڈار بنایاگیاہے۔
آیت اللہ العظمیٰ کی صحتیابی کیلئے خصوصی دعائوں کا اہتمام | مہدی مہدوی پورکے برادر کی وفات پرآغا حسن کا اظہار تعزیت
سرینگر// شیعیان جہان کے مرجع عالی قدر اور رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای کے معتمد آیت اللہ العظمیٰ ،جو گزشتہ کئی ایام سے علیل ہے ، کی جلد صحت یابی اور عمر درازی کے لئے انجمن شرعی شیعیان کے زیر اہتمام منعقدہ جمعہ اجتماعات کے موقعہ پر خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ اس موقعہ پر ائمہ جمعہ نے علیل آیت اللہ العظمیٰ کی شخصیت اور علمی و روحانی کردار و عمل کی وضاحت کرتے ہوئے ان کی گرانقدر دینی خدمات کو اجاگر کیا ۔انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن نے آیت اللہ العظمیٰ کی صحت یابی کیلئے دعا کرتے ہوئے ان کی ہمہ جہت شخصیت کو ایرانی قوم و قیادت اور شیعیان عالم کیلئے سرمایہ افتخار قرار دیا ۔ آغاحسن نے نمائندہ ولی فقیہ براے ہند مہدی مہدوی پور کے برادر انجینئر محسن مہدوی پور کے سانحہ ارتحال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین و پسماندگان بالخصوص مہدی مہدوی پور سے تعزیت کی ۔آغا حسن نے مرحوم کے بلند درجا ت اور جنت نشینی کی دعا کی ۔دریں اثنا انجمن شرعی شیعیان کے شعبہ باب العلم سے منسلک حوزت علمیہ حوزہ جامعہ باب العلم میر گنڈ بڈگام اور جامعۃ الزہرا حسن آباد سرینگر نے بھی نمائندہ ولی فقی کو ان کے برادر محترم کی وفات پر ہدیہ تعزیت پیش کیا اور مرحوم کی بخشش و مغفرت کے لئے دعا کی ۔
ڈپٹی کمشنرپلوامہ نے ضلع میں کووِڈ صورتحال کاجائزہ لیا
پلوامہ//ڈپٹی کمشنر پلوامہ بصیرالحق چودھری نے سنیچروار کوایک میٹنگ میں ضلع میں کووِڈ- 19کی صورتحال اور اس کے تدارک کیلئے کئے جارہے اقدامات ٹیکہ کاری،ٹیسٹنگ اوررہنماخطوط پرعمل آوری کاجائزہ لیا۔میٹنگ کے دوران ڈپٹی کمشنر نے کووِڈ ٹیکہ کاری سے متعلق مہم،افرادی قوت ،ٹیسٹنگ اوررہنماخطوط پرعمل آوری سے متعلق تفاصیل طلب کیں۔چیف میڈیکل افسر نے ڈپٹی کمشنر کو مطلع کیا کہ اب تک ضلع میں 62982افراد کو کووِڈ کاٹیکہ لگایا ہے اس کے علاوہ تمام ہیلتھ مراکز پرمطلوبہ سہولیات دستیاب ہیں اس کے علاوہ ضلع میں معقول تعداد میں کووڈ ٹیکے بھی دستیاب ہیں ۔ ڈپٹی کمشنر نے انہیں ہدایت دی کہ ٹیسٹنگ کاروزانہ ہداف پورا کیا جائے اوراس بات کو یقینی بنایا جائے کہ دکانداروں،ہوٹل مالکان وملازمین اور دیگر کا ٹیسٹ ترجیحی طور کیاجائے۔انہوں نے کورونا وائرس سے متعلق عوام میں بیداری پیدا کرنے کیلئے مہم شروع کرنے کی بھی تلقین کی۔تحصیلداروں اور ای اوزکو ہدایت دی گئی کہ وہ مذہبی رہنمائوں کو لوگوں کو اس بارے میں آگاہ کرنے کی مہم میں شامل کرنے کو کہاگیاتاکہ لوگ ماسک کا استعمال کریں اورسماجی فاصلوں پرعمل کریں۔انہوں نے حکام پر زوردیا کہ وہ کووِڈ رہنماخطوط پر عمل آوری کو سختی سے نافذ کریں۔