مینڈھرمیں جھانکی کااہتمام
جاوید اقبال
مینڈھر//مینڈھر قصبہ میں شیوراتری کے موقع پر شیو مندر مینڈھر سے ایک جھانکی نکالی گئی جس میں بڑی تعداد میں ہندو برادری کے علاوہ مسلمان لوگوں نے بھی شرکت کی اس دوران شیوراتری کے موقعہ پر نکالی گئی ریلی مینڈھر قصبہ سے ہوتی ہوئی واپس ہنومان مندر پہنچی جبکہ جھانکی نکالنے کے دوران مینڈھر بازار مذہبی نعروں سے گونجتا رہا اس دوران کئی جگہوں پر مذہبی تقریروں کا بھی انعقاد کیا گیا جبکہ جھانکی کے دوران مینڈھر قصبہ میں بڑی تعداد میں پولیس تعینات رہی تاکہ کسی بھی قسم کا کوئی نا خوشگوار واقع پیش نہ آئے۔اس دوران ایس ڈی ایم مینڈھر ،تحصیلدار مینڈھر ، ایس ایچ او مینڈھر کے علاوہ لیبر یونین کے صدر عبد المجید چوہدری،ستیش کمار،پروین کمار ساہنی صدر بپار منڈل مینڈھر کے علاوہ کئی معززین لوگ موجود تھے۔
تحصیل سرنکوٹ میں غیر اعلانیہ کٹوتی کی وجہ سے لوگ پریشان
بختیار حسین
سرنکوٹ //محکمہ بجلی کی جانب سے تحصیل سرنکوٹ میں گذشتہ شب سے غیر اعلانیہ کٹوتی سے لوگوں کومشکلات کاسامناکرنا پڑرہاہے۔تفصیلات کے مطابق محکمہ بجلی کی غیر اعلانیہ بجلی کٹوتی لوگوں کے لئے وبال جان بن چکی ہے جس کی وجہ سے متعلقہ محکمہ کے تئیںلوگوں میں کافی ناراضگی پائی جا رہی ہے۔تحصیل سرنکوٹ کے تمام علاقے جن میں چندی مڑھ، سیلاں ، بفلیاز ،درآبہ، سنئی ،سانگلہ ،کنی کھوڑی،دھندک ،پوٹھہ بہرام گلہ اوردیگر کئی سارے علاقوں میں محکمہ نے غیر اعلانیہ کٹوتی کی جس سے لوگوں میں محکمہ کے تئیں کافی ناراضگی پائی گئی۔لوگوں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ وہ بجلی کے شیڈول کے مطابق بجلی کا انتظار کرتے ہیں اور شیڈول کے وقت بھی بجلی فراہم نہیں کی جاتی جس سے لوگوں کی روزمرہ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔لوگوں نے کہا کہ دور جدید میں جہاں لوگوں کے بیشتر کام وکاج کا انحصار بجلی پرہوتا ہے وہیں سرنکوٹ میں ابھی تک بجلی کا نظام درہم برہم ہے اور ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ کوئی لوگوں کی پکار کوئی سننے والا نہیں ہے۔لوگوں نے محکمہ بجلی کے ملازمین پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جب تک موسم خشک تھا تب تک ملازمین گھروں میں بیٹھے رہے اور جب موسم کی وجہ بجلی نظام میں خرابی آئی تو موسم کا بہانہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔لوگوں نے کہا کہ موسم خراب ہونے سے پہلے ہی کیوں کر بجلی لائینوں کا جائزہ نہیں لیا گیا اور اسی سے محکمہ بجلی کی لاپرواہی عیاں ہو رہی ہے۔لوگوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ سرنکوٹ میں بجلی کے نظام کو بہتر بنایا جائے لوگوں نے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو وہ سڑکوں پر نکلنے کے لئے مجبور ہو جائیں گے اور اس کی ذمہ داری محکمہ بجلی پہ عائد ہو گی۔
پولیس کی منشیات مخالف مہم
ایک نوجوان گائیڈنس اینڈ کونسلنگ سنٹرپونچھ منتقل
بختیار حسین
سرنکوٹ//جموں کشمیر پولیس نے منشیات کا استعمال کرنے والوں اور منشیات کو فروغ دینے والوں کے خلاف کافی عرصہ سے شکنجہ کسا ہوا ہے۔آج بھی ایس ڈی پی او سرنکوٹ اصغر علی ملک نے اور ایس ایچ او سرنکوٹ پولیس کے ہمراہ ایک نوجوان کو نشیلی دوائی کے استعمال کئے جانے پر حراست میں لیا۔سٹور گلی سرنکوٹ میں اس لڑکے کو انجیکشن لیتے ہوئے محلہ کے لوگوں نے دیکھا اور فورًا پولیس کو اطلاع دی اور پولیس اطلاع سنتے ہی موقعہ پرپہنچی اور منشیات کا استعمال کرنے والے ایک نوجوان کو اپنی طویل میں لیا اور گائیڈینس اینڈ کونسلنگ سنٹر پونچھ میں بھیجاجائے گا۔پولیس کے اس قدم کی سراہنا کرتے ہوئے عوام سرنکوٹ نے کہا کہ سرنکوٹ پولیس خاص کر ایس ڈی پی او سرنکوٹ اصغر علی ملک اور ایس ایچ او سرنکوٹ انظر میر نے جب سے سرنکوٹ میں جوائن کیاہے تب سے سرنکوٹ میں حالات بہتر ہیں اور منشیات لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔
پہاڑی طبقہ کوتین فیصدریزرویشن تاریخی فیصلہ:پروین خان
جاوید اقبال
مینڈھر//پردیش کانگریس کمیٹی کی سیکریٹری پروین سرور خان نے ریاستی کابینہ کی طرف سے پہاڑی زبان بولنے و الے لوگوںکو تین فیصد ریزرویشن دینے کا خیر مقدم کیا ہے ۔انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کابینہ سے منظوری کے بعد قانون ساز اسمبلی اور قانون ساز کونسل سے بھی اس سلسلہ میں بل پاس کیا گیا ہے جو تاریخی فیصلہ ہے ان کاکہنا تھا کہ بے شک تین فیصد ریزوریشن سے پہاڑی عوام کی مجموعی ترقی نہیں ہو سکے گی لیکن یہ اقدام ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا انھوں نے کہا کہ اس سے پہاڑی قوم کی شناخت قائم ہو گئی ہے جس کے لئے کئی دہائیوں تک جدوجہد کی گئی انھوں نے کہا کہ سابقہ کانگریس اور نیشنل کانفرنس کی سرکار نے اگرچہ پانچ فیصد ریزوریشن کا پہاڑیوں کے لئے اعلان کیا تھا لیکن وہ فائل گورنر نے کسی وجہ سے واپس کر دی تھی جس کو مد نظر رکھتے ہوئے موجودہ سرکار نے پہاڑی طبقہ کے لئے تین فیصد ریزرویشن کا بل کابینہ سے پاس کیا میں ان کی نہایت ہی شکرگزارہوں انھوں نے کہا کہ ریاست کے پندرہ لاکھ پہاڑی عوام کو بھی میں مبارک بادپیش کرتی ہوں جنھیں بیکوارڈ کمیشن کی طرف سے تسلیم کیا گیا جس پر کابینہ نے تین فیصد ریزرویشن دی ۔انھوں نے کہا کہ آض کا فیصلہ پہاڑی طبقہ کی دہائیوں پر محیط جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ اوراگرچہ اس سے طبقے کی سماجی و اقتصادی ترقی میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی گی لیکن اس ٹی درجہ کے لئے کوششیں تیز ہو جائیں گی۔انھوں نے کہا کہ کابینہ نے سابقہ حکومت کی طرف سے منظور کردہ پانچ فیصد سے دو فیصد کم یعنی تین فیصد ریزوریشن کو منظوری دی ہے لیکن وہ اس فیصلے کی بھی سراہنا کرتے ہوئے امید کرتی ہوں کے طبقہ کے دیگر مسائل بھی اب آسانی سے حل ہو جائیں گے اور موجودہ سرکار ایس ٹی سٹیٹس کے لئے فائل کو دلی بھیج کر پوری وکالت کرے گی اور ضرور پہاڑی طبقہ کو درجہ دلوائے گی۔
راجوری پونچھ کی مجموعی ترقی کیلئے ہل ترقیاتی کونسل کامطالبہ
راجوری//یوتھ کانگریس کے ضلع صدرراجوری حسن مرزانے حکومت سے سرحدی اضلاع راجوری پونچھ کی ترقی یقینی بنانے کیلئے پیرپنچال ہل ڈیولپمنٹ کونسل قائم کرنے کامطالبہ کیاہے۔یہاں جاری ایک پریس بیان میں یوتھ کانگریس ضلع صدرراجوری حسن مرزانے کہاکہ حکومت کی جانب سے خطہ پیرپنچال کویکسرنظرانداز کیاگیاہے۔انہوں نے کہاکہ راجوری اورپونچھ اضلاع میں ترقیاتی کام نہ کے برابرہوئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ انتظامیہ صرف زبانی جمع خرچی میں مصروف ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایک منظم سازش کے تحت راجوری پونچھ کوپسماندہ رکھاجارہاہے ۔انہوں نے کہاکہ خطہ پیرپنچال کی پسماندگی کابڑاسبب طبقاتی تقسیم ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہرلیڈراپنے طبقے کی بات کرتاہے وہ مجموعی طورپرراجوری پونچھ کیلئے بات نہیں کرتاہے جس کانقصان پورے خطے کوہورہاہے ۔انہوں نے مانگ کی کہ حکومت کوچاہیئے کہ سرحدی اضلاع راجوری اورپونچھ کی ترقی یقینی بنانے کیلئے پیرپنچال ہل ڈیولپمنٹ کونسل کاقیام عمل میں لایاجائے۔
اوڑی میں ایچ ٹی اور ایل ٹی لائنوں کا ٹکرائو
۔20 رہائشی مکانوں میں الکٹرانک سازوسامان تباہ
ظفر اقبال
اوڑی//اوڑی کے مہورہ نامی گائوں کے لوگوں نے پیر کو محکمہ بجلی کے خلاف سرینگر مظفر آباد شاہراہ پر احتجاج کیا۔احتجاجی مظاہرین کے مطابق رات کے9 بجے گائوں میں اس وقت خوف و ہراس پھیل گیا جب علاقے میں 11 ہزار وولٹ کی ہائی ٹینشن لائن 220 وولٹ کی لائن پر گر گئی جس کے نتیجے میں رہاشی مکانوں میں 11 ہزار وولٹ کی بجلی سپلائی داخل ہوئی اور 20 کے قریب رہائشی مکانوں سے اچانک آگ نمودار ہوئی۔ احتجاجی لوگوں نے کہا کہ گھروں میں حد سے زیادہ بجلی سپلائی داخل ہوتے ہی مکانوں میں بچھائی ہوئی تاروں کے علاوہ الکٹرانک ساز و سامان جیسے ریفریجریٹر، ٹی وی، گیزر اورواشنگ مشینیں راکھ ہوگئیں۔ اس دوران سمیر احمد ولد بشیر احمد صوفی نامی ایک شہری بجلی کرنٹ لگنے سے شدید زخمی ہوا جسے علاج و معالجے کیلئے ضلع ہسپتال بارہمولہ میں داخل کیا گیا ۔صورتحال کے پیش نظر منگل کو مقامی لوگوں نے سرینگر مظفر آباد شاہراہ پر محکمہ بجلی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور گاڑیوں کی آمد رفت کو کئی گھنٹوں تک بند رکھا۔ مظاہرین کے مطابق یہ حادثہ محکمہ بجلی کی غفلت شعاری کی وجہ ہے کیونکہ ان کے علاقے میں بجلی کے کھمبے اور ترسیلی لائنیں بوسیدہ ہوگئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ اتنا بڑا حادثہ ہونے کے باوجود بھی محکمہ بجلی کا کوئی بھی مقامی آفیسر معائنے کیلئے علاقے میںنہیں نظرآیا۔دریں اثناء ایس ڈی ایم اوڑی ڈی ساگر ڈائفوڈ نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کراوئیں گے۔