ڈوڈہ کو جاذب نظر بنانے کی مشق
ممبر اسمبلی ڈوڈہ کا عوام سے تعاون طلب
اسحٰق عارف
ڈوڈہ//ڈوڈہ خطہ کے صدر مقام قصبہ ڈوڈہ کو جاذب نظر بنانے کیلئے عوام سے تعاون طلب کرتے ہوئے ممبر اسمبلی ڈوڈہ شکتی راج پریہار نے ڈوڈہ کے معزز شہریوں سیول سوسائٹی ممبران وکلاء اور صحافتی برادری سماجی و سیاسی کارکنان سے اپیل کی ہے کہ وہ سامنے آکر اپنی تجاویز بھی دیں اور دست تعاون بھی دیں۔اُنہوں نے کہا کہ ڈوڈہ پورے ڈوڈہ خطہ کا دل ہے اور خطہ کے دس لاکھ عوام کو آسانی سہولیات میسر کرنے کے لئے لازم ہے کہ یہاں ہر طرح کی سہولیات ٹرانسپورٹ صحت و صفائی بجلی، روشنی ، صحت پانی کا نظام درست ہو کیونکہ یہاں تینوں اضلاع رام بن، کشتواڑ اور ڈوڈہ سے ہزاروں لوگ آتے جاتے رہتے ہیں اور میرے لئے یہ فخر کی بات ہے کہ میں اس مرکزی قصبہ کا منتخب نمائندہ ہوں اور یہاں کے لوگوں نے بلا لحاظ مذہب و ملت ذات برادری سے بالاتر ہو کر جو اعتماد پیار محبت عزت و احترام دیا ہے میں عوام کا ممنون و مشکور ہوں اور اُن کو مایوس نہ کروںگااور میں تمام انتخابی وعدے پورا کرنے کی بھر پور کوشیش کروںگا۔ پریس کے نام بیان میں شکتی راج پریہار نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مطمئن رہیں اور میں ڈوڈہ کے مفاد کو کسی بھی طرح نقصان نہیں ہونے دوں گا اور ڈوڈہ کو وہ مقام ملنا چاہئے جس کا وہ حق دار ہے اور ڈوڈہ کو جازب نظر و خوبصورت ماڈل صدر مقام بنانے کے لئے جن اداروں کا قیام لازمی ہے اُن کا قیام کراوں گا اپنی تین سالہ کارکردگی کے بارے میں اُنہوں نے کہا کئی نئے دفاتر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جن میں زنانہ پولیس تھانہ فاسٹ ٹریک عدالت جیونائیل بورڈ جائنٹ ڈائیریکٹر ایجوکیشن ڈائریکٹر سرویز و لینڈ ریکارڈ محکمہ قانون، کے بعد محکمہ زراعت کا جائنٹ ڈائریکٹر یٹ بھاگواہ تا بھرت ڈیفینس روڈ چنینی سدھمادیو مرمت سڑک ، گورنمنٹ ڈگری کالج ڈوڈہ میں پی جی کلاسوں کے علاوہ انڈر گریجویٹ سطح پر نئے مضامین متعارف کرانا سرکاری دفاتر میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ سب کے سامنے ہے اس کے علاوہ بھی شعبہ اعلیٰ تعلیم ، صحت ، بجلی ، سڑک رابطوں خود روزگار سکیموں و دیگر کئی منصوبے زیر غور ہیں جو آنے والے تین برسوں میں زمینی سطح پر لاگو ہونگے اور میں نے ہمیشہ آپسی بھائی چارہ اور سب کا ساتھ سب کاوکاس کا نعرہ دیا اور عمل طور اس پرگامزن ہوں میں لوگوں کو مذہب ، رنگ و نسل ، ذات پات ، شہری دیہاتی بنیادوں پر تقسیم کرکے استحصالی سیاست کے خلاف ہوں نہ ماضی میں ایسا کیا ہے ناہی مستقبل میں ایسا ہوگا اور میرا دروازہ ہر ایک شخص کے لئے جو بیس گھنٹے عوامی خدمت کے نئے کھلا ہے اور شرپسندوں کے لئے میرے پاس کوئی جگہ نہ ہے۔
بلاک رام سو کی خالی اسامیاں پر کرنے کا مطالبہ
ارشد کاظمی
بٹوت //ینگ پنتھرس پارٹی کے جنرل سیکریٹری ضلع رام بن افتیاز احمدسوہل نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بلاک رام سو سے گزشتہ ماہ تبدیل کئے گئے ملازمین کو اگر جلد ہی واپس نہیں کیا گیا تو اس کے خلاف احتجاج کیا جا ئیگا۔ انہوں نے کہاکہ بلاک رام سو میں جو بھی قابل اور کام کر نے والا ملازم ہوتا ہے اس کو کبھی بھی صحیح طریقے سے کام کر نے نہیں دیتے ہیں کیونکہ بلاک رام سو میں کچھ سیاسی پارٹیوں کی مداخلت کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ بلاک رام سو میں سیاسی مداخلت ایک ناسور کی طرح پنپ گیاہے اس کو ختم کر نے کے لئے ینگ پنتھرس پارٹی احتجاج کر نے پر مجبور ہوگئی ہے ۔سوہل نے کہاکہ بلاک رام سو میں جبکہ کل 66تعیناتیاں کاغذوں میں درج ہیں اور جو اس وقت بھی بلاک رامسو کے کھاتے سے ہی تنخواہ وصول کر تے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس وقت بلاک رام سو مین سی آئی سی آپریٹر ، ایم آئی ایس آپریٹر کی اشد ضرورت ہے جبکہ یہ دونوں آسامیاں یہاں پر موجود تھیں لیکن سیاسی مداخلت کے بنا پر انہیں یہاں سے دو سرے جگہ تبدیل کر دیا گیا ۔انہوں نے حکومت خاص کر ضلع ایڈمنسٹریشن سے اپیل کی ہے کہ وہ بلاک رام سو میں ان دونوں اسامیوں کو جلدپر کریں تاکہ غریب لوگوں کی مشکلات کا ازالہ ہو سکے ۔
بھدرواہ میں شراب کی 77تھیلیاں ضبط،2گرفتار
طاہر ندیم خان
بھدرواہ//بھدرواہ پولیس نے منشیات کے خلاف جاری مہم میں 2شراب فروشوں کو گرفتار کر کے ان سے 77شراب کی تھیلیاں بر آمد کی ہیں۔تفصیلات کے مطابق جائی روڈ پر ایک پولیس ٹیم نے چیکنگ کے دوران ایک مشتبہ راہگیر کو پکڑا ،تلاشی کے دوران اس کے قبضہ سے 40گیر قانونی شراب کی تھیلاں ضبط کی گئیں۔ملزم کی پہچان سنجے کمار ولد پرتھوی راج ٹھاکر ساکنہ کنڈوسو بھالہ کے طور سے ہوئی ہے اس سلسلہ میں بھدرواہ پولیس سٹیشن میں ایک کیس ایف آئی آر نمبر33/2018 Under section 48-A excise Act کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔ایک دوسرے معاملے میں خصوصی اطلاع ملنے پر دومیل بھدرواہ میں ایک ناکہ پر ایک راہگیر کو روکا گیا جو پولیس کو دیکھتے ہی بھاگ کھڑا ہوا لیکن پولیس نے اس کا پیچھا کر کے پکر لیا ۔تلاشی کے دوران پولیس نے اس کے قبضہ سے غیر قانونی شراب کی 37تھیلیاں ضبط کیں۔ملزم کی پہچان نریندر سنگھ ولد مشیر سنگھ ساکنہ مسری پرانوں کے طور سے ہوئی ہے ۔اس سلسلہ میں پولیس سٹیشن بھدروا میںنے ایک کیس FIR No. 34/2018 under section 48-A Excise Actکے تحت درج کر لیا گیا ہے ۔مزید تحقیقات جاری ہے۔
ڈوڈہ میں پاسپورٹ دفتر کے قیام کا مطالبہ
محمد اسحٰق عارف
ڈوڈہ//ریاست کے دیگر اضلاع کی طرح ڈوڈہ میں بھی پاسپورٹ دفتر کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے جموں کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما مرزا مظفر حُسین بیگ نے کہا ہے کہ ڈوڈہ خطہ نہ صرف اقتصادی طور پسماندہ ہے بلکہ دشوار گزار بھی ہے اور یہاں لوگوں کو صدر مقام ڈوڈہ پر زیادہ سے زیادہ سہولیت دینا عوامی مفاد میں ہے تاکہ لوگوں کو معمول کام کے لئے بھاری رقم لے کر جموں جانے سے بچا یا جاسکے اور وہ صبح گھروں سے نکل اپنے کام سے فارغ ہو کر شام کو واپس اپنے گھروں میں جانے کی سہولیت مل سکے جس سے اُن کا وقت بھی بچ جائے گا اور مالی طور بھی فائدہ ہوگا اور پاسپورٹ دفتر کے قیام سے رام بن کشتواڑ بانہال گول گندو ٹھاٹھری بھدرواہ کے لوگوں کو آسانی ہوگی مرزا مظفر حُسین بیگ نے وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ سے اپیل کی ہے کہ اُنہوں نے خود اُدھمپور کٹھوعہ میں پاسپورٹ دفتر کھولتے وقت یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ڈوڈہ میں بھی ایسا ہی دفتر کھولیں گے اور اب وقت آچُکا ہے کہ جب ڈوڈہ میں یہ دفتر کھولا جائے اُنہوں نے مزید کہا وہ عنقریب دہلی جاکر ڈاکٹر جتندر سنگھ کے علاوہ وزارت رائے فروغ انسانی وسائل اور وزارت برائے سڑک ٹرانسپورٹ سے ملاقات کرکے ڈوڈہ خطہ کے دیرینہ مطالبات اور مسائل پر بات کریں گے اور ہم ڈوڈہ خطہ کے مجموعی مفاد و اعلیٰ اداروں کے قیام اور سڑک رابطوں کے لئے دن رات ایک ریں تاکہ ہماری معاشی تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ ہو۔
درخت سے لٹکتی لاش ملی
زاہد ملک
ریاسی // ریاسی کے جنگل میں ایک 35سالہ شخص کی لاش لٹکتی ہو ئی پائی گئی ہے پولیس معاملہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔پولیس نے متوفی کی پہچان محمد مشتاق گو جر ولد فتح محمد ساکنہ بڈا گائوں کے طور سے کی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ قانونی لوازمات پورے کرنے کے بعد لاش آخری رسومات کیلئے ورثاء کے حوالے کردی گئی ہے۔اس سلسلہ میں جیوتی پورم پولیس پوسٹ میں ایک کیس 174 CrPC درک کر کے تحقیقات کر رہی ہے۔
گول سے گلاب گڑھ تک!
میں نے بچپن سے گول گلاب گڑھ کا نام سنا تھا گول تو میرا آبائی گائوں ہے مگر گلاب گڑھ سر زمین میری نگاہوں سے اوجھل تھی ایک دن ارادہ ہوا جانب سفر کا کیا ہی خوبصورت سماں تھا جب میں گائوں اندھ سے نکلا اور گاڑی پر بیٹھ کر سفر طے کرنے لگا سامنے دگن ٹاپ کی پہاڑیاں اپنے حسن سے مسکرا رہی تھی ۔چلتے چلتے گائوں داچھن سے ہوکر اونچائی کی جانب چل پڑا اور راستے میں ایک جگہ دیول گلی آتی ہے جہاں پر ایک چھوٹی سی محلہ مسجد ہے جو بہت ہی خوبصور ت مقام پر واقع ہے اور آس پاس کچھ دکانیں بھی ہیں ۔اور وہاں سے نیچے کی جانب رخ کرتے ہوئے وادی گول کا حسین نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے جو ضلع رام بن سے تقریباََ 52کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے یہاں سے آگے ایک اور جگہ آتی ہے جسے لوگ گھوڑا گلی کے نام سے جانتے ہیں اس سے پہلے بائیں جانب ایک پارک آتی ہے جس میں شام کے وقت گول سے لوگ سیر کرنے آتے ہیں ۔ اس کے بعد میں دائیں جانب سیاحتی مقام گھوڑا گلی آتاہے ۔جہاں پر بہت سارے پتھروں کو تراش کر گھوڑے بنائے گئے ہیں ان پر انسانی وحیوانی تصویریں بھی بنائی گئی ہیں ۔وہاں پر پانی کے چشمے بھی جاری ہیں جو آس پاس کے لوگ صبح وشام آتے ہیں اور چشمے کا پانی پینے کے لئے گھر لیتے ہیں بہت ہی ٹھنڈا اور میٹھا پانی ہے ۔ہر وقت لوگ یہاں پر سیر و تفریح کرنے آتے ہیں۔ اس کے شمال کی جانب ایک مقدس مقام ہے جہاں پر علمدار کشمیر الشیخ نور لدین نورانی ؒ کی بیٹھک ہے ۔اور ساتھ میں ایک جگہ منزم کنڈ ہے جسے استان کنڈ بھی کہا جاتا ہے ۔جہا ں پر اکثر بچے کرکٹ کھیلتے ہیں ۔بہت ہی دلکش مقام ہے ۔اور گھوڑا گلی سے چلتے چلتے تقریبا ایک کلومیڑ کی دوری پر ہسپتال آتا ہے اور وہا ںسے گول بازار کی دکانیں شروع ہوتی ہیں۔پرانے بس اسٹینڈکے دائیں جانب جامع مسجد شریف گول ہے اور اس مسجد کے ساتھ میں حضرت بلبل شاہ ؒ کی بیٹھک ہے ۔اوربازار کے اختتام پر اوپر کی جانب سڑک جاتی ہے اور تقریباًتین یا چار کلومیٹر کی دوری پر آرمی ہیڈکواٹر آتا ہے وہا ں پر اپنی گاڑی کا نمبر اور IDکارڈ دکھانا پڑتا ہے وہاں سے گزر کا گول کی وادی کا حسین نظارہ آنکھوں کے سامنے پھر عیاں ہوتا ہے کیوں کہ یہ جگہ اونچائی پر ہے۔ گرمیوں میں لوگ وہاں کی جانب رخ کرتے ہیں اپنے مال مویشی لے جاتے ہیں وہاںمال مویشی کے چرنے کے لئے بہت کھلے میدان ہیں ۔ اور سڑک کے آخری موڑ پر ایک آلو فارم آتا ہے جہاں سے بہت سارے آلو نکلتے ہیں اور انہیں جموں یا کشمیر میں بیچا جاتا ہے۔اور وہاں سے دگن ٹاپ کی جانب رخ ہوتا ہے جہاں بائیں جانب ایک سیاحتی مقام جبڑ ہے جہاں پر لوگ اور اسکولی بچے ایکسکرشن آتے ہیں کھیلنے کے لئے ایک کھلا میدان ہے ساتھ میں ایک چشمہ بھی جاری ہے جس کا پانی گائوں داچھن اور اند ھ کو سیراب کرتاہے یہ چشمہ بارہ مہینے جاری رہتا ہے ۔یہاں لوگوں کی ڈھوک بھی ہے جو موسم سرمامیں کچھ مہینے یہاں پر گزارتے ہیں ۔اور چلتے چلتے اوپر کی جانب مشہور سیاحتی مقام دگن ٹاپ آتا ہے جووادی گول کی سب سے اونچی جگہ ہے ۔یہاں پر ضلع ریاسی اور ضلع رام بن کی درمیانی جگہ ہے جہاں پردونوں اضلع کے لوگ گرمیوں کے موسم میں سیرو تفر یح کے لئے آتے ہیںیہ بہت ہی خوبصورت جگہ ہے یہاں پر بھی کچھ لوگوں کی ڈھوک ہے جو موسم گرما میں اپنے مال مویشی کے ساتھ آتے ہیں۔دگن ٹاپ سے آگے تقریباََ چار کلومیٹر کے بعد بائیں جانب ایک اور مشہور سیاحتی مقام راما کنڈ ہے جو اس روڈسے تقریباََ چار یا پانچ کلو میٹر ہے یہ بھی ایک روح افزا ء مقام ہے جہاں پر لوگ سیرو تفریح کرنے کے لئے آتے ہیں یہاں پر لوگ ہزاروں کی تعداد میں ضلع ریاسی اور رام بن سے آتے ہیں اور خاص کر اسکولی بچے یہاں پر سیر و تفریح کرنے کے لئے آتے ہیں ۔چاروں اطراف سے بہت ہی حسین کوہسار موجود ہیں اللہ تعالیٰ ان کوہساروں میں وہ حسن رکھا ہے جو ایک بار اس حسین وادی کو دیکھتا ہے تا دیر تک اس کی آنکھوں میں ان کا حسن رقص کرتا ہے۔ اور پھر دوبارہ آنے کی چاہ رہتی ہے ۔میرے پاس وہ سحر بیانی نہیں ہے جس سے میں اس لا زوال حسن کو بیان کر وں ۔یہاں سے نیچے کی جانب گائوں بدھن آتا ہے سڑک کے کچھ موڑ نیچے کی جانب گزرنے کے بعد آخری موڑ کی بائیں جانب ایک زیارت ہے جومشہور بزرگ پیر فتح شاہ ؒ صاحب کی آرام گاہ ہے جہاں پرہر وقت کثیر تعداد میں لوگ آتے رہتے ہیں اور آگے چل کر بدھن منڈی آتی ہے یہاں پر بہت سے دکھانیں ہیں اور نیابت ہیڈکواٹر بھی موجود ہے یہاں سے آگے کی جانب چلتے چلتے ایک اور گائوں چچی میں پہنچتے ہیں یہاں پر ایک لوہے کا پل ہے اس پُل کی دائیں جانب پن چکی موجود ہیں جنہیں علاقائی زبان میں گھراہٹ کہا جاتا ہے چاروں اطراف سے لوگ یہاں پر آٹا پیسنے کی غرض سے آتے ہیں۔ اس نالے کا پانی سفید دودھ کی طرح ہے بہت ہیں پرکشش دریا ہے بس جو بھی دیکھے اس کی چاہ اس پانی میں نہانے کی ہوتی ہے یہ پانی پیر پنچال کے دامن سے سینا چیر کر آتا ہے اس پل کے گزرنے کے بعد گائوں جمسلان ہے جہاں دائیں جانب ایک مشہور ولی کی بیٹھک بھی ہے جس کا نام حضرت شاہ فریدلدین بغدادی ؒ ہے ان کی زیارت کشتواڑ میں موجود ہے لیکن کسی زمانے میں ان کا رخ یہاں کی طرف ہوا تھا اور یہاں پر بیٹھے تھے۔اور اس مقدس مقام پر بھی لوگ آتے جاتے ہیں ۔ اور یہاں سے آگے چلتے ہوئے بائیں جانب پولس چوکی سڑک کے ساتھ موجود ہے۔اور آگے گائوں شجروں تراملہ پہنچتے ہیں جہاں پر کچھ دکانیں بھی موجود ہیں اس کے بعد سیدا مہور کنسولی پہنچتے ہیں اور یہاں پر مہور کا نیا ہسپتال بھی تعمیر کیاگیا ہے۔ اس کے بعد سب ڈویژن مہور آتا ہے یہاں پر راستے میں ہی آرمی کیمپ ہے اور بائیں جانب مہور بازار ہے ۔اور آگے کی جانب چلتے ہوئے دئیں جانب پٹرول پمپ مہور ہے اور وہاں سے گزرتے ہوئے ایک اورپل آتا ہے جو مہوراور ساڑ کے بیچ میں ہے جسے جملان پل کہا جاتا ہے یہاں بھی بائیں جانب پن چکی ہے ۔جہاں پر بہت سارے گائوں یہاں پر مکی لے کر آتے ہیں۔ اور یہاں کا پانی کتاجی کے دامن سے آتا ہے اور گٹیاوالی سے سیرنی اور سیرنی سے چٹا باس ہوتے ہوئے مالا جملان میں آتا ہے اور اس پل سے آگے بڑھ کر گائوں ساڑ آتا ہے یہاں سڑک کے بائیں جانب جامع مسجد شریف بھی موجو د ہے اور آگے چلتے ہوئے گائوں بگہ آتا ہے جہاں پر مہور کا ڈگری کالج ہے جو مہور سے تقریباََ 12 کلومیڑ کی دوری پر واقع ہے ۔بگہ کے آخری موڑ پر نیچے کی جانب چسانہ اور راجوری کی جانب سڑک جاتی ہے مگر بگہ سے دائیں جانب ہی گلاب گڑھ کی جانب سڑک نکلتی ہے اور انگرالہ ،ٹکسن،شیڈول سے پگی حالہ سے ہوتے ہوئے گلاب گڑھ کی سر زمیں پر پہنچتے ہیں اس کا اصلی نام ہر گام تھا لیکن گلاب سنگھ کے آنے کی واجہ سے مہارجہ گلاب سنگھ نے اس گائوں کو اپنے نام سے منسوب کیا اور گلاب گڑھ نام رکھا ۔یہ گائوں بھی بہت خوبصور ت ہے جو پیر پنچال کے دامن میں ہے یہاں پر بھی بہت ساری خوبصورت جگہیں ہیں جو سیاحوں کے لئے باعث مسرت ہیں ۔گلاب گڑھ کے شمال میں پیر پنجال کی پہاڑیاں اور دائیں جانب گائوں دیول ہے جو زیرو کلومیڑ پر منحصرہے اور اس کے ساتھ ہی شبراس گائوں واقع ہے اور بائیں جانب گائوں برنسال،کھوڑاور لار وغیرہ واقع ہیں ۔اور جنوب میں گائوںشڈول،اڑبیش ٹکسن ساڑ بگہ واقع ہے۔اور پیر پنجال کے کوہساروں سے وادی انس سینا چیر کر نکلتی ہے جو گلاب گڑھ اور دیول کے بیچ سے ہوتے ہوئے شیڈول اور اڑبیش کے دامن میںبہتی ہے اور آخر ارناس میںدریائے چناب سے ملتی ہے ۔ یہ خطہ بھی قدرتی حسن سے مالامال ہے۔یہاں گرمیوں کے دوران گردونواح کے سبھی گائوں سیر و تفریح کے لیے آتے ہیں اور کچھ لوگ چراگاہ کے سلسلے میں آتے ہیں ۔ ان میں سے تھرو، بدھن،مہور،مولی بنہ ،چانہ،شکاری، آگ سی ،بن ،برجہ پتھری ،منگناڈ،نکہ، پوش مال۔ نکن اور اڑی تل وغیرہ ہیں جو برسات کے موسم میں مال مویشی لے کریہاں پر رہایش پزیر ہو تے ہیں۔اور گول سے گلاب گڑھ کا سفر تقریبا 110کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے جسے ہم چھوٹا سمجھ کر گول گلاب گڑھ کہتے ہیں۔
فانی ایاز گولوی…9596606391
گول ، ضلع رام بن
نوائے سروش
اپریل فول اور اسلامی تقویٰ
خالق کائنات نے معیار حیات وضع کرنے کے لئے انسانی عقل کو کبھی بھی کافی نہیں سمجھا اور یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں وقفے وقفے سے انسانوں کی رہبری کے لئے انبیا کی بعثت اور کتب سماوی اور صحائف کے نزول کا سلسلہ جاری رکھا اور اس سلسلے کو خاتم الانبیا جناب محمد الرسول اللہ کی ذات مطہرہ پے فرقان مجید کے نزول کے ساتھ مکمل کرکے در نبوت کو ہمیشہ کے لئے بند کردیا اور قرآن مقدس میں اللہ رب العزت نے متعد آیات میں نزول قرآن کا مقصد انسان کو تاریکیوں سے نکالنے اور روشنی کی طرف رہنمائی کرنا بیان فرمایا ہے۔قرآن ایک آفاقی پیغام ہے اور اسکے مخاطب جہاں عوام الناس ہے تو وہیں مومنین بھی ہیں اور خاتم الانبیا جناب محمد الرسول اللہ تمام جن و انس کے لئے بشیر و نذیر بنا کے بھیجے گئے ہیں۔اللہ کے قرآن اور اور محمد کی نبوت کو تسلیم کرنے والے مسلمان کہلاتے ہیں۔مگر الوہیت اور رسالت کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ صالحات کی پابندی ہی باعث نجات ہے۔صالحات انسانی اعمال کا وہ سلسلہ ہے جسکی اسلامی ضابطہ حیات میں مکمل تفصیل موجود ہے۔ضابطہ حیات اسلامی ایسا مکل قانون ہے جس میں تغیر تبدل، تکثیر تقلیل،تاویل تحریف، تخفیف یا اضافے کی ہرگز نہ گنجائش نہ اجازت تورات، انجیل اور زبور بھی آسمانی کتب ہیں جنکی تصدیق اللہ کی آخری کتاب میں موجود ہے اور آخری پیغبر کی نشانیاں اور انکی غیر مبہم تفصیل تورات اور انجیل میں موجود ہے۔جس طرح سے امت مسلمہ کو تورات اور انجیل کی صداقت پے ایمان ہے اسی طرح اگر یہود اور نصاری ان کتابوں میں موجود آخری نبی کی نشانیوں کی صداقت پے ایمان لائیں تو پوری دنیا امن و آشتی کا گہوارہ بن جائیگی۔مگر یہود و نصاری نے اپنی مذہبی کتب میں تحریف اور اپنے انبیا کی تعلیمات سے اختلاف کیا اس لئے وہ گم گشتہ راہ ہوئے۔نصاریٰ تو آج بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ نے انکے گناہوں کا کفارہ ادا کردیا ہے لہذا وہ آخرت کے عذاب سے بے نیاز عریانی ، فحاشی اور جبر و استعداد کے گناہوں کے سیلاب بہا رہے ہیں۔اور یہود تو اس امید پے کہ آخری نبی بنی اسرائیل میں پیدا ہونگے اور اس آخری نبی کی پیدائش کے انتظار میں بیقرار تھے جسکی بابت تورات میں واضح نشانیاں موجود تھیں مگر جب یہی آخری نبی بنو اسماعیل میں پیدا ہوئے تو یہودی حسد سے جل بھن گئے اور آخری نبی کی نبوت سے انکار کردیا۔مگر ایسا بھی نہیں کہ سارے ہی یہودی انکار کر بیٹھے بلکہ کچھ یہودی جیسے عبد اللہ بن سلام وغیرہم جنہیں اپنی مذہبی تورات پے یقین کے ساتھ ساتھ اس کتاب کا علم بھی تھا اور اس میں تحریف یا اختلاف کو راہ نہ دی، نے نبی کے چہرے پے نگاہ ڈالتے ہی اعلان کردیا کہ " خدا کی قسم یہ چہرہ جھوٹا نہیں ہوسکتا" اور انکی زبان پے کلمہ شہادت جاری ہوگیا اور حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔آج بھی اگر اہل تورات اپنی مذہبی کتاب کی غیر تحریف شدہ شکل پے عمل شروع کر دینگے تو قبلہ اول کی بجائے خانہ کعبہ کی دیواروں کے سایوں پے نثار ہونگے مگر کتمان علم کی شامت اور اپنے حریفوں یعنی بنو اسماعیل کے ساتھ خصومت و عداوت نے اس قوم کو آفتاب پے تھوکنے کے لئے آمادہ کردیا اور یہ اس چمگادڑ کی طرح ہیں جو نار نمرود کے شعلوں کو بھڑکانے کی خاطر اپنے شہپر پھڑ پھڑا رہا تھا مگر جہاں خلیل بیٹھا ہو وہاں ایمان کی بارش سے نار نمرود کے شعلوں میں حرارت کہاں پیدا ہو سکتی ہے۔چودہ سو سال سے یہ قوم محض اس لئے تورات کی تحریف اور قرآن کی تکذیب کے درپے ہے کہ آخری نبی انکے خاندان سے نہیں بلکہ انکے حریف خاندان سے پیدا ہوا۔اس واقعے کے حسد نے انکی سوچ کو تیرہ و تاریک اور انکے مقصد حیات کو تخریب و تکذیب کے لئے آمادہ کردیا ہے۔یہ قوم امت مسلمہ کے جسد ایمان و ایقان کو شکست و ریخت سے دوچار کرنے کے لئے مختلف داو پیچ استعمال کرتی آرہی ہے۔اپنی متفرق اور متعدد فریبکاریوں میں اپریل فول بھی اسی قوم کی فریب کاری ہے۔آج سے آٹھ سو سال قبل سوائے سپین کے پوری دنیا میں یہود نے امت مسلمہ کو بیحد ضعیف کردیا مگر ملک سپین کے مسلمانوں پے انکا ہر داو ناکام رہا۔آخر یہودیوں نے اپنے کچھ جاسوس صرف یہ جاننے کے لئے ملک سپین میں داخل کردئے کہ معلوم کیا جائے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ وہ اس ملک کے مسلمانوں کے اسلامی طرز حیات کی دیواروں میں صدمہ ڈالنے میں نا کام رہے۔کافی کھوج کے بعد معلوم ہوا کہ وہاں کے مسلمان اہل تقوی ہیں اس لئے انکی ایمانی کیفیت میں تزلزل پیدا کرنا مشکل ہے۔آخر کار یہودیوں نے ایک نئی فریب کاری کو کام میں لایا اور وہ کارگر بھی ہوئی اور وہ فریبکاری یہ ہے کہ یہودیوں نے اس ملک کے اندر سگریٹ اور شراب داخل کردی اور بغیر دام کے نوجوانوں کو فراہم کرتے گئے۔زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ملک سپین کے مسلمانوں کا کردار تنزل کا شکار اور روبزوال ہونا شروع ہوگیا۔اپنی اس کامیاب فریب کاری کو ہر سال یکم اپریل کو تہوار کے طور منانے کا سلسلسلہ اسی روز سے جاری ہے اور امت مسلمہ کی ایک خاصی تعداد شاید ان اعدائے دین کی نسبت زیادہ جوش خروش سے مناتے نظر آتے ہیں۔اس مردود قوم کے بارے میں اللہ نے اتنی بڑی وعید سنائی ہے اور ہم ہیں کہ طعام و قیام ،رفتار، گفتار، دستار، اطوار اور نشت و برخاست میں انکی تقلید کو اپنی معراج سمجھتے ہیں۔اپریل فول تو ایک دن منایا جاتا ہے مگر امت مسلمہ کا کوئی بھی فرد اگر ایک دن فول بنتا ہے تو اس سے یہی سمجھا جائیگا کہ وہ ساری زندگی اسی نہج پے گذار کر نا کامی کے بھنور میں غرقاب ہوگا ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ صادق المصدوق ؐکی تعلیمات پے عمل کیا جائے تاکہ معاشرے میں روز افزوں باعث ننگ و عار واقعات کا سد باب ہوسکے اور امت مسلمہ حصار خرافات سے نکل کر دنیا و عقبی میں سرخرو اور کامیاب و کامران ہو سکے۔ بے شک قرآن ہمیں دیگر تما مذاہب کا احترام کرنا سکھاتا لیکن ہماری کامیابی اتباع سنت میں ہے۔اس امت کی شیرازہ بندی کو یقینی بنانے کے لئے اختلاف کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
طارق ابراہیم سوہل… 8493990216
نیل چدوس تحصیل بانہال