بورڈ کے ملازمین کےلئے گرؤپ میڈیکلیم انشورنس پالیسی کو منظوری
سرینگر //گورنر ستیہ پال ملک کی صدارت میں یہاں راج بھون میں منعقدہ شری ماتا ویشنو دیوی شرائین بورڈ کی63 ویں میٹنگ منعقد ہوئی ۔ اس موقعہ پر ملازمین کی بہبودی کے لئے فیصلے لئے گئے۔میٹنگ میں بورڈ نے ریاستی حکام کی طرف سے اپنے ملازمین اور ان کے افراد خانہ کے لئے وضع میڈی کلیم انشورنس پالیسی بورڈ کو بورڈ کے ملازمین پر عملانے کا فیصلہ لیا۔اس سکیم کے تحت بورڈ کے2960 ملازمین کو لایا جائے گا اورا س سکیم کے ذریعے سے ایک ملازم کو6 لاکھ روپے کا انشورنس کو¿ر فراہم ہوگا اور اس کے کنبہ کے5 افراد بھی سکیم سے فائدہ اُٹھاسکتے ہیں اور میڈی کلیم پالیسی کے لئے بورڈ کے ہر ملازم کو8777 روپے کا پریمیم ادا کرنا ہوگا اور انہیں مختلف ہسپتالوں میں بغیر نقدی کے علاج و معالجہ کی سہولیات دستیاب ہوں گی جنہیں یہ سہولیت ابھی تک صرف شری ماتو ویشنو دیوی نارائینا سُپر سپشلٹی ہسپتال ککریال میں دستیاب تھی۔میٹنگ میں بورڈ کے ممبران ڈاکٹر ایس ایس بلوریہ، ڈاکٹر اشوک بھان، مسٹر ایچ ایل مینی، مسٹر جسٹس( ریٹائرڈ) پرمود کوہلی، میجر جنرل( ریٹائرڈ) شو کمار شرما اور مسٹر بی بی ویاس، چیف سیکرٹری بی وی آرسبھرامنیم، گورنر کے پرنسپل سیکرٹری اُمنگ نرولا، چیف ایگزیکٹو افسر شرائین بورڈ دھیرج کمار، مسٹر سمرندیپ سنگھ، شرائین بورڈ کے نامزد چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر ایم کے کمار اور ایڈیشنل چیف ایگزیکٹو افسر انشل گرگ بھی موجود تھے۔
گورو کُل کے ذہین طُلاب کےلئے فیلو شِپ سکیم منظور
سرینگر //گورنر ستیہ پال ملک کی صدارت میں یہاں راج بھون میں منعقدہ شری ماتا ویشنو دیوی شرائین بورڈ کی63 ویں میٹنگ منعقد ہوئی۔بورڈ نے ایس ایم وی ڈی گورو کُل چرن پڈوکا کٹرہ کے کام کاج کا جائیزہ لیتے ہوئے ایک اہم فیصلے کے تحت گورو کُل کے شاستری کلاسوں کے5 ذہین طُلاب کے لئے فیلو شِپ کی سکیم کو منظور ی دی تا کہ وہ سنسکرت، جیوتش درشن اور وید مضامین میں آچاریہ یا پی جی کر سکیں۔ یہ میرٹ سکالر شِپ طُلاب کو2 برسوں کے لئے دی جائے گی اور یہ شاستری کورس کے3 برسوں کے دوران اُن کی تدریسی کارکردگی پر مبنی ہوگی۔ فیلو شِپ کے تحت بورڈ طُلاب کو سالانہ48 ہزار روپے کی مالی معاونت دے گا۔میٹنگ میں بورڈ کے ممبران ڈاکٹر ایس ایس بلوریہ، ڈاکٹر اشوک بھان، مسٹر ایچ ایل مینی، مسٹر جسٹس( ریٹائرڈ) پرمود کوہلی، میجر جنرل( ریٹائرڈ) شو کمار شرما اور مسٹر بی بی ویاس، چیف سیکرٹری بی وی آرسبھرامنیم، گورنر کے پرنسپل سیکرٹری اُمنگ نرولا، چیف ایگزیکٹو افسر شرائین بورڈ دھیرج گپتا، مسٹر سمرندیت سنگھ، شرائین بورڈ کے نامزد چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر ایم کے کمار اور ایڈیشنل چیف ایگزیکٹو افسر انشل گرگ بھی موجود تھے۔اس وقت اس مکمل رہایشی ادارے میں چھٹی جماعت سے لے کر شاستری پارٹ ٹو تک172 طُلاب زیر تعلیم ہیں اور انہیں گورو کُل میں قیام و طعام کے علاوہ دیگر سہولیات دستیاب کی جاتی ہیں۔
سپر سپیشلٹی ہسپتال ککریال کی 52ویں جنرل باڈی میٹنگ
ارتھوپیڈکس اور نیروسرجری میں دستیاب خدمات کو فروغ دینے پرزوردیا
سری نگر /گورنر کے مشیر اور شری ماتا ویشنو دیوی نارائنا سپر سپیشلٹی ہسپتال ککریال کی گورنننگ باڈی کے چیئرمین بی بی ویاس نے زور دے کر کہا ہے کہ ہسپتال میں آرتھوپیڈک اور نیرو سرجری شعبوںمیں دستیاب سہولیات کو فروغ دینا جانا چاہیئے تاکہ سڑک حادثوں اور قدرتی آفات میں زخمی ہونے والے افراد کو بہتر طبی نگہداشت فراہم کی جاسکے۔بی بی وِیاس ہسپتال کی گورننگ باڈی کی 52ویں میٹنگ میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔ میٹنگ میں شرائین بورڈ ممبر ڈاکٹر ایس ایس بلوریہ ، چیف ایگزیکٹیو آفیسر دھیرج گپتا، نامزد چیف ایگزیکٹیو آفیسر سمرن دیپ سنگھ ، ایڈیشنل سی ای او ڈاکٹر ایم کے کمار ،ہسپتال کے چیف ایڈمنسٹریٹیو آفیسر ڈاکٹر ایم ایم ہرجائی اور چیف انجینئر ایم ایم گپتا نے شرکت کی۔اس کے علاوہ شرائین بورڈ ککریال ہسپتال اور نارائنا گروپ کے کئی عہدہ داروں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے میٹنگ میں حصہ لیا۔ ہسپتال میں دستیاب خدمات کو لوگوں تک پہنچانے کے عمل کا جائزہ لیتے ہوئے چیئرمین موصوف کو بتایا گیا کہ شری ماتا ویشنو ی دیوی نارائنا سپر سپیشلٹی ہسپتال کی جانب سے رواں ماہ کے دوران ریاست کے مختلف حصوں میں 21عوامی آوٹ ریچ طبی کیمپ لگائے گئے ہیں۔ بی بی وِیاس نے اُن علاقے کے لوگوں کو ، جہاں یہ کیمپ لگائے گئے ہیں ، ان کی اہمیت اور افادیت اور ان میں دستیاب سہولیات کے بارے میں جانکاری دینے پر زور دیا۔ سپر سپیشلٹی ہسپتال ککریال کو دیگر کئی اداروں سے منسلک کرنے کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے گورننگ باڈی کو بتایا گیا کہ ہسپتال کو پہلے ہی سی جی ایچ ایس کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے جبکہ ای سی ایچ ایس اور دیگر اداروں کے ساتھ اس ہسپتال کو عنقریب جوڑا جائے گا۔اس کے علاوہ میٹنگ میں مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو دی گئی تجاویز کا جائزہ لیا گیا ۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ مریضوں کی مناسب تجاویز پر عمل کیا جانا چاہیئے تاکہ ہسپتال میں دستیاب خدمات میں مزید بہتر ی لائی جاسکے۔گورننگ باڈی نے 230بستروں والے اس اعلیٰ طبی ادارے کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے مریضوں کے بڑھنے رَش پیش نظر سہولیات میں مزید بہتری لانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
بٹوال برادری کاسماجی برائیوں کے قلع قمع کرنے پرزور
جموں//بٹوالس انڈیا(ایک سماجی تنظیم ) کاایک اجلاس منعقدہواجس میں برادری کے پنجاب اورجموں وکشمیرسے تعلق رکھنے والے ممبران نے شرکت کی۔اس دوران میٹنگ میں بٹوال برادری کومضبوط بنانے کےلئے لائحہ عمل پرغوروخوض کیاگیا۔اس دوران حلف لیاگیاکہ سماج کوتیزی کے ساتھ پھیل رہی سماجی برائی مثلاً شراب سے بچایاجائے ۔مقررین آرایل کیتھ،سرداری لال کیتھ،تلک راج بساودیگران نے خیالات کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ شراب سماج میں خانگی مسائل پیداکرنے کاذمہ دار ہے اوراس کی وجہ سے اخلاقی قدریں بھی پامال ہورہی ہیں۔اس موقعہ پرحکومت ہندسے مانگ کی گئی کہ بٹوال برادری کے حق میں سنٹرل پلاننگ کمیشن کے ذریعے کی گئی اتھنوگرافک سٹڈک 1994 کی بنیادپراکنامک کم ایمپلائمنٹ پیکیج منظورکیاجائے۔اس دوران میٹنگ میں ششی کمارایڈوکیٹ، کرشن لال ،سبھاش چندر،پریتم چند، اشوک کمار، اومکارناتھ، نصیب چند اوررام لال موجودتھے۔
سانبہ میں پراسرار حالت میں ایک شخص کی لاش برآمد
یو ا ین آئی
جموں // جموں کے گنگیال علاقہ سے لاپتہ ہونے والے شخص کی لاش اتوار کے روز پراسرار حالت میں سانبہ سے برآمد ہوئی ۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ 30 سالہ دلبیرسنگھ ساکنہ گنگیال کی لاش اتوار کو بعد دوپہر سانبہ سے برآمد ہوئی اور متوفی کے چہرے اور گلے پر کافی زخم ہیں جس سے ظاہر ہوتاہے اس کا قتل کیا گیا ہے ۔پولیس نے معاملہ درج کر تحقیقات شروع کر دی ہے ۔ یو این آئی
ٹیچروں کی تنخواہیں ساتویں تنخواہ کمیشن کے مطابق واگذارکی جائیں:بھوپندرسنگھ
جموں // رہبرتعلیم ٹیچرس فورم کے سینئرنائب چیئرمین بھوپندرسنگھ نے کہاہے ریاست کے چالیس ہزار کے قریب رہبر تعلیم اساتذہ گذشتہ چار ماہ سے لگاتار تنخواوں سے محروم ہونے کی وجہ سے پریشانیوں میں مبتلاءہو گئے ہیں – یہاں جاری پریس بیان کے مطابق رہبر تعلیم ٹیچرز فورم نے اساتذہ کی چار ماہ سے بند پڑی تنخواہوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اساتذہ کومسلسل مالی طور پر پریشان کیا جا رہا ہے – اس بارے میں فورم کے سینئرنائب چیئرمین بھوپندرسنگھ نے کہا ہے کہ اساتذہ کی تنخواہیں بند کر کے ریاست کے ہزاروں کنبوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور گذارشات کے باوجود ان کی بند پڑی تنخواہیںواگذار نہیں کی جارہی ہیں جو کہ قابل افسوس ہے – اُنہوں نے کہا کہ اساتذہ کو ہر بات اور جائز حق کے لئے بار بار احتجاج کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے – ا±نہوں نے کہا ہے کہ ساتویں پے کمیشن کے اطلاق کے بعد آج بھی اساتذہ جولائی ،اگست ،ستمبر اور اکتوبر ماہ کی تنخواوں سے محروم ہیں – ا±نہوں نے مزید کہا ہے کہ اساتذہ کو مالی طور پر پریشان کر کے نوبت فاقہ کشی تک آپہنچی ہے – فورم چیرمین نے کہا ہے کہ اساتذہ کو اپنے اہل و عیال کی کفالت کرنا مشکل ہوچکا ہے – ا±نہوں نے کہا ہے کہ دکاندار وں نے اب انہیں ادھار دینا بھی بند کر دیا ہے جبکہ بنک سے قرضہ لئے اساتذہ کی وقت پر قسط ادا نہ ہونے کی وجہ سے ا±نہیں سود در سود پیسہ دینا پڑ رہا ہے – تانترے نے کہا ہے کہ اگر اساتذہ کی بند پڑی تنخواہیں فوری طور پر واگذار نہ کی گئی تو وہ دوبارہ سڑکوں پر ا±تر آنے کو مجبور ہو جائیں گے جس کی ذمہ داری متعلقہ محکمہ جات کے افسران اور ریاستی سرکار پر عائد ہو گی – ا±نہوں نے کہا کہ رہبر تعلیم اساتذہ کو روز اول سے مختلف طریقوں سے تنگ کر کے ذہنی طور پر پریشان کر کے رکھ دیا گیا ہے اور اب گورنر انتظامیہ سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ ان پریشانیوں سے اساتذہ کو آزاد کر ائیں تاکہ وہ اپنے ا±نہیں فرائض بنا کسی ذہنی پریشانی کے انجام دے سکیں ۔اس سلسلے میں بھوپندرسنگھ نے ساتویں تنخواہ کمیشن کے تحت 41ہزارماسٹروں اورٹیچروں کے حق میں تنخواہ واگذارکرنے کی مانگ کی گئی۔انہوں نے کہاکہ رہبرتعلیم ٹیچروں کوپچھلے تین مہینوں سے تنخواہیں نہیں دی گئی ہیں جس کی وجہ سے ان کے کنبوں کوسخت پریشانیوں کاسامناکرناپڑرہاہے۔انہوں نے کہاکہ گورنرانتظامیہ کوتہواروں سے پہلے آرای ٹی ٹیچروں کوتنخواہیں دینی چاہیئے تاکہ ان کی پریشانیوں کاازالہ ہوسکے۔
پنون کشمیرکا انسانی حقوق کے معاملات سے متعلق تبادلہ خیال
جموں//پنون کشمیرنے ہیومن رائٹس کمیٹی کاایک اجلاس منعقدکیاجس کی صدارت تنظیم کے صدراورچیئرمین ہیومن رائٹس کمیٹی اشونی کمارچرنگو نے کی۔ اس دوران میٹنگ میںانسانی حقوق کے معاملات سے متعلق تبادلہ خیال کیاگیا۔ وریندررینہ چیئرمین سیاسی امورکمیٹی، اپندرکول، جنرل سیکریٹری،کمل بھاگتی۔جنرل سیکریٹری (آرگنائزر)، اشوک چرنگو، پرمود کمار، ایس کے بٹ، بی ایل گلیاری ،سمیربٹ ،سنجے کول چیئرمین ،اوورسیز افیرس (بوسٹن ۔یوایس ) موجودتھے۔ میٹنگ میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں یواین ہیومن رائٹس کونسل 2019-2022 کے انتخابات جس میں انڈیاکو 188 ووٹ حاصل ہوئے کاخیرمقدم کیاگیا۔اس موقعہ پراشونی چرنگونے کہاکہ پنون کشمیرگذشتہ تین دہائیوں سے انسانی حقوق کے شعبے میں قابل قدرکام کررہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ یواین ایچ آراے میں ہندوستانی نمائندے کی تعیناتی خوش آئندہ ہے جس سے ایشیاپیسفک ریجن کوفائدہ پہنچے گا۔انہوں نے کہاکہ کشمیری پنڈت مہاجرہوکراپنے ہی ملک میں رفیوجیوں کی طرح رہ رہے ہیں۔انہوں نے اقوام متحدہ میں جموں وکشمیرمیں انسانی حقوق سے متعلق رپورٹ کودرست کیاجاناچاہیئے۔اس موقعہ پر سنجے کول چیئرمین اوورسیز افیرس نے ڈوگروں اورہندوﺅں کے ساتھ امتیازپربھی خیالات کااظہارکیا۔وریندررینہ نے شہری بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ کرنے والوں کوتنقیدکانشانہ بنایا۔