اشتعال انگیز ویڈیو شیرکرنے کا شاخسانہ | گاندربل کا شہری کشتواڑ میں گرفتار
عاصف بٹ
کشتواڑ //کشتواڑ پولیس نے سماجی رابطہ کی وئب گاہوں پر اشتعال انگیز ویڈیو اپ لوڈ کرنے کی پاداش میں گاندربل کے ایک شہری کی گرفتاری عمل میں لائی ہے ۔جمعہ کے روز رات دیر گئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو گردش کر رہا تھا جس میںکچھ افراد کو جانوار ذبح کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا ۔ ویڈیو کلپ کی حساسیت اور علاقے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے معاملے کو دیکھتے ہوئے پولیس نے قانون کے متعلق متعدد دفعات کے تحت پولیس تھانہ کشتواڑ میں ایف آئی آر نمبر 167 /2021 درج کرنے کے بعد سائبر سیل کو متحرک کیاگیا اور ملزم کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل دی گی۔ جسکے بعد پولیس نے دوگھنٹوں کے اندر منظور احمد رینہ ولد غلام نبی رینہ ساکن خانان کنگن گاندربل کو ڈول سے گرفتار کرلیا ۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ویڈیو ضلع گاندربل میں بنائی گی ہے اور ملزم نے اس ویڈیو کو اپنے موبائل نمبر پر واٹس ایپ میں میری پہچان اسٹیٹس سے اپلوڈ کیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ یہ شخص پن بجلی پاور پروجیکٹ میں بطور اوپریٹر کام کرتا ہے جو چند روز قبل عید منانے کیلئے اپنے گھر گاندربل گیا ہوا تھا جہاں اس نے اس ویڈیو کو اپنے وٹس ایپ پر شیئر کیا ۔پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی ویڈیو شیئر نہ کریں جس سے علاقے میں امن وامان و فرقہ وارانہ ہم آہنگی خراب ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔
واڑون میں خاتون کی خودسوزی | بروقت علاج نہ ملنے کے سبب موت
عاصف بٹ
کشتواڑ // واڑون میں سنیچر کو مقامی خاتون نے خودسوزی کی کوشش کی جسکے بعد اُسے نزدیکی سی ایچ سی سنٹر لایا گیا لیکن وہاں ڈاکٹر کی غیر موجودگی کے سبب اس کی موت واقع ہو گئی ہے ۔ مقامی لوگوں نے حکام پر الزام عائد کیا ہے کہ اگر اس دور افتادہ علاقوں میں پی ایچ سی اور سی ایچ سی سنٹرقائم ہیں لیکن ان میں ڈاکٹر ہی دستیاب نہیں ہیں اور نتیجے کے طور پر ابھی تک سینکڑوں جانیں تلف ہو چکی ہیں ۔ مقامی لوگوں نے بتایا اگر ہسپتال میں ڈاکٹر موجود ہوتا تو اسکی جان کو بچانے کی کوشش کی جاتی اور یہ بچ بھی سکتی تھی لیکن بدقسمتی سے ان سنٹروں سے عملہ ہی غائب رہتا ہے ۔ مقامی لوگوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں طبی عملہ کو کام کیلئے پابند بنایا جائے تاکہ عوام کو مشکلات کا سامنا نہ
کرنا پڑے ۔
ریاست کی بحالی ہی تنہا لوگوں کی امنگوں کو پورا کر سکتی ہے : بلوان سنگھ
جموں //پی سی سی کے جنرل سکریٹری بلون سنگھ نے مرکز سے مطالبہ کیا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے درجہ کو بحال کیا جائے ۔جموں وکشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی جموں وکشمیر کے لوگوں کو ضرورت ہے ۔ بلون سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی حیثیت کو UT میں میں تبدیل کرنے سے یہاں کے لوگوں کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں اور مرکزی کو ریاست کی بحالی پر فوری طور اقدام اٹھانے چاہیں ۔وزیر اعظم اور وزیر داخلہ امیت شاہ کو ریاست کی بحالی کے وعدے کی یاد دلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے وعدے کا لحاظ اور اس پر عمل کرنا چاہئے ۔ان باتوں کا اظہار بلون سنگھ نے کانگریس کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔مڑہ اسمبلی حلقہ میں منعقد ہونے والی میٹنگ میں موجود تمام شرکاء نے بلون سنگھ سے اتفاق کیا کہ ریاست ہی تنہا لوگوں کی امنگوں کو پورا کرسکتی ہے اور جمہوریت میں اعتماد بحال کرسکتی ہے۔اس موقع پر خطاب کرنے والے دیگر افراد میں بلاک صدور سوداگر سنگھ ، اشونی شرما اور کارپوریٹر راچپال بھاردواج ، اشوک بھگت ، کانگریس کے سینئر لیڈر اورسرپنچ جگدیش بھگت شامل ہیں ۔بلون سنگھ نے اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں روز بروز اضافے کی وجہ سے عام لوگوں کو درپیش مشکلات پر بھی روشنی ڈالی ۔انہوں نے کہا کہ عام لوگ پریشانی کا شکار ہیں اور بی جے پی حکومت قیمتوں میں کمی کے حوالے سے کوئی بھی بہتر اقدامات نہیں اٹھا رہی ہے ۔
جموں میں بڑھتے جرائم
شیوسینا نے ’تحفظ جمو ں ‘کے عنوان سے پروگرام کا اہتمام کیا
جموں // شیوسینا بالا صاحب ٹھاکرے جموں وکشمیر یونٹ کے رہنماؤں نے جموں شہر میں بڑھتے ہوئے جرائم اور چوری کے واقعات پر تشویش کا اظہارکیا ہے ۔یونٹ کی جانب سے ریاستی دفتر میں ’تحفظ جموں‘کے عنوان سے منعقدہ ایک خصوصی پروگرام کے دوران رہنمائوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ جموں جسے مندروں کا شہر کہا جاتا ہے وہاں پر جرائم کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ یکجہتی کے ساتھ پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے کہا کہ جموں اور اس کے مضافاتی علاقوں میں بیرونی علاقوں سے آنے والے افراد کو بغیر کسی پولیس کی تصدیق کے کیمپ لگانے کی اجازت دی گئی ہے اور یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ جموں میں جرائم بڑھ رہے ہیں۔ پارٹی کے ریاستی صدر منیش نے ’تحفظ جموں‘ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد کی پولیس تصدیق اور کیمپ لگانے کیلئے پولیس کی پرمیشن انتہائی ضروری ہے کیونکہ ایسے افراد جرم کرنے کے بعد بغیر کسی آسانی سے یہاں سے فرار ہو سکتے ہیں ۔اس موقعہ پر دیگر رہنمائوں نے بھی خطاب کیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماحولیات کی حفاظت کیلئے شجرکاری ضروری
ڈی سی سانبہ نے’ماحولیاتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی
سانبہ // ضلع ترقیاتی کمشنر سانبہ نے اتوار کو ڈسٹرکٹ ماحولیاتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرنے کے دوران کہا کہ ارد گرد کے ماحول کو صاف ستھرا بنانے کیلئے مون سون کے موجودہ موسم میں بڑے پیمانے پر شجرکاری کی جائے ۔وہ یہاں ضلعی ماحولیاتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کررہی تھے جس میں ضلعی ماحولیاتی منصوبے پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا تھا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے اس دوران اس منصوبہ کے بارے میں مکمل تفصیلات پیش کیں ۔ڈی سی جو کہ ضلع ماحولیاتی کمیٹی کے چیئرپرسن بھی ہیں ،نے مختلف محکموں کی حاصل کردہ پیشرفت کا جائزہ لیا اور ڈسٹرکٹ افسران سے گزارش کی کہ وہ ٹھوس فضلہ کو ٹھکانے لگانے کوڑا کرکٹ کو اکٹھا کرنے اور شہروں اور قصبوں میں الودگی کو کم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں ۔انہوں نے کہا کہ شجر کاری کا موسم ہے اور مون سون میں شجرکاری کر کے اپنے آس پاس کے ماحول کو صاف ستھر رکھنے میں لوگوں کی مدد کریں۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ریونیو ، جنرل منیجر ڈی آئی سی ،اسسٹنٹ کمشنر ڈویلپمنٹ ، اسسٹنٹ کمشنر پنچایت ، ڈویڑنل فارسٹ آفیسر ، چیف میڈیکل آفیسر ، ڈسٹرکٹ آفیسر و دیگر ممبران موجود تھے۔
ڈوڈہ ضلع میں ہفتہ وار کورونا کرفیو دوسرے روز بھی نافذ رہا
نجی کاروباری ادارے بند رہے ،سیول سوسائٹی نے بندشیں ہٹانے کا مطالبہ کیا
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع میں مسلسل دوسرے روز ہفتہ وار کورونا کرفیو نافذ رہا جس دوران نجی کاروباری ادارے و عوامی ٹرانسپورٹ معطل رہا۔ اطلاعات کے مطابق اتوار کے روز مسلسل دوسرے روز ڈوڈہ، بھدرواہ ،ٹھاٹھری ،گندوہ و عسر میں ہفتہ وار کورونا کرفیو کے پیش نظر دوکانیں بند رہیں اور عوامی ٹرانسپورٹ معطل رہا تاہم سبزی، چکن، گوشت و دودھ سپلائی کرنے والی دوکانیں گیارہ بجے تک کھلی رہیں اور ایمرجنسی سروسز بحال رہیں۔ایس او پیز پر عمل کرنے و امن و قانون کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے پولیس و سیکورٹی فورسز کی نفری بھی تعینات رہی۔ اس دوران سیول سوسائٹی، بیوپار منڈل و مزدور پیشہ افراد نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈوڈہ ضلع میں کورونا کیسز بہت کم آرہے ہیں اور پہلے ہی عرصہ ڈیڑھ برس سے ان کا کاروبار ٹھپ ہوا ہے لیکن ہفتہ میں دو بار دوکانیں بند رہنے سے سینکڑوں کنبے متاثر ہو رہے ہیں۔ عبد العزیز نامی ایک دوکاندار نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ 80 فیصدی چھوٹے کاروباری دن کو کما کر اپنے اہل و عیال کی ضروریات پوری کرتے ہیں لیکن مسلسل لاک ڈاؤن سے ایسے افراد بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔سیول سوسائٹی نے لیفٹیننٹ گورنر سے ڈوڈہ ضلع سے ہفتہ وار کورونا کرفیو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے چھوٹے کاروباری اشخاص کیلئے مالی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حالیہ دنوں کی تباہ کن بارشیں
ڈوڈہ کے بالائی علاقوں میں فصلوں و پھلوں کو بھاری نقصان، معقول امداد کی فراہمی کا مطالبہ
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ کے بالائی علاقوں میں گذشتہ دنوں ہوئی بارشوں سے فصلوں و پھلوں کا بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے جس کے نتیجے میں کسان و زمیندار پریشان ہیں۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے بھلیسہ، کاہرہ، بونجواہ و چرالہ سے آئے ایک وفد نے کہا کہ پہلے ہی درجہ حرارت میں اضافہ ہونے سے چشمے سوکھ گئے تھے لیکن حالیہ دنوں کی تباہ کن بارشوں سے فصلوں، پھلوں و سبزیوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔وفد میں شامل چوہدری محمد امین نے کہا کہ ڈوڈہ ضلع میں 90 فیصدی لوگوں کا گذر بسر زمینداری پر منحصر ہے اور اب کچھ عرصہ سے قصبوں کے ساتھ ساتھ دیہاتوں میں بھی لوگ باغبانی کو فروغ دے رہے تھے، تاہم تباہ کن سیلاب سے مکی کی فصل و پھلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ایک اور شخص بال سنگھ نے کہا کہ کوؤڈ 19 کی وجہ سے پہلے ہی لوگوں کا روزگار چھن گیا ہے اور اب بیشتر افراد اپنی زمینوں میں ہی محنت و مزدوری کر کے روزگار کے وسائل تلاش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مقامی و ضلع انتظامیہ سے متاثرہ علاقوں میں خصوصی ٹیمیں روانہ کرکے نقصانات کا تخمینہ لگاکر متاثرین معقول مالی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈوڈہ میں کورونا کے 3نئے معاملات درج
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع سے اتوار کو کورونا وائرس کے صرف 3 نئے مثبت معاملات سامنے آئے ہیں اور 11 مریض صحتیاب ہوئے ہیں. اطلاعات کے مطابق اتوار کے روز ڈوڈہ، بھدرواہ، ٹھاٹھری ،گندوہ و عسر میں ہوئی کوؤڈ جانچ کے دوران تین افراد کی ٹیسٹ رپورٹ مثبت آئی ہے جنہیں ہوم قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اور گیارہ مریض شفایاب ہوئے ہیں۔ضلع میں فعال کیسوں کی تعداد سمٹ کر 78 رہ گئی ہے اور شفایاب ہوئے مریضوں کی مجموعی تعداد 6984 پہنچ گئی ہے ۔ضلع میں اب تک کورونا وائرس سے 124 افراد فوت ہوئے ہیں۔ 184994افراد کو ٹیکے لگائے گئے ہیں.۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گول میں محکمہ پی ڈی ڈی کی حالت نہیں سدھری
اکیسویں صدی میں بھی تاریں سبز درختوں اورعارضی کھمبوں پرلٹکتی ہیں
زاہدبشیر
گول//بجلی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے سب ڈویژن گول میں محکمہ پی ڈی ڈی کی جانب سے کروڑوں روپے خرچ کئے گئے ہیںلیکن اب بھی ترسیلی لائنیں سرسبز درختوں اورعارضی کھمبوں پرلٹکتی ہوئی ہیں۔ اس طرح کی حالت پورے سب ڈویژن گول میں ہے۔ اندھ ماسوا۔گول کے دسل پورہ ودیگر علاقوں میں بجلی کی ترسیلی لائنوں کی حالت نہایت ہی ابتر ہے کئی جگہوں پرلوہے کی تاریں لگاکر لوگوں کوبجلی فراہم کی گئی ہے۔ کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے ماسوا وارڈ نمبر تین کے مقامی لوگوں نے کہاکہ بجلی کی ترسیلی لائنوں سے لوگوں کوکافی خوف ہے کیونکہ آج کل کے موسم میں یہ لائنیں سرسبز درختوں سے جڑی ہوئی ہیں کسی بھی وقت جان لیواحادثہ پیش آسکتاہے۔انہوں نے کہاکہ محکمہ سے باربار استدعا کرنے کے باوجود کوئی نتیجہ برآمدنہیں ہوسکا۔ ماسوا کے لوگوں کاکہناہے کہ ایک سال قبل بھی محکمہ بجلی کے خلاف لوگوں نے احتجاج کیالیکن اس کے باوجودمحکمہ نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ انہوں نے گورنرانتظامیہ سے مطالبہ کیاکہ یہاں پربجلی کے کھمبے لگائے جائیں تاکہ کوئی جان لیواحادثہ پیش نہیں آ سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تعمیراتی کمپنی نے آتشزدگی متاثرین کی مدد کی
محمد تسکین
بانہال // بانہال قصبہ کے عقب سے فورلین بائی پاس کا حال ہی میں ٹینڈر لینے والی کمپنی ایم جی کنسٹریکشن پرائیویٹ لمیٹڈ کے افسروں اور اہلکاروں نے ہجوا کھڑی کے آتشزدگی متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کیا۔ انہوں نے متاثرہ 32 کنبوں میں آٹا ،چاول اور تیل وغیرہ کے بیگ تقسیم کئے۔ ان کے ہمراہ ایس ایچ او کھڑی ظہیر اقبال ، محکمہ مال کے پٹواری جاوید احمد ، سماج کارکن فیاض احمد سرخ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر کلدیپ کمار رینہ اور محمد اسحاق بھی موجود تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھدرواہ میں نامعلوم لاش ملی
طاہر ندیم
بھدرواہ // اتوار کی شام گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول بھدرواہ کے قریب ڈرین سے ایک نامعلوم مرد کی لاش پڑی ہوئی ملی ہے۔مقامی لوگوں نے پولیس کی مدد سے لاش کو ایس ڈی ایچ بھدروہ منتقل کر دیا ہے ۔عینی شاہدین کے مطابق لوگوں نے جب لاش کو ہسپتال پہنچایا تو وہاں ڈاکٹروں نے اس کو مردہ قرار دیا ۔ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ یہ پہلے سے ہی مر چکا ہے ۔اطلاعات کے مطابق اگر اس شخص کی شناخت ہو جاتی ہے تواس کا پوسٹ مارٹم آج کیا جائے گا۔ایس ایچ او بھدرواہ جتندر سنگھ نے بتایا کہ ہم لاش کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیںتاکہ اس کا پوسٹ ماٹم کیا جا سکے ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ’’اگر کوئی شخص انہیں جانتا ہے تووہ اس سے متعلق پولیس اسٹیشن بھدرواہ کو آگاہ کریں ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہم شناخت کیلئے نوٹس بھی جاری کریں گے ۔