۔2برسوں سے تعلیمی ادارے بند، طلباء کا مستقبل تاریک
انتظامیہ دیگر شعبوں کیلئے لائحہ عمل تیار کر سکتی ہے تعلیم کیلئے کیوں نہیں :عوام
عشرت حسین بٹ
منڈی//ملک بھر میں جہاں گزشتہ دو برس سے کووڈ کی وجہ سے تمام تعلیمی ادارے سرکار کی جانب سے بند رکھے گئے ہیںلیکن دیگر شعبوں کو بحال رکھنے کیلئے انتظامیہ کی جانب سے معیاری لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے ۔عوامی حلقوں نے انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ اگر دیگر شعبوں کو بحال رکھنے کیلئے قاعدہ تیار کیاجاسکتا ہے تو تعلیمی نظام کو فعال بنانے کیلئے لاپرواہی کا مظاہرہ نہیں کیاجانا چاہئے ۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ دو برسوں سے تعلیمی ادارے بند رکھے گئے ہیں جس کی وجہ سے طلباء کا مستقبل تاریک ہوتا جارہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ انتظامیہ آن لائن تعلیم کو فروغ دینے کا نعرہ لگارہی ہے لیکن زمینی سطح پر مذکورہ نظام مکمل مفلوج ہوکر رہ گیا ہے ۔سماجی کارکنوں نے کہاکہ شادی بیاہ و کھیل کود کیساتھ ساتھ دیگر تقریبات میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ شرکت کرتے ہوئے تاہم انتظامیہ نے صرف تعلیمی اداروں کو ہی بند رکھا ہوا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں کو سرکار کی جانب سے بند رکھ کر طلباء کے مستقبل کو تاریکی کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ ان سماجی کارکنان کا کہنا تھا کہ جس طرح سرکار کی جانب سے باقی تقاریب کو چلایا جا رہا ہے اسی طرح تعلیمی اداروں کو بھی کھولنے کاایک لائحہ عمل تیار کیا جائے تاکہ گزشتہ دو برس سے رکی پڑی ہوئی تعلیمی سرگرمیاں پھر سے ایک بار شروع ہو سکیں اور طلباء و طالبات کے مستقبل کو بہتر روشنی مل سکے۔ سماجی کارکن مولوی فرید نے کشمیر عظمی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سرکار کو چاہیے کہ وہ دوسرے شعبہ جات کی طرح تعلیمی اداروں کو بھی کھول دیں تاکہ بچے سکولوں میں جا کر اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکار نے ہر طرح سے عوام کو ہراساں کر کے رکھا ہوا ہے اور تعلیمی نظام کو بھی درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے چلتے بچوں کو اگر چہ آن لائن تعلیم دی جارہی ہے مگر زمینی سطح پر طلباء کو کوئی بھی فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پونچھ اور راجوری کے دور دراز علاقہ جات میں بسے غریب عوام کے بچوں کے پاس سمارٹ فون دستیاب نہیں ہیں جو اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ انہوں نے سرکار ہر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت سماج میں ہر طرح کے سیاسی سماجی اور دوسری تقریب انجام دی جارہی ہیں اگر ان پر کوئی روک نہیں ہے تو تعلیمی اداروں کو کیوں بند رکھا گیا ہے۔والدین نے بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ سرکاری سکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ سے شروع کی جائیں ۔
نوشہرہ میں چوری کی وارداتیں
رمیش کیسر
نوشہرہ //سب ڈویژن نوشہرہ کے مختلف علاقو ں میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب نقب زنی کی کئی وارداتیں انجام دی گئی تاہم اس سلسلہ میں جموں وکشمیر پولیس نے معاملہ درج کرتے ہوئے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں ۔پولیس نے بتایاکہ نوشہرہ سب ڈویژن کے دبڑ ،بریری اور راجل علاقہ میں 6دکانوں میں چوری کی وارداتیں انجام دی گئی ۔انہوں نے بتایا کہ اس واردات کے دوران دکانوں سے ساز و سامان بالخصوص سرسوں کا تیل و نقدی بھی لی گئی جبکہ اس سلسلہ میں پولیس نے کارروائی عمل میں لاتے ہوئے معاملات درج کرلئے ہیں ۔پولیس نے بتایا کہ اس سلسلہ میں سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد بھی لی جائے گی ۔
پونچھ میںسرکاری دفاتر کا معائینہ
۔318ملازمین غیر حاضر پائے گئے
جاوید اقبال
مینڈھر //سرحدی ضلع پونچھ میں انتظامیہ کی جانب سے سرکاری دفاترکے اچانک معائیے کے دوران 318ملازمین غیر حاضر پائے گئے جبکہ ان میں سے کئی ملازمین کو چھٹی کو بھی دیکھایا گیا ہے ۔انتظامیہ کی جانب سے سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری کا معائینہ کرنے کیلئے ٹیمیں تشکیل دی گئی تھی جبکہ ان ٹیموں نے اچانک سرنکو ٹ ،پونچھ ،منڈی اور مینڈھر سب ڈویژن میں سرکاری دفاتر کا معائینہ کیا جس کے دوران مذکورہ ملازمین غیر حاضر پائے گئے ہیں ۔غیر حاضر ملازمین میں سے 151کو چھٹی پر دیکھایا گیا ہے تاہم ضلع ترقیاتی کمشنر نے غیر حاضر ملازمین کی تنخواہوں پر روک لگاتے ہوئے اپنی پوزیشن واضح کرنے کا حکم جاری کیا ہے ۔