چھاترو چنگام میں بنک لوٹنے کی کوشش ناکام
اچانک سائرن بجا تو چور فرار ہو گئے
عظمیٰ نیوز
کشتواڑ//ضلع کشتواڑ کی تحصیل چھاترو کے علاقہ چنگام میں واقع جموں و کشمیر بنک کی برانچ کو لوٹنے کی کوشش کی ۔آمدہ اطلاعات کے مطابق اس وقت برانچ میں کوئی بھی محافظ موجود نہیں تھا مگر سائرن کے اچانک بجنے کی وجہ سے چوروں نے بھاگنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی اور اس طرح سے بنک کی یہ برانچ لٹنے سے بچ گئی۔دریں اثنابنک برانچ کے ملازموں نے یہ معاملہ چھاترو پولیس سٹیشن کی نوٹس میں لایا گیا ہے ۔ پولیس نے کیس درج کرکے پوچھ تاچھ کاکام شروع کردیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل جموں کشمیر بنک کی سرتھل برانچ میں اس قسم کی چوری کی واردات پیش آ چکی ہے جس میں چور 34لاکھ روپے کیھ قریب نوٹ اڑا لے گئے تھے۔ حالانکہ اس میں بھاری تعداد پرانے منسوخ شدہ نوٹوں کی تھی۔ اگر چہ اس معاملہ میں قریب 13افراد کو مشکوک پایا گیا تھا اور 2بنک ملازمین کو معطل کر دیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود پولیس اس معاملہ کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے ۔ اس برانچ میں 3420987روپے کی رقم رکھی گئی تھی جسے رات کے وقت ، جب کہ بنک میں کوئی بھی محافظ نہ تھااڑ لے گئے تھے، ان مین سے 20 لاکھ روپے نئی کرنسی جب کہ 1420987روپے پرانے منسوخ شدہ ہزار اور پانچ سو کے نوٹوں کی شکل میں تھے۔
رابطہ سڑکوںکو قابل استعمال بنانے کی مانگ
ایم ایم پرویز
رام بن//مخلوط سرکار کے وُزراء جہاں پر ریاست میںترقی کی یقین دہانی کادعویٰ کرکے لوگوں کو بنیادی سہولیات جیسے سڑکوں کا روابط ،بہتر ہیلتھ کئیر اور تعلیم فراہم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، وہیں ضلع رام بن کے مکینوں نے شکایت کی ہے کہ جموں ۔سرینگر قومی شاہراہ پر محکمہ تعمیرات عامہ اور پی ایم جی ایس وائی کی جانب سے لنک روڈوں کی تعمیر کے لئے کھدائی کی وجہ سے سینکڑوں لوگوں کو پیدل چلنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ان لوگوں نے شکایت کی ہے کہ ناشری سے نوگام تک قومی شاہراہ کے موجودہ دو لین کو چار لین میں تبدیل کرنے کی وجہ سے زمین کی کٹائی کرنے سے یہ سڑک قابل آمد و رفت نہیں رہی ہے۔تحصیل رام بن کے کنڈی سیری،مروگ، گام سیریو دیگر متعدد دیہات کے لوگوں نے شکایت کی ہے کہ کنٹریکٹر کمپنیوں کی بے رُخی کی وجہ سے ان کو کافی پریشانیاں اُٹھانی پڑتی ہیں۔بعض لوگوں کا یہ بھی الزام ہے کہ کنٹریکٹر کمپنیوں نے انہیں لنک روڈوں کو اس سے مستثنیٰ رکھنے کی یقین دہانی کی تھی لیکن عملی طور پر کوئی ٹھوس کاروائی دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے۔تاہم کنٹریکٹر کمپنی کے منیجر نے دعویٰ کیا کہ جو لنک روڈ زمین کی کٹائی سے متاثر ہوئے ہیںکو نیو ایلائنمینٹ قابل کار بنانے کے بعد عارضی طور پر اس کے ساتھ جوڑا جائے گا۔انہوںنے مزید یقین دہانی کی کہ کمپنی لوگوں کو بہتر رابطہ فراہم کرنے کی وعدہ بند ہے۔
پکل ڈول ہائیڈرو پروجیکٹ کی الاٹمنٹ
چناب ویلی پاور پروجیکٹس کے تئیں اظہار تشکر
کشتواڑ//چنار ویلی پائور پروجیکٹس ورکرس یونین کے وفد نے زیر قیادت چیئر مین جوگیندر بھنڈاری نے منیجنگ ڈائریکٹر سی وی پی پی ایم ایس بابو سے ملاقات کی اور انہیں پکل ڈول ہائیڈروالیکٹرک پروجیکٹ کا کام الاٹ کرنے پر مبارک باد دی۔منیجنگ ڈائریکٹر سی وی پی پی نے وفد کو بتایا کہ الاٹ شدہ کمپنیاں یعنی کہ جے پی اور افقان 15مارچ سے قبل کشتواڑ پہنچیں گے اور اپریل سے اپنا کام کاج شروع کریں گے حالانکہ انہیں 3 مہینے کام شروع کرنے کیلئے دئے گئے ہیں۔منیجنگ ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ ضلع کشتواڑ کے مستحق نوجوانوں کا روز گار فراہم ہوگا،جسکے لئے انہوں نے نوجوانوں کا تعاون طلب کیا۔دریں اثنا جوگیندر بھنڈاری نے بھارت سرکار پر زور دیا کہ وہ کئیر ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے لئے منظوری فوری طور عطا کریں ،تاکہ نوجوانوں کے لئے مزید روزگار کے مواقعے پیدا ہو سکیں۔
جموں میں غیر ریاستی شہری امن کیلئے خطرہ
پچھلے کچھ عرصہ سے جموں میں فرقہ پرست طاقتیں روہنگیائی مسلمانوں کے خلاف کمر بستہ ہو کر حد سے زیادہ متعصبانہ بیان بازیاں ہونے لگی ہیں ۔حالانکہ انہیںاچھی طرح معلوم ہے کہ روہنگیائی اقوام متحدہ اور عالمی حقوق انسانی کے ایک معاہدے کے تحت بسائے گئے ہیں۔انہیں پناہ دینے کے ساتھ وہ مراعات بھی نہیں مل رہی ہیں جو اقوام متحدہ کے ساتھ قرار کے مطابق ہونا چاہئے اس کے بائو جود یہ شکست خوردہ لیڈران اپنی زمین اور اپنا وجود بنائے رکھنے کیلئے ان بے سہارا اور لا چار لوگوں پر طرح طرھ کے الزامات اور قیاس آرائیوں پر مبنی جھوٹی کہانیا ںبنا رہے ہیں ۔پھلے دنوں سنجواں کے فوجی کیمپ پر ہوئے حملے کو روہنگیائی مسلمانوں سے جوڑ دینا سیاستدانوں اور فرقہ پرست لوگوں کی ناعاقبت اندیشی نہیں تو اور کیا ہے۔صوبہ جموں میں اس طرح کی کئی وارداتیں رونما ہو چکی ہیں جہاں روہنگیائی نہیں وہاں جنگجوئوں کی مدد کس نے کی۔روہنگیائی مسلمان مہاجروں کی تعداد صرف چندہزارہے جیسا کہ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں لیکن صوبہ جموں میں غیر ریاستی خانہ بدوشوں کی تعداد 3لاکھ ہے بلکہ اس سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں جو صوبہ جموں کے ہر ضلع اور تحصیل میں آ باد ہیں ہر سال ان کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔یہ اپنا گذارا کباڑ جمع کر کے فروخت کر کے بھیک مانگ کر اور راتوں کو چوریاں اور مختلف جرائم کر کے کرتے ہیں۔ان کی بستیوں جا کر دیکھا جائے تو نوجوان مرد دن بھر نشے میں دھت خر مستیاں کرتے نظر آتے ہیں اور خواتین ،بچوں سمیت منگواتے ہیں ۔ کئی لوگ تو بھکاریوں کی ٹھیکیداری بھی کرتے ہیں۔ان کی بستیوں میں نشہ آور اشیاء کا با قاعدہ کاروبار چل رہا ہے جو جموں کی نوجوان نسل کو تباہ کر رہا ہے۔چوں کہ یہ غیر ریاستی شہری کچھ فرقہ پرستوں کیلئے ایک عوامی طاقت ہیں تو کچھ لیڈروں کیلئے جعلی ووٹ بینک بھی ہیں۔اسلئے ان کو یہاں سے بیدخل کرنا نہایت مشکل بھی ہے۔اب تو ان خانہ بدوشوں نے اپنے جرائم کی پردہ پوشی کیلئے اپنی بستیوں میں قومی جھنڈے بھی لگائے ہیں اور ترنگے کی آڑ میں ہر قسم کے جرائم کر کے اپنی دیش بھگتی ثابت کرتے ہیں۔انہیں صرف کہانی سے مطلب ہے ہمارا سوال ہے کہ کیا صوبہ جموں میں ملی ٹینسی کی کارروائی کرنے والے ان کی مدد بھی تولے سکتے ہیں۔ہم نے دیکھا ہے کہ ریاست کے کئی حساس علاقوں میں ان کی بستیاں ہیں جہاں جنگجو اپنی کاروائیاں کر چکے ہیں۔ہم ان متعصبابہ ذہنیت کے لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ ان مجرم خانہ بدوشوں غیر ریاستی افراد کی بستیاں کب خالی کرائی جائینگی تاکہ جموں کے عوام امن و سکون سے رہ سکیں۔ہمارا مطالبہ ہے کہ انہیں انکی آبائی ریاستوں۔مدھیہ پردیش،راجستھان،مغربی بنگال، اڑیسہ، اترپردیش واپس روانہ کیا جائے تاکہ صوبہ جموں کی لاکھوں کنال زمین خالی ہو سکے اور اس پر سرکاری منصوبوں کے تحت تعمیرات اور ترقیاتی کاموں کی عمل آوری ہو سکے۔جموں کو اگر سمارٹ سٹی بنانا ہے تو غیر ریاستی خانہ بدوشوں سے لاکھوں کنال زمین خالی کرائی جانا چاہیے اور جموں صوبہ کے بے زمین اور بے گھر لوگوں کو رعا ئتی قیمتوں پر فراہم کی جانی چاہیے۔روہنگیائی مسئلہ آج نہیں تو کل حل ہو جائیگا۔جیسا کہ ملک کی عدالت عظمیٰ سپریم کورٹ نے فی الحال حکومت ہند سے اس معاملے میںمشبت اقدام اٹھانے کے لئے احکامات جاری کئے ہیں۔لیکن جموں شہر کو سمارٹ سٹی بنانے کیلئے خانہ بدوش غیر ریاستی لوگوں کا انخلاء نہایت ضروری ہے ہمیں امید ہے ریاست کے وجود اور بقاء کی خاطر یہ پٹے ہوئے سیاستدان سنجیدگی سے غور کرینگے۔
محمد اسلم خان
محلہ دلپتیاں جموں،9419130635
بسنت رتھ کی کاوشیںقابل ستائش
حکومت نے بسنت کمار رتھ کو آئی جی پی ٹریفک تعینات کرکے ایک قابل تعریف قدم اٹھایا ہے۔ اس سلسلے میں ہم سب سے پہلے شہر جموں میں بگڑے ہوئے ٹریفک نظام کا ذکر کریں گے۔شہر جموں میں مختلف روٹوں پر چلنے والی میٹاڈوروںاور دیگر مسافر گاڑیوں کے ڈرائیوروں نے تو ٹریفک رولز کی دھجیاں ہی بکھیردی تھیں ۔ میٹاڈوروں میں دھماکے دار آواز میں فحش گانے بجانا تو ایک معمول بن گیا تھا، اور لوڈنگ کرنا تو یہ لوگ اپنا پیدائشی حق سمجھتے تھے اگر سواری ایسا کرنے سے منع کرتی تو اس کو ایسی کڑوی کسیلی سناتے کہ وہ اپنا سا منہ لیکر رہ جاتا اور یہ سب ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کے سامنے ہوتا تھا مگر کیا مجال وہ اُف تک کریں ۔بسنت رتھ جیسے دیانت دار اور فرض شناس افسر کو آئی جی ٹریفک کی ذمہ داریاں سپرد کرنا وقت کی ضرورت ہی نہیں بلکہ اہم تقاضہ تھااور حکومت نے یہ قدم اٹھا کر ایک قابل تعریف فیصلہ لیا ہے ۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ بسنت رتھ کا نام سنتے ہی ٹریفک نظام کو لگی آدھی بیماری ٹھیک ہوگئی ہے امید ہے بسنت رتھ اگر اس عہدے پر کچھ عرصہ تک فائز رہے اس مرض کا مکمل علاج ہو جائے گا ۔ رتھ کو آئے ہوئے ابھی کچھ ہی دن ہوئے ہیں شہر جموں میں چلنے والے عوامی ٹرانسپورٹ میں جو فحش گانے بجائے جانے تھے، بند ہوگئے ہیں۔ اوَر لوڈنگ پر روک لگ گئی ہے۔آئی جی کے اعلیٰ عہدے پر ہوتے ہوئے بسنت رتھ شہر جموں میں مختلف مقامات پر ذاتی طور پر بنفس نفیس ٹریفک نظام کی نگرانی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ایسے فرض شناس اور محنتی افسروں کو دیکھ کر دل خوش ہو جاتا ہے ۔ کاش ہر شعبہ میں ایسے ہی آفیسر ہوں ہماری ریاست کی تقدیر سدھر جائے گی ۔ ضرورت اس بات ہے حکومت ایسے فرض شناس افسروں کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ وہ مزید تندہی اور جانفشانی کے ساتھ کام کرسکیں۔اورہم حکومت سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس افسر کو اس عہدے پر فائز رکھے کیونکہ موجودہ وقت کا اہم تقاضہ یہی ہے یہ بات سب پر عیاں ہے کہ آئے روز ٹریفک حادثات میں کس قدر اضافہ ہورہا ہے اور کتنی قیمتی انسانی جانیں ان حادثات کی نظر ہوچکی ہیں ۔اگر حکومت ٹریفک حادثات کی روک تھام اور ان حادثات میں تلف ہونے والی جانوں کو بچانے میں واقعی سنجیدہ ہے تو بسنت رتھ کو اس عہدے پر برقرار رکھا جانا چاہیے ۔اس میں شک نہیں کہ ہماری انتظامیہ میں دیانت دار ،فرض شناس افسرون کی کمی نہیں ہے اگر ان افسروں کو کام کرنے کا موقعہ فراہم کیا جائے تو حکومت کے کام کاج میں شفافیت یقینی بن جائے گی۔اس کی تازہ مثال بسنت رتھ کے آئی جی ٹریفک کے تقرر سے پہلے کے جموں میں ٹریفک کے بگڑے نظام کی ہے ۔ رتھ کا نام سنتے ہی اس نظام کو لگا آدھا مرض خود بخود ٹھیک ہو گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سے پہلے اس مرض کا علاج کیوں نہیں ہو رہا تھا۔ یہ غور طلب بات ہے ۔رتھ کی آئی جی ٹریفک کی تقرری سے جموں کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ جموں کے عوام بھی بگڑے ٹریفک نظام سے پریشان ہوچکے تھے۔ہماری حکومت سے گزارش کے کہ رتھ کو اس عہدے پر کام کرنے کا بھرپور موقعہ فراہم کیا جائے ۔یہ نہایت ہی بد قسمتی کی بات کے کہ گزشتہ روز میری نظروں سے یو این آئی کا ایک مضموں گزرا جس میں ایک ایم ایل نے بسنت رتھ کے کام کاج پر نکتہ چینی کی تھی ۔ بہت افسوس اور دکھ بھی ہوا ۔ ایک محنتی اور فرض شناس افسرکی بے جا نکتہ چینی کی گئی ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایسے افسروں کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔ کسی بھی آفیسر یا لیڈر کا معیار دیکھنا ہو تو اس کے بھاشنوں یا کھوکھلی تقریروں سے نہیں بلکہ اس کے کام اور عمل سے دیکھا جاتا ہے۔ بسنت رتھ نے عملی طور سے ٹریفک نظام کو بہتر بنا کر دکھایا۔ماضی میں ٹریفک ہفتے منائے جاتے تھے ، شرکاء لمبی چوڑی تقریریں کرتے تھے ، مگر ٹریفک کا بگڑا نظام جوں کا توں رہتا تھا ۔بسنت رتھ نے نہ تو کوئی تقریرکی اور نہ ہی کوئی لچھے دار بھاشن دیا ۔عملی کام کرکے دکھا رہاہے ۔جو افراد رتھ کی بے جا نکتہ چینی کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ بسنت رتھ کو اپنی زندگی کا ماڈل بنائے اس سے سبق حاصل کریں ،کھوکھلی باتیں کرنے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا ہے۔کسی بھی انسان کی کارکردگی دیکھنی ہو تو اس کا عمل دیکھا جاتا ہے اور سے اس کے معیار کو پرکھا جاتا ہے۔اسی طرح سے انتظامیہ کے دیگر متعدد شعبوںمیں بھی کافی سدہار لانے کی ضرورت ہے۔اور ہماری انتظامیہ میں ایماندار ، دیانت دار اور محنتی افسروں کی کمی نہیں ہے ۔ امید کی جاتی ہے جس طرح بسنت رتھ کو ٹریفک کا بگڑا نظام ٹھیک کرنے کیلئے تعینات کیا گیا ہے اس طرح سے انتظامیہ کے دیگر شعبوں میں سدھار لانے کیلئے بھی بسنت رتھ جیسے محنتی ، دیانت دار اور فرض شناس افسروں کو ذمہ داریاں سونپی جائیں گی تاکہ کئی محکموں پائی جارہی خامیوںکو دور کیا جاسکے۔اور ان میں عوام کے اعتماد کو پھر سے بحال کیا جاسکے۔رتھ پر یہ الزام عائد کرنا کہ وہ وردی نہیں پہنتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ ایک ٹریفک اہلکار وردی پہنے ہوئے ہے اور اس کے سامنے ٹرفک رولز کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں، اس وقت ان لوگوں کی زبانیں خاموش کیوں رہتی تھیں ۔یہ بات ہم سبھی لوگ جانتے ہیں کہ آئے روز بڑھ رہے ٹریفک حادثات کتنی قیمتی انسانی جانیں تلف ہو رہی ہیں ، اب اگر بسنت رتھ ٹریفک نظام میں سدھار لانے کی کوشش کررہے ہیں تو وقت کا تقاضہ ہے کہ سماج کا ہر فرد خاص طور پر سول سوسائٹی اور سماج کا باشعور طبقہ انہیں بھر پور تعاون دے تاکہ ٹریفک کا نظام بہتر بن سکے اور ٹریفک حادثات میں تلف ہونے والی قیمتی انسانی جانوں کو تلف ہونے سے بچایا جاسکے۔ابھی ہم یہ سطور تحریر ہی کررہے تھے کہ ایک اطلاع موصول ہوئی کہ ڈی جی پولیس نے بسنت رتھ کو وارننگ دی کہ وہ وردی کا استعما ل کرے اور اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ لوگوں کے ساتھ اخلاق کے ساتھ پیش آئے وغیرہ۔ڈی جی پی کی ہی وارننگ سن کر بہت دکھ ہوا ، ہونا تو چائیے یہ تھا کہ ایسے افسر کی حوصلہ افزائی کی جانی چائیے تھی کیونکہ ان کے آنے سے شہر جموں میں ٹریفک کے نظام میں سدھار آرہا ہے اطلاعات کے مطابق بسنت رتھ نے جب سے آئی جی ٹریفک کا چارج سنبھالا ہے تب سے میڈیکل کالج جموں کے ایمرجنسی یونٹ میں ایکسی ڈینٹل معاملوں کی تعداد میں نمایاں کمی آگئی ہے ۔ جموں مسلم فیڈریشن نے بھی ڈی جی پی کو بسنت رتھ کو دی گئی وارننگ پر غور کرنے کی گزارش کی ہے ۔رتھ کے آنے سے شہر جموں کے لوگوں نے راحت کا سانس لیا ہے ۔اس کے علاوہ دیگر سماجی اور عام لوگ بھی رتھ کے کام کاج سے کافی خوش نظر آرہے ہیں۔ریاست کی وزیر اعلیٰ محترمہ محبوبہ مفتی جوکہ ایک دور اندیش ، دانشور اور بصیرت افروز باپ کی بیٹی ہیں اور ریاستی انتظامیہ کے کام کاج میں بہتری لانے کی متمنی ہیں، امید ہے کہ بسنت رتھ کا اس عہدے پر کام کرنے کا نہ صرف بھر پور موقعہ فراہم کریں گی بلکہ ان کی خاطر خواہ حوصلہ افزائی بھی کریں گی تاکہ بگڑا ہوا ٹریفک نظام درست ہو سکے اور قیمتی انسانی جانوں کو تحفظ مل سکے۔
عبدالرشیدکٹوچ…9469087763
ساکن سدھرا،جموں
کونسل فروغ اردو کا قیام خوش آئند
ریاست جموں و کشمیر ہندوستان کی تمام ریاستوں میں اپنی ایک علیحدہ اور منفرد پہچان رکھتی ہے۔ نہ صرف اس الحاظ سے کہ ہندوستان کی واحد ایسی ریاست ہے جہاں کی سرکاری زبان اُردو ہے۔اُردو ریاست کی سرکاری زبان ہونے کے ساتھ ساتھ رابطے کی زبان بھی ہے۔ کسی بھی علاقے سے تعلق رکھنے والا شخص اُردو اچھی طرح سے بول، سمجھ اور لکھ پڑھ بھی سکتا ہے۔ اس ریاست نے اُردو زبان و ادب کی تاریخ میں کہیں ادیب و فنکار پیدا کیے ہیں۔ جن کی شہرت زماں و مکاں کے حدود کو پارہ پارہ کر چکی ہے ۔ جن میں چراغ حسن حسرتؔ، کرشن چندر، ٹھاکر پونچھی، محمد دین فوقؔ اور محمد دین تاثیر کے اسمائے گرامی لے جا سکتے ہیں۔ یہ بات و ثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اُردو زبان و ادب کی تاریخ جموں و کشمیر کے ذکر کے بغیر مکمل ہو ہی نہیں سکتی کیوں کہ سر زمین کشمیر نے کہیں ایسے عالم ، فاضل ، نقاد اور شعراء کو جنم دیا ہے ۔ جنوں نے اپنے قلم اور اپنی ذہانت سے اُردو زبان و ادب کو بام عروج تک پہنچانے میں اہم فریضہ انجام دیا ہے۔اُردو زبان کی ترویج و ترقی میں ڈوگرہ عہد کو ہمیشہ سنہری لفظوں میں لکھا جائے گا ۔ مہاراجہ گلاب سنگھ سے لے کر مہاراجہ ہری سنگھ کے عہد تک اُردو نے ترقی کے کہی منازل طے کئے۔۱۹۴۷ء میں جب ہندوستان انگریزوں سے آزاد ہوا ۔ اور ریاست جموں و کشمیر میں ڈوگرہ حکومت کا خاتمہ ہوا توعوامی حکومت کا قیام عمل میں آیا۔اس وقت ’’نیا کشمیر‘‘ کے اپنے منصوبے کے تحت اُردو زبان کو سرکاری کے طور پر برقرار رکھ کر حکومت نے دانش مندی کا ثبوقت دیا۔ ۱۹۴۷ء سے لے کر ۲۰۱۸ء تک اُردو زبان کو کہی نشیب و فراز سے گذرنا پڑا۔ ملکی سطح پر جو ہوا سو ہوا اس المیہ سے ہر فرد و بشر واقف ہے۔ مگر ریاستی سطح پر بھی کہیں سبز باغ دکھائے گے۔ کبھی اُردو اکادمی کا سپنہ دکھایا گیا تو کبھی اُردو کونسل کا۔ لیکن زمینی سطح پر کوئی بھی ایسا عمل نہیں ہوا۔ جیسے اُردو کے تعین ہمدرانہ قدم قرار دیا جا سکے۔ کہنے کو تو یہ زبان یہاں کی سرکاری زبان تھی لیکن صرف براے نام، براے عمل بالکل نہیں۔ سرکاری دفاتر کے تمام کام کاج انگریزی میں ہونے لگے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اُردو رہ رہ کر دم توڑنے لگی۔ پھر ایسا وقت آیا کہ لوگ اُردو دان طبقہ کو حریت انگیز نظروں سے دیکھنے لگے۔ بلکہ یہاں تک کہ خود اُردو والے دوسری زبانوں میں اپنے زندہ رہنے کی سبیل تلاش کرنے لگے۔ ایسے میں ایک درخشندہ ستارہ فلک کے کسی کونے پر ابھرا اور ابھرتے ہی اپنی تاریک پاش شعاعوں سے نورکی کرنیں بکھیرانے لگا۔ جس سے دم تھوڑتے ہوئے دلوں میں پھر سے حرکت پیدا ہوئی۔ اس درخشندہ ستارے کا نام ہے ڈاکٹر اصغر حسن ساموں ہے۔ جن کی پہلودار شخصیت نے اُردو کی ڈوبتی ہوئی نیا کو پار لگانے کا کام کیا۔ اگر ان کی ذاتی دلچسپی اس کا ز میں شامل نہ ہوتی تو کونسل بھی اُردو اکادمی جیسا سپنہ ہی ہوتا۔ ؎میں کہاں رکتا ہوں عرش و فرش کی آواز سے۔مجھے جانے ہے بہت اُونچا حدِ پرواز سے۔اس ضمن میں کچھ ادبی انجمنوں اور شخصیات کا ذکر بھی لازمی بناتا ہے جن کی کاوشوں کا یہ ثمر ہے ۔ ان میں جموں و کشمیر اُردو فورم ، رساجاودانی میموریل لٹریری سوسائٹی ، اُردو کاز ، تحریک بقائے اُردو کے علاوہ محترمہ محبوبہ مفتی صاحبہ وزیراِ علیٰ ، جناب وزیرِ علیٰ تعلیم الطاف حسین بخاری صاحب ، جناب حسیب درابو صاحب ،اور جناب چوہدری ذوالفقار علی صاحب ایسی شخصیات ہیں جنہوں نے وقتاًفوقتاً اس کارِ نیک کی حمایت کی۔ اور بل آخر ۲۳ فروری ۲۰۱۸ء کو اُردو زبان کے کھوئے ہوئے وقار کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے ریاستی کونسل برئے فروغ اُردو کے روپ میں سنگِ میل کی بنیاد رکھی گی۔ جو کہ اُردو زبان کی ترویج و ترقی میں نہایت ہی خوش آئند قدم ہے۔ مورخ جب بھی ریاست میں اُردو زبان کی تاریخ لکھے گا تو ۲۳ فروری ۲۰۱۸ء کے دن کو سہنری لفظوں میں تحریر کے احاطہ میں لائے گا۔ یہ حکومت، اعلی تعلیم کے وزیر جناب الطاف حسین بخاری اور پرنسپل سیکریڑی اعلیٰ تعلیم جناب
ڈاکٹر اصغر حسن ساموں کا تاریخ ساز قدم ہے۔ جس کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے ۔ ہم اُردو طبقہ امید کرتے ہیں کہ یہ کونسل ریاست اور بہرونِ ریاست اُردو کے فروغ میں ایک تحریک کا کام کر یگی۔ ہم پُر امید ہیں کہ حکومت جلدی ہی پنجابی کے طرز پر ریاست میں اُردو مضمون کو دسویں جماعت تک لازمی قرار دے کر اس کی ترقی کی تمام منازل آسان کر دی گی۔
ڈاکٹر عاشق چوہدری…9906188527
اسسٹنٹ پروفیسر اُردو، ڈگری کالج جندراہ