نادار بچیوں کو شادی کیلئے مالی معائونت فراہم
نمائندہ عظمیٰ
کشتواڑ//ضلع ترقیاتی کمشنر انگریز سنگھ رانا نے 83 غریب لڑکیوں کے حق میں سٹیٹ میرئیج اسسٹنس سکیم کے تحت 33.28 لاکھ روپے بطور مالی معاونت کی منظوری دی ہے۔سٹیٹ میریج اسسٹنس سکیم محکمہ سوشل ویلفیئر کی جانب سے ہر ایک غریب لڑکی کے حق میں 25000روپے مالی معاونت اور5 گرام سونے کی قیمت شادی کے لئے عطا کیا جاتا ہے۔سکیم کے تحت مالی معاونت ان غریب لڑکیوں کو دی جاتی ہے جن کا اندراج آئی سی ڈی ایس کے غریب لڑکیوں کی فہرست میں شام ہو جسکی سروے2012 میں کی گئی تھی اور جو بی پی ایل کنبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ریاستی حکومت سٹیٹ میریج اسسٹنس سکیم ریاست میں ہائی کورٹ کے ہدایات کے تحت لاگو کی گئی ہے۔
پوگل پریستان کے ساتھ کئے گئے وعدے تشنہ تکمیل : سیوا سنگھ بالی
ارشد کاظمی
رام بن // 2016میں سابقہ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر اور عبدالحق خان نے اکھڑہال دورے کے دوران کئے گئے وعدے ابھی تک پورے نہیں ہوئے اس باتوں کا اظہار نیشنل پنتھرس پارٹی کے ریاستی جنرل سیکریٹری سیوا سنگھ بالی نے کہاکہ حکومت کی طرف سے جو تحصیل پوگل پریستان (اکھڑہال ) کے ساتھ کئے گئے وعدے ابھی تک پورے نہیں ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ 2016میں جب سابقہ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے اکھڑہال کا دورہ کیا تھا ان کے ہمراہ موجودہ حکومت کے وزیر عبدالحق خان بھی تھے اس موقع پر سابقہ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے ہمراہ ریاست کے چار ججزکے سامنے اکھڑہال کے ہونگا میں منصف کورٹ کا سنگ بنیاد بھی رکھا تھا تو اس وقت وزیر موصوف عبدالحق خان نے بھاری عوامی اجتماع سے کہا کہ جو ٹی ایس ٹھاکر نے منصف کورٹ کا سنگ بنیاد رکھا اس کو 2017تک مکمل کر لیا جائے گا اور انہوں نے کہاکہ یہ منصف ریاست میں ایک مثال کی طرح ہوگی ۔کیونکہ حکومت نے آرڈر زیر نمبر 386-Hr-eduڈگری کالج دینے کا اعلان کیا تھا لیکن ابھی تک وہ اعلانات سیراب ثابت نہ ہوئے۔ وہیں انہوں نے اکھڑہال کے گرین پارک کا بھی سنگ بنیاد رکھا تھا اور ایک سائن بورڈ بھی لگا یا گیا تھا اور وہاں بھی یہ عوام سے وعدہ کیا تھا کہ اس پار ک عوام کے لئے جلد ہی تعمیر کیا جا ئے گا لیکن اس پارک کے نام پر نہ جانے کتنے خزانے خالی کئے گئے لیکن اس وقت وہاں پر لگا یا ہوا سائن بورڈ بھی غائب ہے ۔ اس سلسلے میں سیواسنگھ بالی نے نمائندے کے ساتھ بات کر تے ہو ئے کہاکہ 2014میں سابقہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی بھاری عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈگری کالج دینے کا اعلان کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ 2015میں اس کالج میں کلاسیں پڑھائی جائیں گی لیکن اب 2018بھی ختم ہو نے کو آرہا ہے نہ ہی کہیں منصف ، پارک اور ڈگری کالج بن رہی ہے ۔سیوا سنگھ بالی نے کہا یہ حکومت میں رہ کر یہ لوگ عوامی جذباتوں کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں اس کے چلتے سیوا سنگھ بالی نے ایک رٹ پٹیشن بذریعہ ایڈوکیٹ ہائی کورٹ کی جانب سے دائر کی جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت ایک ماہ کے اندر اندر نوٹس کا جواب دے لیکن حکومت ایک ماہ گزرنے کے باوجود جواب نہیں دے سکی اس سے یہی لگتا ہے کہ حکومت جواب دینے میں پوری طرح ناکام ہو چکی ہے ۔اس سلسلے میں سیوا سنگھ بالی نے کہاکہ ایک منصف کورٹ ہونگا ، گرین پارک اکھڑہال اور ڈگری کالج اکھڑہال پر ایک ماہ کے اندر اندر کام نہیں کیا گیا تو نیشنل پنتھرس پارٹی ہائی کورٹ کا رخ کر نے سے گریز نہیں کرے گی ۔
ڈوڈہ میں مغویہ 24 گھنٹوں میں بازیاب
طاہر ندیم خان
بھدرواہ //ڈوڈہ پولیس نے اپنی کاروائی میں سرعت لاتے ہوئے ڈوڈہ کی ایک مغویہ ، جو 29 مارچ کو پُر اسرار طور سے لاپتہ ہوئی تھی، کو بازیاب کیا ہے، مغویہ کے والد شنکر لعل ولد فقیر چند ساکنہ گدھیاری کلہانڈ ،ڈوڈہ نے پولیس اسٹیشن ڈوڈہ میں اپنی بیٹی کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کرائی تھی۔پولیس نے فورئی طور سے اپنے وسائل کو متحرک کیا اور پایا کہ مذکورہ لڑکی کو کلہانڈ کے ہی انار چند نے اغوا کیا ہے۔پولیس نے اس پرایک معاملہ درج کرکے کئی مشتبہ مقامت پر چھاپے مارے اور گذشتہ شب ڈوڈہ پولیس کی ایک پارٹی نے مغویہ کو جنگل میں ایک ڈھوک سے باز یاب کیا تاہم اغوا کا ر انار چند ولد ہیم راج ساکنہ نیر کُنڈ کلہانڈ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ۔لڑکی کو قانونی لوازمات پُرکرنے کے بعدوالدین کے سپرد کیا گیا ہے اور اغوا کار کو گرفتار کرنے کے لئے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔لوگوں نے پولیس کی اس کاروائی کی ستائش کی ہے۔
الی سال کا اختتام، دفاتر میں چہل پہل اور افرا تفری کا عالم
زاہد بشیر
گول//پوری ریاست میں اس وقت افرا تفری کا سا ماحول بنا ہوا ہے ۔ دفتر میں آفیسران موجود نہیں ، ضلع صدر مقام ، بڑے بڑے دفاتر میں ڈیر ے جما کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ وہیں ملازمین بھی دن رات کاغذی کارروائیوں میں مصروف ہیں ۔ لوگ دفتروں میں جاتے ہیں لیکن وہاں پر چپراسی کے سواکوئی موجود نہیں ہوتا ہے، کلرک بھی بہت زیادہ مصروف نظر آتے ہیں ۔ کئی جگہوں پر ماسٹر بھی کاغذات کو صحیح کرنے میں مصروف ہیں اور سکولوں میں اساتذہ کی حاضری نا کے برابر ہے ۔ مارچ آتے ہی اس طرح کا ماحول گرم ہو جاتا ہے اور آخری ایام میں کچھ زیادہ ہی افرا تفری دیکھنے کو ملتی ہے ۔ یہ تمام نظارے آپ کو ہر جگہ پر دیکھنے کو ملیں گے لیکن ہم اس نظارے کی بات سب ڈویژن گول ضلع رام بن کی کریں گے ۔ جہاں ایک طرف سے تعمیراتی محکمے بلیں نکالنے میں مصروف ہیں وہیں دوسری جانب دن رات کام کر کے ٹھیکیدار حضرات بھی نظر آتے ہیں لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ کوئی بھی آفیسر زمینی سطح پر یہ دیکھنے کے لئے نہیں آ رہاہے کہ آیا جو کام ہو رہے ہیںجن کی بلوں کی ادائیگی ہم کرنے جا رہے ہیں کیا وہ صحیح معنوں میں زمینی سطح پر ہوئے ہیں اس سے کسی بھی آفیسر سے غرض نہیں ہے۔ کئی جگہوں پر آج کل لوگ احتجاج کر رہے ہیں لیکن ان تمام احتجاجوں کو انتظامیہ کے ساتھ ساتھ محکمہ جات بھی نظر انداز کر رہے ہیں ۔ محکمہ تعمیرات عامہ گول کی اگر بات کریں گے بار بار کہنے اور شکایات کرنے کے با وجود ان کی کان پر جوں تک نہیں رینگتی ہے ۔ اس طرح سے محکمہ پی ایم جی ایس وائی کی جانب سے سڑکوں پر تعمیری کام ہو رہے ہیں جس کے خلاف لوگوں نے احتجاج بھی کیا لیکن انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہے ۔اس طرح سے محکمہ تعلیم کی بھی حالت اس سے الگ نہیں ہے یہاں پر بھی کئی ملازمین ایس ایس اے کے تحت بنائے گئے سکولوں اور دیگر بل نکالنے میں مشغول ہیں۔ دیگر کئی محکمہ جات بھی اپنی کار کردگی کا مظاہرہ کرنے کے لئے رسمی جانکاری کیمپوںکا انعقاد کر کے بلیں پکی کرنے کا ایک ثبوت تیار کرتے ہیں ۔ اگر ضلع آفیسر خود اس مارچ کے مہینے میں ہر جگہ جاتے ، تمام کاموں کو گائوں کے معزز شہریوں کے ہمراہ ، انتظامیہ کو ساتھ لے کر ان کا جائزہ لیتے اور اُس کے بعد اگر بل نکالنے کی بات کرتے شائد ہی کسی کام کی بل نکلے گی لیکن ہوتا اس کے برعکس ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام محکموں کے آفیسران کو نیک نیتی سے کام کرنے ، زمینی سطح پر کاموں کو دیکھنے کی تا کہ جو خزانہ عامرہ سے موٹی موٹی رقمیں نکل رہی ہیں وہ کہیں ضائع نہ ہو ۔