آئین کے آٹھویں شیڈیول میں شمولیت
گوجری زبان کیلئے قومی سطح پر مہم کا آغاز
جموں//گوجری زبان کو ملک کے آئین کے آٹھویں شیڈول میں شامل کرنے کے لئے جموں و کشمیر کے گوجروں نے آج سوشل نیٹ ورکنگ سائیٹس کے ذریعہ قومی سطح پر مہم کا آغاز کیا ہے۔اس پروگرام کا آغاز جموں و کشمیر میں گوجروں کی ایک نامور تنظیم ٹرائبل ریسرچ اینڈ کلچرل فاﺅڈیشن کی جانب سے کیا گیا ہے۔اس پروگرام کی صدارت نامور گوجر سکالر ڈاکٹر جاوید راہی نے کی۔اس موقعہ پر کافی تعداد میں طلبا¿ اور اس طبقہ کے معزز اشخاص ببھی موجود تھے۔مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گوجری زبان ملک کی ایک قدیم زبان ہے اس لئے اس زبان کو ملک کے آئین کے آٹھویں شیڈول میں شامل کیا جانا لازمی ہے ۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ جموں کشمیر حکومت نے اس زبان کوآئین کے آٹھویں شیڈول میں شامل کرنے کی ایک بار پھر سفارش کی ہے۔مقررین نے مزید کہا کہ متعدد محققین اور تاریخ دانوں نے کہا ہے کہ گوجری زبان راجستھانی ، گجراتی، اردواور ہریانوی کی مادری زبان ہے۔مقررین نے اس موقعہ پر ریاست کے دانشوروں اور دیگر لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس زبان کو ملک کے آیئن کے آٹھویں شیڈول میں شامل کرنے کے لئے انہیں اپنا بھر پور تعاون دیں۔
ورکنگ کلاس کا استحصال نہ کیاجائے :تاریگامی
جموں//سیٹو کے ریاستی صدر و ممبر اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے ورکنگ کلاس کے مسائل حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ان کا ریاست میں استحصال کیاجارہاہے ۔ ہیرا نگر مرہین میں سیٹو سے منسلک بھون نرمان کامگار یونین کے یک روزہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے تاریگامی نے کہاکہ ورکروں کوسماجی تحفظ کے فوائد حاصل نہیں اور لیبر قوانین کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں ۔ انہوںنے ورکروں پر زور دیاکہ وہ متحد ہوکر اپنے حقوق کیلئے لڑیں ۔ان کاکہناتھاکہ ورکنگ کلاس کے تئیں حکومت کا رویہ انتہائی منفی ہے اور ورکنگ کلاس کو چیلنجوں کاسامناہے ۔ ان کاکہناتھاکہ آشاورکروں ، این ایچ ای ایم ملازمین ، آنگن واڑی ورکروں و ہیلپروں ، سی پی ڈبلیوز ، مڈ ڈے میل ورکرز ، نریگا ملازمین ، کنٹریکچول ملازمین ، کنسٹرکشن ورکروں ، نیڈ بیس ،سیزنل ، کیجول مزدوروں اور ڈیلی ویجروں کو نظرانداز کردیاگیاہے اور ان کی دیرینہ مانگیں پوری نہیں کی جارہی ۔اس موقعہ پر سیٹو کے دیگر ارکان نے بھی خطاب کیا۔ یک روزہ کنونشن میں بڑی تعداد میں کارکنوں نے شرکت کی۔
رہبر تعلیم فورم اساتذہ پر لاٹھی چارج کی مذمت
جموں//جموں و کشمیر ٹیچر فورم کی ایک میٹنگ ریاستی جنرل سیکرٹری جے کے ٹی ایف گھنیش کھجوریہ کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں پرامن طور پر احتجاج کررہے آر ای ٹی ٹیچروں پر پولیس کے لاٹھی چارج کی مذمت کی گئی اور سرکار کی جانب سے اس سلسلے میں اختیار کئے گئے رویہ پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔مقررین نے اس موقعہ پر کہا کہ گذشتہ چار ماہ سے آر ای ٹی ٹیچر تنخواہوں کے بغیر ہیں جس کی وجہ سے ان کا پریشان ہونا قدرتی بات ہے اور حکومت ان کے مسائل حل کرنے کے بجائے ان پر لاٹھیاں برسا رہی ہے۔گھنیش کھجوریہ نے وزیر تعلیم سے استدعا کہ وہ اس معاملے ذاتی طور مداخلت کریں اور ان کی مانگ کو پورا کریں۔ میٹنگ میں گوپال سنگھ ، یوگ راج،درشن شرما،کلدیپ سنگھ بندرال،شنکر سنگھ،اور دیگران موجود تھے۔
کمینی نگروٹہ میںگوجر بکروال کانفرنس کا یک روزہ کنونشن
سید اعجاز
سرینگر//جموں کشمیر گوجر بکروال کانفرنس کی جانب سے جموں کے کمینی نگروٹہ علاقے میں اتوار کو ایک روزہ کنونشن کا انعقادکیا گیاجس میں گوجر بکروال کانفرنس کے لیڈران اورعام لوگوں نے بھی شرکت کی ۔اس موقعہ پر مقررین نے سرکار سے خانہ بدوشوں کی فلاح و بہبود،سیاسی ریزویشن،2006فارسٹ ایکٹ کے نفاذ ،نوکریوں اور ترقیوں میں رریزرویشن ،ٹرائبل سب پلان کی وقت پر واگزاری،ریاست کی تمام گوجر بکروال بستیوں میں طبی وتعلیمی سہولیات رابطہ سڑکیں، پینے کے پانی کی دستیابی کامطالبہ بھی کیا۔ تقریب میں گوجر بکروال کانفرنس کے صدر حاجی محمد یوسف،جنرل سکریٹری محمد یاسین پسوال،چودھری سلام الدین بجاڑچیف آر گنائزر،نائب صد ذاکر حسین یوتھ لیڈر مصطفی چودھری،ہارون فانی وغیرہ بھی موجو دتھے ۔جنرل سکریٹری اور پی ڈی پی لیڈر محمد یاسین پسوال نے لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ برادری کے تمام مسائل حل ہونے تک خاموش نہیں رہیں گے ۔انہوںنے کہاکہ موجودہ سرکار خاص کر وزیر اعلیٰ طبقے کی ترقی کیلئے سنجیدہ ہیں ۔تنظیم کی طرف سے ایسی کنونشن کئی علاقوں میں ہورہی ہیں ۔
نٹرنگ کے زیر اہتمام ’توبہ توبہ ‘ڈرامہ پیش
جموں//نٹ رنگ کی جانب سے راجندر کمار کا تحریر کردہ نیا ڈرامہ”توبہ توبہ“ پیش کیا گیا جس کے ہدایت کار نیرج کانت تھے۔اس ڈرامے کی کہانی انوکھی لال نامی ایک شخص کے گھر سے شروع ہوتی ہے جو کہ ایک ڈرامہ کے ڈائریکٹرہوتے ہیںاور وہ اس ڈرامہ کی ریہرسل کرانا چاہتے ہیں مگر اس ڈرامہ کے فن کار اس میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہے ہیںاور نیابھرتی کیا گیا نوکر ہر روز کوئی نہ کوئی مسل¿ہ لیکر آجاتا ہے ۔ انوکھی لال اس صورت حال کو دیکھ کر بہت پریشان ہو جاتا ہے مگر کوئی حل تلاش کرنے کے بجائے وہ الجھاﺅ میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔
حکمران اتحاد کی پالیسیوںسے لوگ بیزار :سلاتھیہ
نیشنل کانفرنس ہی بڑے سے بڑے چیلنج کے مقابلہ کی اہل
جموں//سابق وزیر اور این سی کے سنیئرریاستی صدر سرجیت سنگھ سلاتھیہ نے کہا ہے کہ نیشنل کانفرنس ہی ریاست کی واحدایسی سیاسی جماعت ہے جو کسی بھی بڑے سے بڑے چیلنج کا مقابلہ کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مایوس کن اور عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے ریاست کے عوام بی جے پی اور پی ڈی پی سے بیزار ہو چکے ہیںجس کی وجہ سے ان جماعتوں کی عوامی مقبولیت میں روز بروز کمی آرہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس آپسی بھائی چارے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ریاست کے سبھی لوگوں کی یکسان ترقی اور خو شحالی کے لئے کوشاں رہی ہے اور اس جماعت کا یہ مشن برابر جاری و ساری رہے گا۔سلاتھیہ آج اسمبلی حلقہ وجے پور کے علاقہ راجندر پورہ میں عوام سے خطاب کررہے تھے۔اس موقعہ پر کانگریس کے کافی تعداد میں کارکنوں نے نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی اور این سی کے پروگراموں اور پالیسیوں پر اپنے بھر پور اعتماد کا اظہار کیا۔سلاتھیہ نے امید ظاہر کہ کہ ان کارکنوں کی شمولیت سے جہاں این سی کو مزید تقویت ملے گی وہاں جموں و کشمیر کو ملک کی ایک خوشحال ریاست بنانے کا شیر کشمیر کا خواب بھی شرمندہ¿ تعبیر ہوگا۔انہوں عوام کو مذہب کے نام پر اپنے حقیر مفادات کے لئے سیاست کرنے والی جماعتوں سے ہوشیار رہنے کو کہا۔کانگریس کے جن ورکروں نے این سی میں شمولیت اختیار کی ان کے نامسرپنچ برج سنگھ،وریندر سنگھ،ساہل جموال،امن جموال ،سبھاش کمار کرشن چند،رتن لال روپ لال،ہربنس لال، بودھ راج ،ترسیم سنگھ،دیس راج، دیوندر کمارمنوہر لال اور دیگران شامل ہیں۔