ویشنو دیوی یاتری کی حرکت قلب بند
زاہد ملک
ریاسی//ویشنو دیوی جا رہے ایک 49سالہ شخص کی موت ہو گئی پولیس نے اس کی پہچان نیم سنگھ ساکنہ چھتیس گڑھ کے طور سے کی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ یاتری بھون کی طرف جا رہا تھا کہ راستہ میں بے ہوش ہو کر گر پڑا۔پولیس کے مطابق یاتری کو فوری طور سے دسپنسری میں لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا ۔متوفی کی لاش کو قانونی لوازمات پورے کرنے کیلئے کٹرہ کیمونٹی ہیلتھ سینٹر منتقل کیا گیا ہے۔
ریڈ کراس سوسائٹی ڈوڈہ کا اظہار تعزیت
ڈوڈہ//ڈوڈہ ڈسٹرکٹ ریڈ کراس سو سائٹی نے ایگزیکٹو سیکریٹری ضلع ریڈ کراس سو سائٹی جموں سریش شرما کی وفات پر تعزیت کان اظہار کیا ہے ۔انہوں نے آنجہانی کی روح کو سکون ملے اور خاندان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کیلئے یکجہتی کا اظہار کیا۔میٹنگ جو نیئر اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ ریڈ کراس سو سائٹی ڈوڈہ نثار احمد شیخ کی صدارت میں منعقد ہوئی۔
چھوٹی مسافر گاڑی والوں کی لوٹ کھسوٹ
درماندہ مسافروں سے17کلومیٹر کیلئے 100 روپے کرایہ وصول کرنے کا الزام
محمد تسکین
بانہال// پچھلے تین روز سے سینکڑوں کی تعداد میں مسافروں نے رام بن اور بانہال کے درمیان گر آئی کئی پسیوں کے آر پار پیدل سفر طے کیا جبکہ بدھ اور جمعرات کے روز مگرکوٹ اور بانہال کے درمیان چھوٹی مسافر بردار گاڑی والوں نے پہلے ہی سے درماندہ اور مجبور مسافروں کو دو دو ہاتھ سے لوٹنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور سترہ کلومیٹر کی مسافت طے کرنے کیلئے مسافروں سے ایک ایک سو روپئے کا کرایہ وصولنے کی اطلاعات ہیں۔ کئی مقامی مسافروں نے بھی سومو اور وین والوں پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے سترہ کلومیٹروں کے اندر اندر سفر کرنے والوں سے پچاس روپئے سے ایک سو روپئے کی رقم بطور کرایہ وصولی اور اس لوٹ سے روکنے کیلئے کوئی بھی پولیس یا ٹریفک اہلکار موجود نہیں تھا۔ شاہراہ کے بند ہونے کی وجہ سے پچھلے تین روز کی طرح جمعرات کو بھی سینکڑوں کی تعداد میں مجبور اور درماندہ مسافروں نے اپنی اپنی منزلوں کی طرف پیدل سفر طے کیا اور آج مگرکوٹ اور بانہال کے درمیان چلنے والی چھوٹی مسافر گاڑی والوں نے پہلے ہی سے مشکلات کا شکار مسافروں کو خوب لوٹا اور ان کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسافروں سے 17 کلومیٹروں کی مسافت طے کرنے کیلئے ان سے ایک ایک سو روپئے کی رقم بطور کرایہ وصولنے کی اطلاعات ہیں ۔ کئی مسافروں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ فورلین شاہراہ کی تعمیر ان کیلئے درد سر بن گئی ہے اور کڑکتی دھوپ میں بھی پسیوں کے گرنے کا سلسلہ چار روز سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال سے نمٹنے اور مسافروں کی نجات اور حفاظت کیلئے نیشنل ہائے وے اتھارٹی اف انڈیا نے کوئی منصوبہ ہی نہیں رکھا ہے جو پچھلے دو سالوں سے سفر کرنے والے مسافروں کیلئے آئے روز مشکلات کا باعث بنا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی خراب صورتحال سے نمٹنے کیلئے درماندہ ہونے والے مسافروں کیلئے بھی سرکاری کی طرف سے کسی بھی قسم کے اقدامات نہیں کئے گئے ہیں جس سے محسوس ہوتا ہے کہ فورلین شاہراہ کی تعمیر بے ڈھنگے طریقے سے کی جارہی ہے اور اس کا جائزہ لینا ریاستی سرکاری کیلئے ناگزیر بن گیا ہے۔
ڈی سی ڈوڈہ نے کسانوں کوتشہیری دورہ کیلئے روانہ کیا
محمد اسحٰق عارف
ڈوڈہ//محکمہ زراعت ڈوڈہ کی طرف سے کسانوں کو ماہرین کے ذریعہ زرعی صعنت کے تکنیکی پہلو کی جانکاری فراہم کرکے فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے مقصد سے 50 کسانوں کے ایک گروپ کو دو روزہ تشہیری دورہ کے لئے روانہ کیا گیا۔ ضلع کے مختلف علاقوں اور دیہات سے تعلق رکھنے والے یہ کسان شیر کشمیر ایگریکلچر یونیورسٹی جموں میں منعقد ہونے والے کسان میلے میں شرکت کریں گے۔ضلع ترقیاتی کمشنر ڈوڈہ بھوانی رکوال نے دورے پا جا رہیکسانوں کی بس کو ہر ی جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔اس موقع پر موجود زمینداروں نے اس قسم کے دوروں کا اہتمام کرنے پرمحکمہ زراعت ڈوڈہ کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ اس سلسلہ کو مزید وسعت دے کر زیادہ سے زیادہ کسانوں کو مستفید ہونے کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ اس موقع پر متعدد ضلع سطح کے آفیسران کے علاوہ دیگر لوگ بھی موجود تھے۔اس پروگرام کا انعقاد چیف ایگریکلچر آفیسر ڈوڈہ سنیل کمار کول کی ہدایت پر کیا گیا ہے۔
چندرکوٹ حادثہ میں 4پولیس اہلکار زخمی، 3جموں منتقل
ایم ایم پرویز
رام بن//گزشتہ شب جموں کشمیر شاہرہ پر ایچ پی گیٹ چندرکوٹ کے مقام پر دو گاڑیاں متصادم ہوئیں جس میں جموں کشمیر پولیس کے 4اہلکار زخمی ہو گئے۔پولیس کے مطابق ایک ٹیمپو ٹریو لر رجسٹریشن نمبر JK01X-1678جموں سے مسافروں کو لے کر سرینگر کی جانب جا رہا تھان ایکم ٹرک رجسٹریشن نمبر JK03A- 5534کے ساتھ جے پی گیٹ چندرکوٹ میں با ہم متصادم ہو گیا ۔حادثہ میں 4پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔؛پولیس نے زخمی اہلکاروں کی پہچان محمد یعقوبساکنہ گاندربل،رویندر چودھری ساکنہ آر ایس پورہ،فیاض احمد ساکنہ کپواڑہ کے طور سے کی ہے۔انہیں ضلع ہسپتال رام بن منتقل کیا گیا جہاں سے 3اہلکاروں کو میڈیکل کالج جموں ریفر کیا گیا۔حادثہ میں متاثرہ دونوں گاڑیوں کو
چندرکوٹ پولیس نے ضبط کر لیا ہے مزید تحقیقات جاری ہے۔
چناب ویلی ڈاکٹرزایسوسی ایشن
بیروزگاری کے بڑھتے گراف پر تشویش مند
ڈوڈہ//چناب ویلی ڈاکٹرزایسوسی ایشن نے ریاست جموں و کشمیر میںپیشہ وارانہ کوالیفائیڈمیڈیکل یوتھ کی بے روزگاری پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ایسوسی ایشن نے ریاستی سرکار سے کہا ہے کہ وہ محکمہ صحت میں خالی پڑی ڈاکٹروں اور نیم طبی عملہ کی آسامیوں کو پر کرنے کے لئے موثر حکمت عملی اختیارکرے ۔آج یہاں میڈیا اشخاص سے خطاب کرتے ہوئے سی وی ڈی اے کے صدرڈاکٹر حمید پرے نے جموں و کشمیر میں تربیت یافتہ ڈاکٹروں اور نیم طبی عملہ کی بے روز گاری پر گہری تشویش کا اظہا ر کیا ۔ ڈاکٹر پرے نے میڈیا کو بتایا کہ میڈیکل ایجوکیشن ریکارڈ کے مطابق ریاست میں ہر سال 500ایم بی بی ایس ،200آئی ایس ایم ۔ 200بی ڈی ایس اور 1600دیگر نیم طبی عملہ تربیت حاصل کرکے فارغ ہورہے ہیں۔ ریاست میں روز گار نہ ملنے کی وجہ سے ہزاروں تربیت یافتہ ڈاکٹر اور دیگر نیم طبی عملہ ملک کی دیگر ریاستوں میں قائم طبی اداروں میں کام کرنے کے لئے مجبور ہیںاور ریست میں اس وقت بھی 2100بی ڈی ایس،1301ایم بی بی ایس،1679آئی ایس ایم اور6500دیگر تربیت یافتہ نیم طبی عملہ بے روز گادر ہے۔سی وی ڈی اے کے ضلع ڈوڈہ یونٹ کے صدر ڈاکٹرشبیر حسین نے بھی اس موقعہ پر تقریر کی اور میڈیا اشخاص کو ریاست میں تربیت یافتہ ڈاکٹروں اور نیم طبی عملہ کی بے روز گاری کے تشویش ناک مسلٔے کے بارے میں جانکاری دی ۔انہوں نے کہا کہ اس مسلے کو حل کرنے سے جہاں ریاست میں بے روز گاری کو دور کرنے میں مدد ملے گی وہاں ریاست کے طبی اداروں میں ڈاکٹروں اور دیگر عملہ کی خالی آسامیاں پر ہونے سے عوام کو علاج و معالجہ کی بہتر طبی سہولیات دستیاب ہوں گی۔انہوں نے رہبر کھیل کے طرز پر محکمہ صحت میں مختلف ذمروں کی خالی پڑی4325آسامیوں کو فاسٹ ٹریک طرز پر پر کرنے کی مانگ کی۔ ڈاکٹر شبیر نے کہا کہ سا ل 2008سے جے کے پی ایس سی کے ذریعہ بی یو ایم ایس اور بی ڈی ایس ڈاکٹروں کی ایک بھی آسامی پرُنہیں کی گئی ہے جو کہ جموں وکشمیر کے تربیت یافتہ میڈیکل نوجوانوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے جس کی وجہ سے ان نوجوانوں کا مستقبل تباہ و برباد ہو رہا ہے ۔سی وی ڈی اے ریاستی سرکار کو واننگ دی کہ وہ اس مسلے کو سنجیدگی سے لے اس سلسلے میں انہوں نے وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت کی فوری مداخلت طلب کی ۔ دریں اثناسی وی ڈی اے نیشنل ہیلتھ مشن ملازموں کا مسٔلہ بھی اٹھایااور ریاستی سرکار سے کہا کہ وہ اس مقصد کے لئے ایک جامع جاب پالیسی ترتیب دے تاکہ ان ملازموں کا مستقبل تباہ ہونے سے بچ سکے۔ پریس کانفرنس میں ڈاکٹر پردیپ کمار اور ڈاکٹر میناکشی پریہار بھی موجود تھے۔
کشتواڑ کے دیہات میں بجلی سپلائی بہتر بنانے کا مطالبہ
کشتواڑ//ضلع کے متعدد دیہاتوں کے لوگوں نے انتظامیہ سے بجلی کی سپلائی بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تحصیل کشتواڑ کے چھاترو ، کشتواڑ، پاڈر اور دیگر دیہاتوں کے لوگ بجلی کی کمی کی وجہ سے پریشان ہیںاور حکومت اس اہم مسلے کو حل کرنے کی جانب کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے ان علاقوں کے لوگوں کا کہنا ہے انہوں مقامی انتظامیہ کے حکام کو اس بارے میں بار ہا استدعا کی مگر اس وقت تک ہماری فریاد کا کوئی اثر نہ ہوا جس کے نتیجہ میں ہم اس 21ویں صدی میں بھی اندھیرے میں زندگی گذارنے کے لئے مجبور ہیں۔ یہ بات کشتواڑ کے ایک شخص نے بتائی۔ان دیہاتوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکمہ نے ان کے گھروں کے نزدیک بجلی کے کھمبوں پر جو ایم سی بکسزنصب کئے ہیںجوکہ بہت ہی کم صلاحیت کے ہیں جس کے نتیجہ میں عوام کو ضرورت کے مطابق بجلی دستیاب نہیں ہو رہی ہے ۔پاڈر کے ایک وفد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایاکہ ہمیں دن میں کم از کم دس گھنٹے بجلی کی ضرورت ہے اور گذشتہ کئی ماہ سے ہم بجلی کی کمی کی وجہ سے پریشان ہیںکیونکہ موسم سرما میں ان علاقوں میں درجہ حرارت گر کر منفی ہو جاتا ہے اس لئے سردیوں میں بجلی کا ہونا بہت ضروری ہے۔ان لوگوں نے مزید بتایا کہ اگر بجلی کی سپلائی میں بہتری نہ لائی گئی تو وہ ریاستی سرکار اور مقامی انتظامیہ کے خلاف مظاہرے کریں گے۔