منڈی کے صارفین بجلی کے اضافی بلوں سے پریشان
عشرت حسین بٹ
منڈی//منڈی تحصیل کے صارفین بجلی کے اضافی بلوں سے پریشان ہیں ۔صارفین نے متعلقہ محکمہ پرالزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ تحصیل منڈی کے لوگوں کو جولائی ماہ کے اضافی بلِ دئیے گئے ہیں جس کی وجہ سے صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے ۔نثار حسین ولد صفدر علی نامی ایک شخص کو جولائی ماہ کا بجلی کرایہ 25سو روپے جبکہ قصبہ کے ہی ذاکر حسین ولد غلام محمد کو جولائی ماہ کا 23سو روپے بل ارسال کیا گیا ہے ۔ نثار حسین نے اور ذاکر حسین نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ وہ ہر ماہ بجلی کا کرایہ متعلقہ بینک میں جمع کرواتے ہیں جس کی رسیدیں بھی ان کے پاس موجود ہیں مگر اس کے باوجود بھی انہیں محکمہ بجلی کی جانب سے 2ہزار سے زائد کا بل ارسال کیا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ کی جانب سے اس سے قبل بھی کئی مرتبہ اضافی بل بھیجے گئے ہیں تاہم متعلقہ محکمہ سے رجوع کرنے کے باوجود بھی اس سلسلہ میں کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے ۔منڈی کے متعدد لوگوں نے اس حوالے سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو اضافی بجلی کرایہ کے سلسلہ میں شکایت درج کرواتے ہوئے کہاکہ محکمہ کی جانب سے غیرضروری طورپر ہراساں کیا جارہاہے ۔انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ کو ہدایت جاری کی جائیں تاکہ غریبوں کو اضافی بلوں سے بچایا جائے ۔محکمہ کے اسسٹنٹ ایگز یکٹو انجینئر منڈی نے بتایا کہ اس معاملہ کی جانچ کی جائیگی ۔
سرکاری پیسے کو ہڑپنے پر تحقیقات کا مطالبہ
جاوید اقبال
مینڈھر //ضلع انتظامیہ پونچھ نے مینڈھر سب ڈویژن میں ایک خاتون سرپنچ اور اس کے خاوند کی جانب سے سرکاری پیسے کو ہڑپنے کے سلسلہ میں تحقیقات کا حکم جاری کیا گیا ہے ۔ضلع انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ایک حکم نامے میں کہاگیا ہے کہ سرپنچ ساگرہ کی جانب سے سرکاری پیسے پر غیر قانونی پر قبضہ کیا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سرپنچ ساگرہ زینب خاتون اس کا خاوند اور بہنوئی کی جانب سے غیر قانونی کام کیا گیا ہے ۔اس حکم نامے کے تحت انکوائری آفیسر تعینات کر کے ایک ماہ میں مکمل رپورٹ پیش کر نے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں ۔
محکمہ سیاحت کا جشنِ راجوری میلہ آج سے
راجوری //سرحدی ضلع راجوری میں محکمہ سیاحت کی جانب سے منعقدہونے والا جشنِ راجوری تمدنی پروگرام آج سے منعقد ہو رہا ہے ۔محکمہ کی جانب سے مذکورہ پروگرام کا اصل مقصد ضلع میں سیاحتی شعبہ کو ترقی دینا ہے ۔ڈاک بنگلہ راجوری میں منعقد ہونے والی تقریب میں ضلع اور صوبہ کیساتھ ساتھ جموں وکشمیر کے مختلف علاقوں سے فنکاروں کی ٹیمیں شرکت کرکے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گی ۔اس سلسلہ میں انتظامیہ کے ایک آفیسر نے بتایا کہ مذکور ہ تقریب کیلئے تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دی گئی ہے ۔
ایس ڈی ایم کی خالی نشست کو جلد پُر کرنے کامطالبہ
عظمیٰ یاسمین
تھنہ منڈی // ڈی ڈی سی ممبر تھنہ منڈی عبدالقیوم میر نے کمشنر سیکرٹری سے تھنہ منڈی میں ایس ڈی ایم کی خالی پڑی ہوئی نشست کو جلد از جلد پْر کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مشکل وقت میں عام لوگوں کو سہولیات دستیاب ہو سکیں۔ عبدالقیوم میر نے لیفٹیننٹ گورنر اور کمشنر سیکرٹری سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مشکلات کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں۔ میر نے کہا کہ ایس ڈی ایم دفتر سے جڑے ہزاروں کام تشنہ تکمیل ہیں جس کیلئے مذکورہ آفیسر کی تعیناتی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہاں کی غریب عوام کے بہت سارے مسائل ہیں جن کا ازالہ کیا جانا حکومت وقت کی ذمہ داری بنتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ نہ جانے کن وجوہات کی بنا پر تھنہ منڈی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے کیونکہ تھنہ منڈی میں پچھلے کئی مہینوں سے ایس ڈی ایم کی پوسٹ خالی ہے جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے لیکن کوئی اس جانب توجہ نہیں دے رہا ہے۔ ڈی ڈی سی ممبر نے حکومت سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ آفیسر کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوامی مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے۔
تعلیمی نظام میں آئی خامیوں کو دور کرنے کی مانگ
حسین محتشم
پونچھ// سرحدی ضلع پونچھ میں بنیادی تعلیمی سہولیات کی کمی ہے لیکن انتظامیہ کی جانب سے تعلیمی نظام کی بہتری کیلئے ابھی تک کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہیں ۔سیاسی و سماجی کارکن ایڈوکیٹ ایاز مغل نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی نظام میں پائی جانے والی بنیادی خامیوں اور اس کے گرتے معیار کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ حکومت جان بوجھ کر لوگوں کو تعلیم سے دور کرنا چاہتے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ کوڈ19کی وجہ سے ہمارا تعلیمی نظام مزید خستہ ہوتا جا رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہمارے لیڈر تو بڑے بڑے دعویٰ کرتے ہیں کہ تعلیم کے لئے عربوں کی رقومات واگزار کی جا رہی ہیں لیکن زمینی سطح پر وہ رقومات نظر نہیں آتی۔انھوں نے کہا کہ تعلیمی نظام ایسا ہے کہ ہمارے اکثر نوجوانوں کو اپنے ملک کے نقشہ کی صحیح معلومات نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کو تباہ کرنے کے لئے یہ کافی ہے کہ ان کو تعلیم سے دور رکھا جائے اور پونچھ جیسے سرحدی ضلع میں یہ کام بہت آسان ہے کیونکہ یہاں کے عوام از حد غریب ہیں جو نجی اسکولوں میں بچوں کو بھیج نہیں سکتے ہیں اور سرکاری سکولوں کے پاس اچھی عمارتیں نہیں،اساتذہ کی کمی ہے اور دیگر بنادی سہولیات بھی نہیں ہیں۔انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضلع پونچھ کے دور دراز علاقوں میں ایک ایک کمرے میں آٹھ کلاسوں کے طلبا کو پڑھایا جاتا ہے اور وہ ایک ایک کمرہ بھی ایسا ہے کہ کسی کی چھت نہیں تو کسی کی دیوار نہیں تو کسی کی کھڑکی دروازے نہیں ہیں۔انھوں نے مزید کیا کہ ابتدائی تعلیم ملک کے تعلیمی نظام کی بنیاد ہوتی ہے اس کو درست کئے اعلیٰ تعلیم کے روشن مستقبل کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے کہاابتدائی تعلیم کو معیاری بنا کر ہی ملک اور عوام کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ضلع پونچھ میں بنیادی تعلیم کو معیاری اور بہتر بنانے کے لئے یہاں تعلیمی نظام میں وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کے ساتھ سرکار کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔ سب کے لئے یکساں بنیادی تعلیم لازمی ہو جائے تو اس کے نتائج جلد برآمد ہونے کا امکان ہے۔انھوں نے ضلع میں اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں کی طرف خصوصی توجہ دینے کی لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کی۔
جامع مسجد نظام الدین پونچھ میں پانی کی قلت
حسین محتشم
پونچھ//پونچھ کے صدر مقام پر واقع تاریخی نظام الدین جامع مسجد میں جمعہ کے روز وضو کے لئے نمازیوں کو پانی نہ ملا جس کی وجہ سے انھیں کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔نماز جمعہ ادا کرنے کے لئے آئے ہوئے لوگوں نے الزام عائد کیا کہ اس مسجد میں گزشتہ کچھ عرصہ سے پانی کی شدید قلت رہتی ہے جس کی وجہ سے انہیں تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ایک مقامی شخص نے بتایا کہ مرکزی جامع مسجد پونچھ میں بیت الخلاء تعمیر کئے جا رہے ہیں اس وجہ سے وہاں سے بھی کچھ افراد اسی مسجد میں وضو کے لئے آتے ہیں ، یہاں بھی پانی نہ ہونے کی وجہ سے وہ پریشان ہو رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ 'اس سلسلے میں کئی بار متعلقہ افسران سے شکایت کی جاچکی ہے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔انہوں نے متعلقہ حکام سے درخواست کی کہ جلد ازجلد اس معاملے کو حل کریں تاکہ جامع مسجد میں پانی کی فراہمی یقینی ہوسکے۔