کورونا قہر جاری ،ڈوڈہ ضلع میں مزید2ہلاکتیں | 82 نئے مریض ،37 صحتیاب ، 1 لاکھ افراد کو ٹیکے لگائے گئے
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ میں جمعہ کو کووڈ 19 کے 82 نئے مثبت معاملات سامنے آئے ہیں اور 37 مریض صحتیاب ہوئے ہیں جبکہ پچھلے چوبیس گھنٹوں میں دو اشخاص فوت ہو چکے ہیں۔اطلاعات کے مطابق جمعہ کے روز ڈوڈہ، بھدرواہ، عسر ،ٹھاٹھری و گندوہ میں ہوئی کوؤڈ جانچ کے دوران 82 افراد کی ٹیسٹ رپورٹ مثبت آئی ہے اور اس طرح سے ضلع میں فعال کیسوں کی تعداد 1222 پہنچ گئی ہے جن میں سے 28 مریضوں کو ہسپتال آئیسو لیشن و 1193 کو خانہ قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ضلع میں شفایاب ہوئے مریضوں کی مجموعی تعداد 4207 ہو گئی ہے۔اس دوران گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈوڈہ میں پچھلے چوبیس گھنٹوں میں بھدرواہ کے 75 سالہ شہری و قصبہ بھدرواہ کے ہی 70 سالہ بزرگ کی موت ہوئی ہے اور اس طرح سے ضلع میں کورونا وائرس سے اب تک 87 افراد فوت ہو چکے ہیں۔ضلع میں جاری ٹیکہ کاری عمل کے دوران 1 لاکھ سے زائد افراد کو ٹیکے لگائے جاچکے ہیں۔
گول میںخاتون اے ایس آئی کی کوڈ سے موت
زاہد بشیر
گول//ل کی معروف لیڈی پولیس آفیسر حنیفہ بیگم کی گزشتہ شب اچانک موت واقعہ ہوئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس اسٹیشن گول میں تعینات حنیفہ بیگم جو کافی عرصہ سے علیل تھی اور آج اسے گول سے جموں لے جا رہے تھے کہ رام بن ہسپتال میں دوران شب اس دار فانی سے لبیک کہہ گئی ۔ 50سالہ حنیفہ بیگم کی کوڈ سے موت کی تصدیق ضلع ہسپتال رام بن کی انتظامیہ نے کی ۔ گول میںحنیفہ بیگم کی موت کی خبر سوشل میڈیا کے ذریعے جوں ہی لوگوں نے سنی تو سخت افسوس ہوا جس وجہ سے گول میں کافی بے چینی کا ماحول پیدا ہوا ۔ لاک ڈاون اور کوڈ کی وجہ سے اور اس کی وفات کوڈ کی تصدیق کے بعد کافی لوگ اس کی آخری رسوم میں شریک نہ ہو سکے اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہی تعزیتی پیغامات لواحقین اور عزیز و اقارب تک پہنچائے۔ اس دوران نیشنل کانفرنس کی لیڈر اور ڈی ڈی سی چیر مین ضلع رام بن ڈاکٹر شمشادہ شان نے حنیفہ بیگم کی وفات پر نہایت ہی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے علاقہ کے لئے اسے کافی نقصان قرار دیا ۔ ڈاکٹر شمشادہ شان نے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے حنیفہ بیگم کے لئے بھی دعائے مغفرت کی ۔ دیگر سیاسی ، سماجی شخصیات نے بھی حنیفہ بیگم کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا اور اسے گول کے لئے ایک نقصان قرار دیا اور ان کے لئے مغفرت کی دعا کی ۔یاد رہے حنیفہ بیگم گول کی واحد خاتون پولیس آفیسر نے جنہیں جنوری میں ترقی سے نوازا گیاتھا اور آئی جی جموں نے انہیں یہ اعزاز پیش کیا تھا ۔
رام بن میںمزید66کورونا مثبت،54صحتیاب | ضلع میںابتک ہلاکتوں کی تعداد 49 تک پہنچ گئی
ایم ایم پرویز
رام بن// رام بن ضلع میں کم سے کم 1010 ریپڈ انٹی جن ٹیسٹ اور RTPCR ٹیسٹ ہوئے جن میں سے 66 افراد کو کورونا مثبت پایا گیا جبکہ 54 ضلع بھر میں صحتیاب ہوئے۔ضلع بھر میں کل 914 فعال کورونا مثبت واقعات ہیں جبکہ رام بن ضلع میں ہلاکتوں کی تعداد 49 ہوگئی۔عہدیداروں کے مطابق 914 سرگرم معاملات میں سے صرف 7 کووڈ مریض ٹروما ہسپتال رمبان میں قائم دو کووڈ کیئر سنٹر میں داخل ہیں جبکہ دیگر کووڈ کٹس مہیا کرنے کے بعد گھر سے الگ تھلگ رکھے گئے ہیں جس میں دوائیں اور آکسیمٹر وغیرہ شامل ہیں۔ضلع بھر میں کل 8 نامزد کووڈ کیئر سنٹر (سی سی سی) ہیں جن میں 537 بستر ہیں۔ اس وقت کووڈ کیئر سنٹر ٹروماہسپتال رام بن میں صرف 7 مریض داخل ہیں جبکہ ضلع میں 530 بستریں خالی ہیں ۔یکم مارچ 2021 میں ضلع میں دوسری لہر میں 28 اموات ریکارڈ کی گئیں جبکہ پہلی لہر کورونا وائرس وبائی امراض کے دوران 21 اموات ریکارڈ کی گئیں۔
ڈوڈہ میں 22 ویں روز بھی بدستور بندشیں عائد رہیں
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع میں 22 ویں روز بھی بدستور کورونا کرفیو نافذ رہا جس دوران سخت بندشیں عائد رہیں اور نجی کاروباری ادارے و ٹریفک نظام معطل رہا۔امن و سلامتی برقرار رکھنے و ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنے کے لئے شہر و گام کے بازاروں میں پولیس و سیکورٹی فورسز کی نفری تعینات رہی مسلسل بندشیں عائد رہنے و تیز دھوپ کے باعث سبزی فروشوں و چکن فروشوں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ ممتاز احمد نامی ایک دوکاندار نے کہا کہ دوکان بند رہنے و گرمی کی شدت سے ایک کوئنٹل وزنی سبزی کو پھینکنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی گاہک کم تعداد میں دوکانوں کا رخ کرتے ہیں اور پھر دن بھر بندشیں عائد رہنے و تیز دھوپ سے بھاری نقصان ہو رہا ہے۔سبزی فروشوں و چکن فروشوں نے حکومت سے باز آبادکاری کے لئے موثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جی ایم سی ڈوڈہ میں 750 ایل پی ایم آکسیجن پلانٹ تیار | تمام 267 پنچایتوں میں کووڈ کیئر سہولیات تیار کی گئیں :ڈی سی
ڈوڈہ// میڈیکل کالج ڈوڈہ میں جلد ہی اپنی آکسیجن سپلائی ہوگی کیونکہ آئندہ 750 ایل پی ایم آکسیجن جنریشن پلانٹ چالو ہونے کے لئے تیار ہے۔یہ معلومات ڈپٹی کمشنر وکاس شرما نے ضلع میں کوویڈ کیئر اینڈ مینجمنٹ کے منظرنامے پر پریس بریفنگ میں دی۔ ڈی سی نے بتایا کہ ضلع میں اس طرح کی مزید سہولیات حاصل کرنے جا رہی ہیں کیونکہ جی ایم سی ڈوڈہ کے لئے ایک اضافی 1000 ایل پی ایم آکسیجن جنریشن پلانٹ اور بھدرواہ اور گندوہ میں صحت کے اداروں کے لئے 500 ایل پی ایم کے لئے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس تیار کی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں دیہی عوام کو فائدہ پہنچانے کے لئے ضلع کی تمام 237 پنچایت (ڈی سی ڈوڈا) میں کوویڈ کیئر کی سہولت قائم کی گئی ہے۔ڈی سی نے دعوی کیا کہ ضلع میں بھی مثبت شرح کی شرح میں بتدریج کمی دیکھنے میں آئی ہے اور صحتیابی کی شرح میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ پوری صحت یابی کے بعد مئی میں 703 کوویڈ مریضوں کو ڈسچارج کردیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے لوگوں سے کووڈ مناسب طرز عمل پر عمل کرنے کی اپیل کی ، ۔انہوں نے کہا کہ تقریبا 60 ÷ 45سال سے زیادہ عمر کی آبادی کو ٹیکہ لگایا گیا ہے اور دوسروں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس ویکسین کے لئے آگے آئیں ۔
ہائی رسک گروپس کیلئے 3 دن کی خصوصی مہم میں 14899 ٹیکے لگائے گئے
کٹھوعہ میں صحتیابی کی شرح 88.59 فیصد ، مثبت شرح 2 فیصد سے کم ہو گئی:ڈی سی
کٹھوعہ // ڈپٹی کمشنر کٹھوعہ راہول یادو نے کہا کہ ضلع میںکووڈ مثبت واقعات میں مسلسل کمی ہورہی ہے اور چند ہفتوں پہلے 10 فیصدکے برعکس مثبت شرح کم ہوکرقریب 2 فیصد رہ گئی ہے۔وہ کووڈ کی موجودہ صورتحال اور اس پھیلاؤ پر قابو پانے کے اقدامات کے بارے میں پریس سے خطاب کررہے تھے ۔انہوںنے ضلع میں ویکسی نیشن کو تیز کرنے کے لئے کیے جانے والے اقدامات کا بھی مختصر بیان دیا۔ڈی سی نے انکشاف کیا کہ ضلع میںصحتیابی کی شرح 88.59فیصد درج کی گئی ہے جو ایک ہفتے کے اندر 6 فیصد سے زیادہ کی بہتری ظاہر کرتی ہے۔راہول یادو نے بتایا کہ 45سال سے زیادہ عمر کے زمرے کے تحت اب تک ٹارگٹ گروپ کے 71.69 فیصدکو ٹیکہ لگایا گیا ہے جبکہ آخری 3 دن میں 18-45 سال سے کم عمر گروپ کے 14899 افراد کو ٹیکے لگائے گئے ہیں جس میں دکاندار ،چھاپڑی فروش ، صحافی ، معذور ، رجسٹرڈ تعمیراتی کارکن ، سرکاری ملازمین شامل ہیں۔ڈی سی نے کہا کہ ٹیکہ کاری کو تیز کرنے کے لئے خصوصی طور پر بسوہلی اور بنی کے پہاڑی علاقوں میں خصوصی ٹیکہ کاری مہم چلائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنی کے ان کے حالیہ دورے کا مقصد مقامی پی آرآئی اور مذہبی رہنماؤں کی مدد سے لوگوں کو ٹیکہ کاری کے بارے میں انکے شکوک شبہات کو دور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ ہدف آبادی کو فائدہ پہنچانے کے لئے ٹیکہ کاری کے مزید مراکز کھولنے کی بھی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے بنی اور بسوہلی کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ قریبی ٹیکہ کاری مراکز کا دورہ کریں اورٹیکے لگوائیں۔دیہی کووڈ کیئر سنٹروں کے افتتاح پر ڈی سی نے کہا کہ تمام 257 پنچایتوں نے 5 بستر والے کووڈ کیئر سنٹرز قائم کیے ہیں اور جلد از جلد ایسے ہر مرکز کو کم از کم ایک آکسیجن بستر سے آراستہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
زنانہ کالج گاندھی نگر میں ٹیکہ کاری مہم اختتام پذیر
جموں//گورنمنٹ پی جی کالج برائے خواتین گاندھی نگر میں دو روزہ کووڈ ٹیکہ کاری مہم اختتام پزیر ہوگئی۔ اس مہم کا انعقاد کلسٹر یونیورسٹی کے تمام حلقہ کالجوں کی تدریسی اور غیر تدریسی اساتذہ کو ٹیکس لگانے کے لئے ضلعی انتظامیہ جموں کے تعاون سے محکمہ ہائیر ایجوکیشن جموں و کشمیرنے کیا تھا۔اس مہم میں کل 750 فیکلٹی ممبروں کو ٹیکے لگائے گئے۔ مہم کے دوران ڈپٹی کمشنر انشول گرگ اور راکیش بڈھیال ، ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ اعلی تعلیم نے بھی دورہ کیا اور حفاظتی ٹیکوں کے بوتھ پر انتظامات کا معائنہ کیا۔
کووڈ ایس او پیزکی خلاف ورزی پر جرمانہ | 310 ٹیکے لگائے گئے ، 1010 نمونے حاصل
رام بن//ضلع رام بن میں کووڈ پروٹوکول کے نفاذ کے لئے مہم کو جاری رکھتے ہوئے انفورسمنٹ ٹیموں نے چہرے کے ماسک پہنے بغیر گھومنے اور جسمانی فاصلہ برقرار نہ رکھنے کے لئے متعدد افراد پر جرمانہ عائد کردیا۔انفورسمنٹ ٹیموں نے اپنے اپنے دائرہ اختیارات میں معائنہ کے دوران9000 روپے جرمانہ وصول کیا ۔انفورسمنٹ افسران نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ چہرے کے ماسک پہنیں اور جسمانی فاصلہ برقرار رکھیں اس کے علاوہ وہ اپنے قریبی سی وی سی میں کوویڈ ویکسی نیشن کی خوراکیں لیں۔ ڈسٹرکٹ امیونائزیشن آفیسر رام بن ڈاکٹر سریش نے بتایا کہ جمعہ کے روز ضلع رام بن میں 310 افراد کو پہلی اور دوسری کوویڈ ویکسین کی خوراکیں فراہم کی گئیں۔چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر محمد فرید بھٹ کی طرف سے جاری کردہ روزانہ بلیٹن کے مطابق محکمہ صحت نے 1010 نمونے جمع کیے ہیں جن میں 254 آر ٹی-پی سی آر اور 756 آر اے ٹی نمونے شامل ہیں ۔اس کے علاوہ ضلع میں ٹیکہ لگانے والے مراکز میں 310 افراد کو کوڈ ویکسین فراہم کی گئی ہے۔
ا دھم میں کیمیکل فیکٹری مکمل طور پر خاکستر، کوئی جانی نقصان نہیں
جموں//ادھم پور کے باتل علاقے میں دوران شب آگ کی ایک واردات میں ایک کیمیکل فیکٹری خاکستر ہوگئی تاہم اس واردات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ ضلع اودھم پور کے باتل علاقے میں ‘دھنوکہ کیمیکل فیکٹری’، جو سی آر پی ایف کی 187 بٹالین کے کیمپ کے متصل قائم ہے ، میں جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب آگ نمودار ہوئی جس کے شعلوں نے چشم زدن میں پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔انہوں نے بتایا کہ فائر ٹنڈرس کے پہنچنے سے قبل فیکٹری خاکستر ہوئی تھی۔دریں اثنا محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی کے ایک عہدیدار نے کہا کہ آگ پر صبح کے قریب ساڑھے چار بجے قابو پالیا گیا۔انہوں نے کہا کہ آگ بجھانے کے لئے سات گاڑیوں کو کام پر لگا دیا گیا۔موصوف کا کہنا تھا کہ آگ بجھانے کے لئے انڈین ائر فورس کی خدمات بھی طلب کی گئی کیونکہ فیکٹری میں موجود کیمکلز سے کافی بڑے شعلے اٹھ رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ آگ سے گرچہ فیکٹری کو بے تحاشا نقصان پہنچا ہے تاہم اس واردات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ٹھاٹھری کلہوتران شاہراہ پر ملکپورہ کے نزدیک پل کی مرمت شروع
ٹریفک کی آمدورفت پرلگی روک ، 5 دن تک ملتوی رہنے کا امکان
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ٹھاٹھری کلہوتران شاہراہ پر ملکپورہ کے نزدیک خستہ حال پل کی ازسر نو مرمت کا عمل آج سے شروع ہو گی جس کے باعث شاہراہ پر ٹریفک بحال کرنے میں 4/5دن کا وقت لگ سکتا ہے۔اس دوران انتظامیہ نے لوگوں سے غیر ضروری سفر کرنے سے احتیاط کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے ایمرجنسی سروسز کے لئے محکمہ صحت سے دونوں اطراف سے ایمبولینس گاڑیاں دستیاب رکھنے کی ہدائت دی۔ایس ڈی ایم گندوہ ڈاکٹر پریتم لال تھاپا کی جانب سے جاری ایک حکمنامہ میں پل کی ازسر نو مرمت کے لئے آج سے یکم جون تک ٹریفک بند رکھنے کی ہدائت دیتے ہوئے ایس ڈی پی او سے دونوں طرف سے پولیس کی خصوصی دستوں کی تعیناتی کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔انہوں نے تعمیرات عامہ کو 24×7 کام جاری رکھنے و بی ایم او کو دونوں اطراف سے دو دو ایمبولینس گاڑیاں دستیاب رکھنے کی ہدائت دی۔ واضح رہے کہ مطابق ستر کی دہائی میں تعمیر بیس میٹر لمبا پل سب ڈویڑن گندوہ کو بیرونی دنیا سے جوڑنے کا واحد ذریعہ ہے.اور متعدد بار اس پل کو لے کر کشمیر عظمیٰ نے بھی ملٹی میڈیا و اخبار کے ذریعے یہ معاملہ ابھارا جس کے بعد انتظامیہ نے اس کی مرمت کا عمل شروع کیا۔
بد ناڑ نالہ پر قائم عارضی پل لوگوں کیلئے موت کا کنواں
برسہا برس سے زیر تعمیر اصلی پل مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا
زاہد ملک
مہور// سب ڈویژن مہور کے بدناڑ نالہ میں لوگوں کو عبور و مرور میں کافی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ اس نالہ میں ایک بہت بڑا دریا گزرتا ہے جس کے اپر ایک لکڑی کا عارضی پل بنایا گیا ہے۔ شام کے وقت اس لکڑی کے پل کے اوپر سے پانی بہتا ہے جس دوران لوگوں کو عبور کرنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس پل سے ہی اڑبیس،نہوچ،شبراس کے لوگ گزرتے ہیں جنہیں کافی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔لوگوں نے یہ بھی کہا کہ اس پل سے عبور کرتے وقت کافی لوگوں کی جانیں ضائع بھی ہوئی ہیں۔مقامی ایک نوجوان زاہد مرزا نے کشمیر عظمی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس نالہ پر ایک گاڑیوں کا پل بھی تعمیر ہورہا ہے لیکن وہ گزشتہ کئی برسوں سے زیر تعمیر ہے اور مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ پل تعمیر ہوتا پیدل چلنے والے لوگوں کو بھی راحت ملتی اور انسانی جانیں ضائع نہیں ہوتیں۔مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے مانگ کی ہے کہ بدناڑ نالہ پرزیر تعمیر پل کا کام فوری طور مکمل کیا جائے۔
سانبہ میںانسداد تجاوزات مہم | کرشی وگیان کیندرا کی400کنال اراضی بازیاب
سانبہ// ضلعی انتظامیہ سانبہ نے سانبہ ٹاؤن شپ کے نواح میں انسداد تجاوزات کی ایک زبردست مہم چلائی اور 400 کنال سرکاری اراضی حاصل کی۔ڈپٹی کمشنر انورادھا گپتا کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر ریونیوجتیندر مشرا کی سربراہی میں انسداد تجاوزات ٹیم صبح سویرے موقع پر پہنچی اور متعدد جے سی بی مشینوں کو کام پر لگایا تاکہ وہ بڑی تعداد میں عارضی اور مستقل ڈھانچے کو ختم کریں جن میں فرش ، دیوار کی حدود ، کنکریٹ آر سی سی ، شیڈ ، خاردار تاریں، کھمبے ، دکانیں اور دیگرڈھانچے شامل تھے۔اسسٹنٹ کمشنر ریونیو نے انسداد تجاوزات مہم کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ کرشی وگیان کیندرا سانبہ کی سرکاری اراضی کو 6 گھنٹے طویل انسداد تجاوزات مہم کے بعد دوبارہ حاصل کیا گیا۔ اے سی آر سانبہ نے کہا "گاؤں ارازی میں خسرہ نمبر 1 ، گاؤں بیری کے خسرہ نمبر 1 ، گاؤں سملہ کے خسرا نمبر 44 اور گاؤں منانو کے خسرا نمبر79میں399کنال اور14مرلہ سرکاری اراضی کو ہر قسم کے تجاوزات سے پاک کردیا گیا "۔موقع پر پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات تھی جبکہ جے سی بی متعدد ڈھانچے کو ختم کررہے تھے۔مہم کے دوران موجود کے وی کے کے افسران کو بازیاب شدہ اراضی کا قبضہ حوالے کردیا گیا۔ یہ توقع کی جاتی ہے کہ اس ضلع کوسانبہ ضلع میں زرعی بہترین طریقوں کے فروغ کے لئے استعمال کیا جائے گا۔
جموںسرینگر قومی شاہراہ کا فور لینگ پروجیکٹ
ڈی سی رام بن کا توسیعی کام کی پیشرفت اور موجودہ سڑک کی تجدید کا معائنہ
رام بن// ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام نے ایک میٹنگ میں موجودہ ہائی وے پر بحالی اورمیکڈمائزیشن کے کام کے علاوہ این ایچ 44 فور لینگ کے وقاری منصوبے پر پیشرفت کا جائزہ لیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (کلکٹر نیشنل ہائی وے) ہربنس لال، پروجیکٹ ڈائریکٹر این ایچ اے آئی پرشوتم کمار، پراجیکٹ ڈائریکٹر گیمون کمپنی ، متعدد دیگر سینئر افسران اور تعمیراتی کمپنیوں کے نمائندوں کے علاوہ مقامی ٹھیکیداروں نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ڈی سی نے جموں سرینگر قومی شاہراہ کو ناشری رام بن اور رام بن بانہال حصوں سمیت چار راستوں پر سیکشن وار پیشرفت کا جائزہ لیا ، اس کے علاوہ ترقی کی رفتار میں رکاوٹ بننے والے مقامی امور کا بھی جائزہ لیا۔کچھ مقامی امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ڈی سی نے تعمیراتی ایجنسیوں کو ہدایت کی کہ وہ مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر اسے حل کریں۔ انہوں نے انہیں ہدایت کی کہ وہ جاری قومی منصوبوں میں مقامی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے لیفٹیننٹ گورنر کی ہدایت پر عمل کریں۔ڈی سی نے تعمیراتی ایجنسیوں کو ہدایت کی کہ وہ ناشری سے بانہال تک میکڈمائزیشن کا کام مکمل کریں اور حادثات کو کم کرنے کے لئے تمام خطرے سے دوچار مقامات پر کریش بیریئر لگائیں اور تمام اہم مقامات پر این ایچ 44 کی مناسب دیکھ بھال کرکے ٹریفک کے لئے آسانی سے گزرنے کو یقینی بنائیں۔بعدازاں ڈی ڈی سی چیئر پرسن رام بن شمشاد شان بھی اجلاس میں شامل ہوئیں اور لوگوں کی سہولت کے لئے فور لینگ منصوبے کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا۔اس سے قبل تعمیراتی ایجنسیوں کے نمائندوں نے پیشرفت کی رفتار میں رکاوٹیں پیدا کرنے میں رکاوٹوں اور امور کو اجاگر کیا۔ ڈی سی نے متعلقہ ایجنسیوں کو ہدایت جاری کرکے موقع پر ہی بیشتر مسائل حل کردیئے۔قومی شاہراہ کو وسیع کرنے کے منصوبے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈی سی نے تعمیراتی ایجنسیوں کو ضلعی انتظامیہ کی طرف سے قومی منصوبے کو جلد سے جلد مکمل کرنے کے لئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
جاکیڈا نے جموں و کشمیر میں 2200 شمسی سٹریٹ لائٹس لگائیں
جموں//مرکزی وزارت نئی اور قابل تجدید توانائی (ایم این آر ای)نے جموں و کشمیر کے حق میں 19000 شمسی اسٹریٹ لائٹس (ایس ایس ایل) کی منظوری دے دی ہے جس کے مرکزی مالی معاونت کے ساتھ 47.84 کروڑ روپئے کی لاگت کے منصوبے کی لاگت کے مقابلے میں 47.06 کروڑ روپئے ہیں۔ باقی پروجیکٹ لاگت 5.78 کروڑ روپئے ہے جو جموں و کشمیر UT فراہم کرے گی۔اس منصوبے کو جموں وکشمیر انرجی ڈویلپمنٹ ایجنسی (جاکیڈا) ، محکمہ سائنس اور ٹکنالوجی کے پرنسپل سکریٹری ، ایس اینڈ ٹی ڈیپارٹمنٹ ، الوک کمار کی فعال مدد سے نافذ کیا جارہا ہے اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جاکیڈا ببیلا رکوال کی ہدایات کو یقینی بنانے کے لئے کہ جموں و کشمیر کی ضلعی انتظامیہ کے مشورے سے عوامی مقامات پر سولر اسٹریٹ لائٹس کو تیزی سے نصب کیا جاتا ہے۔منظور شدہ مقدار میں سے ، جموں و کشمیر کے ہر ضلع کو 950 ایس ایس ایل فراہم کیے جارہے ہیں۔ گذشتہ مالی سال کے دوران ، جموں و کشمیر کے 12 اضلاع میں 9107 نمبر ایس ایس ایل کو جاکیڈا نے نصب کیا تھا۔موجودہ مالی سال کے دوران ، جموں و کشمیر کے بقیہ اضلاع میں باقی دو ماہ کے باقی وقت میں 9893 ایس ایس ایل کی توازن کو انسٹال کرنے کی تمام کوششیں کی جارہی ہیں۔جاکیڈا نے 45 دنوں کے قلیل عرصہ میں 2200 ایس ایس ایل ، ریاسی میں 285 ایس ایس ایل ، کشتواڑ میں 206 ، رام بن اور جموں ڈویژن کے دیگر اضلاع میں 230 اور کولگام میں 565 ایس ایس ایل کے ساتھ نصب کرنے میں کامیاب کیا ہے۔ کووڈ 19 وبائی امراض سے متعلق تمام ایس او پیز پر عمل کرنے کے بعد اننت ناگ میں 499 ، بانڈی پورہ اور کشمیر ڈویژن کے دیگر اضلاع میں 159لائٹس تقسیم کی گئیں۔
جموں کے سیاحتی سیکٹر کے لوگوں کا ریلیف پیکیج کا خیرمقدم
جموں//سیاحت کے اسٹیک ہولڈرز نے لیفٹیننٹ گورنر جے اینڈ کے کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے 2,63,64,000 روپے کے اضافی پیکیج میں توسیع کی جو جموں خطے میں پونی والا ، پالکی والا ، شکار والا ، بوٹ والا ، اونٹ والا وغیرہ کو ملے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ، ابتدائی طور پرسیاحت سیکٹر اسٹیک ہولڈرز کے لئے مالی اعانت کے طور پر 1.68 لاکھ کا اعلان کیا گیا تھا۔ کووڈ – 19 وبائی امراض کے نتیجے میں ، سیاحت کا شعبہ جو جموں و کشمیر کی سب سے بڑی آمدنی پیدا کرنے والی صنعت میں سے ایک ہے ، کو بھاری نقصان ہوا ہے۔ اس شعبے میں بہت سارے موسمی ، پیشہ ور ، جز وقتی اور عارضی ملازمین کام کرتے ہیں۔ آنے والے کئی مہینوں تک جاری رہنے والے بحرانوں کے اثرات کے ساتھ ، براہ راست یا بالواسطہ صنعت سے وابستہ ملازمتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیفٹیننٹ گورنرجموں و کشمیر کا یہ اقدام متوازن اقدام ہے اور وقت کی ضرورت تھا۔ امدادی پیکیج میں باقی رہ چکے951 پونی والا ، پالکی والا ، پٹھو والا وغیر،ویشنو دیوی شرائن بورڈ کے دفتر میں رجسٹرڈ ہیں،نیز کٹرہ میونسپل کمیٹی کے دفتر میں رجسٹرڈ 12202 پونی والا ، پٹیوالہ ، پٹھو والا کی قابل ذکر تعداد کو ان کا واجباتی حصہ ملے گا۔ امدادی رقم میں 18 شکار والا / پیڈل بوٹ مالکان اور 11 پونی والا / اونٹ والا بھی شامل ہیں جو محکمہ سیاحت کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ڈائریکٹر ٹورازم جموں نے لیفٹیننٹ گورنر ، فنانشل کمشنر فنانس ڈیپارٹمنٹ ، لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سکریٹری اور سکریٹری ٹورازم اینڈ کلچر کا کوڈ 19 پینڈیمک کے تناظر میں سیاحت کے اسٹیک ہولڈرز کے پیکیج کا اعلان کرنے پر ان کا مشکور (بی کے) کا شکریہ ادا کیا۔ حتمی طور پر ، یہ معاشی پیکیج حجم اور رساء کے لحاظ سے تاریخی ہے۔ اس سے انتظامیہ میں مقامی نوجوانوں کے اعتماد اور اعتماد کو بحال کرنے میں مدد ملے گی۔