بی جے پی مہلا ونگ کی جانب سے پلس پولیو مہم کا آگاز
طاہر ندیم خان
بھدرواہ//پلس پولیو کی حفاظتی مہم کو کامیاب بنانے کے لئے خاص طور سے دیہی اور نا قابل رسائی علاقوں میں بی جے پی مہلا ونگ ڈوڈہ نے آنگن واڑی ورکروں کی مدد سے ضلع کے دور دراز پہاری علاقے بھلیسہ میں پلس پولیو مہم کا آگاز کیا۔ بی جے پی ضلع جنرل سیکریٹری مہلا ونگ سونیا رائو سوارا پنچایت کے آنگن واڑی اور آشا ورکروں کے تعاون سے محکمہ صحت کی جانب سے خصوصی پلس پولیو مہم کو گھر گھر تک جا کر لوگوں کو مہم کے بارے میں روشناس کرانے کیلئے مہم شروع کی۔سونیا رائو نے ضلع ما نیٹر ہیلتھ محکمہ غلام حسین راتھر کی نگرانی میں آنگن واڑی ورکروں نر ملا دیوی اور رفت بیگم ،آشا ورکروں حمیرہ بیگم اور محمد علی خان کے تعاون سے دیہی علاقوں کے درجنوں بچوں کو پلس پولیو قطرے پلائے گئے۔ یہ بتانا مناسب ہو گا کہ سوارا گائوں تحصیل چلی پنگل کا دور دراز علاقہ ہے جہاں لوگ پہا ڑی ڈھلوانوں میں رہتے ہیں اور کوئی کیمو نی کیشن رابطہ بھی نہیں ہے۔ہمارا مقصد ڈریب اور محتاج لوگوں تک پہونچنا ہے خاص طور سے دور سراز علاقوں میں مرکزی اور ریاستی سکیموں کا پہنچانا ہے۔
غرباء کیلئے مخصوص سرکاری دوائیاں جلانے کا معاملہ
ایف آئی آر درج،ہسپتال کے دوسٹور کیپر معطل
زاہد ملک
زاہد ملک
مہور//سب ضلع ہسپتال مہور میںغرباء کے لئے دی جانے والی سرکاری دوائیاں کھلے عام نذر آتش کی گئیں۔یہ دیکھتے ہی مقامی لوگ جمع ہوگئے تھے اور دوائیوں کی ایکسپائر ہونے کی تاریخ دیکھنے پر معلوم ہوا کہ ابھی یہ کار آمد تھیں ۔اگر چہ ہسپتال ملازمین ان دوائیوں کو ایکسپائر قرار دے کر جلارہے تھے لیکن دوائیاں expire نہیں تھیں۔ مقامی لوگوں نے اس شرارت کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے تحصیل صدر مقام پر دھرنا دیا اور مظاہرے کئے تھے۔ مظاہرین کی مانگ تھی کہ مہور ہسپتال میں تعینات ملازموں پر معاملہ درج کیا جائے، اس مطالبہ پر پولیس نے محکمہ کے ملازمین پر ایف آئی آر بھی درج کیاہے دریں اثنا بی ایم او مہور نے ہسپتال میں تعینات دو ملازمین کو معطل کر کے انکوائری شروع کر دی ہے،یہ دونوں سب ضلع ہسپتال مہور میں سٹور کیپر تھے جن کی شناخت اعجاز احمد اور رنجیت سنگھ کے طور پر کی گئی ہے۔
گلاب گڑھ سڑک دو روز سے بند لوگ پریشان
زاہد ملک
زاہد ملک
مہور//سب ڈویژن مہور کی گلاب گڑھ سڑک پسی کے گر آنے سے دو روز سے بند پڑی ہے انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے دو روز قبل گلابگڑھ جانے والی سڑک شیدول کے مقام پر پسی گر آنے سے بند ہوگئی تھی جس سے ابھی تک کھولا نہیں گیا ہے جس کے نتیجہ میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔سڑک بند ہونے سے لار،کھوڑ،گلابگڑھ،کیدورہ،دیول،برمیدار،نہوچ کے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور لوگ پیدل سفر طے کرنے پر مجبور ہے۔مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے مانگ کی ہے سڑک کو جلد سے جلد کھولا جائے وارنہ وہ سڑکوں پر اتر آئیں گے۔
پی ڈی پی یوتھ ونگ ڈوڈہ کی میٹنگ
ڈوڈہ// پی ڈی پی یوتھ ونگ کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس کی صدارت ضلع صدر شہاب الحق نے کی۔ مقررین نے اس موقعہ پر کہا کہ اس وقت محبوبہ مفتی کی قیادت میں پوری ریاست میں نوجوانوں کے بہتر مستقبل روزگار کے حوالے سے مختلف اقدامات کئے جا رہے ہیں اور نوجوانوں کی بازآبادکاری کے تحت 9000 نوجوانوں کے خلاف مختلف سنگ بازی کے مقدمات واپس لے کر ان کو عزت و وقار سے جینے کا موقع فراہم کیا اور رہبر کھیل ، رہبر جنگلات اور مختلف شعبہ جات میں روزگار فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ساٹھ ہزار سے زائد عارضی ملازمین کو مستقل کیا گیا اور اعلیٰ تعلیم کو چند شہروں کے بجائے دور دراز علااقوں تک پہنچایاہے جس کی مثال ہمارا ڈوڈہ کالج ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ خود روزگار سکیموں سے مستفید ہو کر خود کفیل ہو جائیں اور سر گرم نظر یاتی سیاست میں بھر پور کردار نبھائیں اور پوری قوم کی مختلف شعبہ جات میں رہنمائی فرمائیں۔ اس موقع پر تعلیم، صحت صفائی ماحول فرائض و حقوق پر بھی مفصل بات کی ۔اس خصوصی مجلس سے سجاد حسین کھوکھر، راشد حسین زرگر، جہانگیر نے بھی خطاب کیا اس اِجلاس میں ڈوڈہ زون کے مختلف بلاک صدور نے بھی شرکت کی۔
کرشی وگیان کیندر کے زیر اہتمام سائنٹفک ایڈوائزری کمیٹی میٹنگ
طاہر ندیم خان
بھدرواہ//کرشی وگیان کیندر ڈوڈہ ،شیر کشمیر یونیورسٹی ایگریکلچر اینڈ ٹکنالوجی جموں نے گیارویں سائنٹیفک ایڈوائزری کمیٹی میٹنگ کا انعقاد کیا۔میٹنگ کی صدارت ڈاکٹر آر کے اروڑہ اسوسی ایٹ ڈائریکٹر ایکسٹنشن ،ڈائریکٹر آف ایکسٹنشن جموں نے کی۔سینئر سائنسٹسٹ اینڈ انچارج ہارٹیکلچر سب سٹیشن بھدرواہ ڈاکٹر ماہتل جموال ،اے ڈی او ڈیپارٹمنٹ آف ایگریکلچر شاہد اقبال،ڈائریکٹر ہارٹیکلچر آفیسر سجاد مصتفٰی،سی اے ایچ او شہناز احمد،ترقی پسند کسانوں اور خواتین نمائندوں ، دیگر محکموں کے ضلع افسران ،کے وی کے سائنسدان اور آر ایچ آر ایس ایس نے اس میٹنگ میں شرکت کی۔اس پروگرام کے دوران ڈاکٹر رونیت کور انچارج سینئر سائنسٹسٹ نے کے وی کے ڈوڈہ کی جانب سے 2017-18کی سرگرمیوں کی تفصیلات پر ایکشن ٹیکن رپورٹ پیش کی اور 2018-19 کے ایکشن پلان پر تفصیلی گفتگو ہوئی ۔ڈاکٹر اروڑہ نے ضلع نامیاتی کلسٹر کو مضبوط بنانے کیا حوالے سے تجویز دی اور سیب کیلئے کلونل سٹاک کے ذرائع کو تلاش کرنے پر زور دیااور کسانوں میں یونیورسٹی کی سفارش کردہ ٹکنالوجی کی مقبولیت عام کرنے کو کہا۔انہوں نے خواتین کی دیگر ایجنسیوں کی حمایت سے فعال اور غیر فعال کام کرنے کو فروغ دیں۔اس موقعہ پر ڈاکٹر اے ایس چاڑک،ڈاکٹر جی این جھا ،ڈاکٹر نیرج کوتوال ،ڈاکٹر منوج کمار، روہت شرما اور ڈاکٹر سنجیو کمار سائنسدان بھی موجود تھے۔
اقتدارکے حصول کاایجنڈاملک کیلئے خطرناک
آر ایس ایس راشٹریہ سویم سیوک سنگھ جو جنگ آزادی میں فرنگیوں کی خیر خواہ ووفاداری سے اعتماد حاصل کرتے کیونکہ انہیں کبھی بھی احساس نہیں تھا کہ ہندوستان ، مراجیہ کامیابی سے ہمکنار ہوگا جب دیش آزاد ہوا تو ہندوستان تقسیم میں آر ایس ایس نے بہت بڑا کردار نبھایا، نئی دہشت گردی نے جنم لی سبھاش چندر بوس کا پر اسرار غائب ہونے کامعاملہ،مہاتماگاندھی کی ہلاکت، اقتدارپر براجمان پنڈت جواہر لعل نہرو پردباؤ ، پاکستان کا وجود میں آنا مقصد مسلمانوں کاخاتمہ کرنا اور خود آر ایس ایس سے ہندوستانی اقتدار پر گرفت مضبوط کرنا تھا۔آر ایس ایس کاجنم 1935ء میں ہوا تھا جس کا مقصد ومشن اونچی ذات کو اقتدار پر بٹھانا تھا ۔ جو اوپر ذات سے تعلق مشکل سے 15% اب بھی ملک میں ہے اور دیگر اقلیتوں کو حراساں کرنا۔مجبور وبے بس کرکے درکنار کرنا تھا۔ دلتوں پر اور مسلمانوں پر مظالم ڈھانا اوران کی آواز کو دبانا ۔ 30-31مئی 1936کو بمبئی میں اجتماع کو خطا ب بابا صاحب کرتے ہوئے پسمانہ بچھڑے طبقہ کے لیڈر نے کہا تھا، مجھے اسلام مذہب اس لیے پسند ہے کیونکہ یہ چھوت چھات سے پرے ہے ،الغرض اسلام قبول کرتے کرتے رک گئے یا روک دیئے گئے ۔RSSایک مشن کو لیکر نکلی تھی جس میں اب کامیاب ہوچکی ہے ۔ دلتوں اور مسلمانوں کو خوفززہ کرکے یا فسادات کے ذریعے الیکشن میں جیت۔2014میں آر ایس ایس کی کامیابی بھاجپا کو آگے رکھ کر اقتدار حاصل کیا گیا۔ الیکشن کے دوران پر اسرار طریقہ سے راتوں رات لوگوں کو مذہبی مقامات پر اکٹھا کرکے مسلمانوں کے خلاف پروپگنڈہ۔ اگر بھاجپا نہیں آئی اقدار میں تو دیش خطرے میں ہے جہاں مسلمان پاکستان بنا دیں گے رام مندر کا نرمان مشکل میں ہوگا ۔ تین طلاق ۔ یکساں سول کوڈ کیلئے سب سے پہلے تو میڈیا کو خریدہ گیا ۔ مسلمانوں کو تین چار فرقوں میں تقسیم کردیا گیا ۔ سنی۔ دیوبندی۔ شیعہ۔ وغیرہ کو آپس میں بھڑکایا گیا ۔ ایک دوسرے کے خلاف بہت سے زرخرید مسلمان اپنی مٹھی میں زر سے کرلئے ، ائمہ حضرات کو بھی ڈرا کر دھمکا کر یا دولت سے گرویدہ بنالیا گیا ۔ جو دھن وانٹھن حاصل کی گئیں تھی اس دھن سے الیکشن میں جیت درج کی گئی۔ پہلے رام مندر کامسئلہ لوگوں میں اچھالا گیا۔ پھرخاموشی سے جذبات بھڑکائے گئے ۔ دلتوں ومسلمانوں پر نشانے بنائے جارہے ہیں۔ مقصد ان کی آواز کو دبانا۔ تمام باتوں سے ظاہر ہے بڑی ذات کو اقتدار میں بنائے رکھنا۔ اور85%دیگر ذاتوں پر راج قائم کرناہے جہاں ہندوستان میں مسلمانو ں کو ہلاک کیا جاتاہے بیرون ممالک خاص طور سے عرب ممالک میں جاکر مسلمانوںکے ساتھ دیش میں ہمدردیا دکھنا ۔ یورپین ممالک میں مسلمانوں کے خلاف معاملات لانا، گئو رکھشا کے نام پر مسلمانو ں کا قتل عام ، کتے کے گوشت کو بھی سانبہ میں گائے بچھڑے سے جوڑ دیا گیا ہے، لیکن دیش میں ان باتوں کو لیکر مسلمانوں کو ہی آلٰہ کار بنایا گیا ہے ،گھر واپسی ۔ لوجہاد کی ایسی ایسی باتیں مقصد مسلمانوں کی آواز دبانا ہے ۔ مسئلہ رام مندر ایک دیرینہ بابری مسجد کی نوعیت ہی بدل دی گئی ہے۔قانونی طور وہاں بابر نے مسجد تعمیر کی تھی ۔ کیونکہ شرعی طورکسی بھی تنازعہ اراضی پر مسجد تعمیر ہی نہیں ہوسکتی ہے ، پہلے ایک منصوبہ بند طریقہ سے اسلامی تاریخ کو ہندوستان بھر میں مسخ کردیا گیا ہے ۔ لیکن بابری مسجد مدعا سب سے پہلے ۱۹؍ جنوری۱۸۸۵ ء کو فیض آباد کی سب جج عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا کہ مسجد کے سامنے چبوترے پر ہندوؤں کو پوجا کی اجازت دی جائے ۔ جج پنڈت ہری کرشن نے کیس معطل کردیا گیا ۔ ۲۴؍ فروری ۱۸۸۵ء فیصلے کے خلاف اپیل ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں اپیل دائر کی گئی ۔ وہاںکرنل جے ای ائے بطور ڈسٹرکٹ جج نے ۷ مارچ۱۸۸۶ء کو اپیل مسترد کردی گئی ۔ اس کے بعد سنت رگھوبر داس فیصلہ سے مطمئن نہیں ہوئے تھے اور جوڈیشنل کمشنر کی عدالت میں اپیل دائر کردی ۔ جہاں ڈبلو یونگ جو ڈیشنل نے یکم نومبر۱۸۸۶ء کو مقدمہ خارج کر دیا گیا اور واضح کیا گیا کہ بابری مسجد رام جنم بھومی تعمیر ہیں کیا جاسکتا ہے۔ بلکہ یہ راضی تو مسلمانوں کی جاگیر ہے ۔ تقسیم کے بعد ۲۲ دسمبر۱۹۴۹ء رات کی تاریکی میں شدت پسندوں نے مسجد میں مورتیاں رکھ دیں ۔ پھر لوگوں میں منافرت پھیلانا شروع کردیں۔ تب اس وقت وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے اترپردیش کے وزیراعلیٰ گوبند بلبھ بھائی پٹیل کو ہدایت دی کہ فوری طورمسجد سے مورتیاں ہٹا دی جائیں ۔ تاکہ ماحول پر سکون رہے لیکن اس دوران بھی فسادیوں کے خلاف کوئی کارروائیاں عمل میں نہیں لائیں گئیں تھیں۔ آر ایس ایس (بھاجپا) نے آئین ہند کا کبھی بھی احترام وعزت نہیں کیا ہے وہ خود کو آئین سے اوپر نہیں سمجھتے ہیں آلہ آباد ہائی کورٹ میں حلفی بیان دیا تھا کہ ہم بابری مسجد کو نہیں گرائیں گے اور بعد میں انہدامی انتقامی کارروائی کرکے آئین ہند کو پاش پاش کرکے آئین ہند کو ٹھینگا دکھایا ۔ لیکن عدالت نے بھی ان پر توہین عدالت کا کیس دائر کرنے کی کوشش بھی نہیں کی ۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ بابری مسجد کی انہدامی کاروائی والے بھاجپا لیڈر وزیر بھی بن گئے الیکشن بھی لڑا ۔ اور مسلمانوں کو دھمکاتے بھی ہیں ۔ کیا آئین ہند کا احترام محض مسلمانوں پر ہی عائد ہونا لازم ہے ۔ گجرات مسلم کش فسادات میں آج تک کسی بھا جپا لیڈرکو گرفتار کرکے سلاخوں میں نہیںڈالا گیا ہے ۔ وزیراعظم مسلمانوں کی ہلاکتوں پر ایک لفظ بھی نہیں بولا گیا ۔ میڈیا سے لیکر اپوزیشن کی آواز کو دبادیا گیا ہے اگر کوئی مسلمان زبان کھولتا ہے تو اس پردیش دروہی کا الزام لگا کر پاکستان چلے جانے کا دباؤ ڈالا جاتا ہے ۔ اس لئے ہی دیش کے مسلمانوں کو حراساں کیاجارہا ہے ۔ دلتوں کی ہلاکتیں و بازاروں میں کوڑے لگائے جاتے ہیں جیسے تغلق فرمان ان کی واراثت بن گئی ہو۔ حتی کہ پویس پر بھی حملے کردیئے جاتے ہیں۔ ناجانے آر ایس ایس دیش کو کہاں پہنچاناچاہتی ہے ۔ آج بھاجپا دور میں پی این بی کے 74ہزار کروڑ گھوٹالے ہوچکے ہیں۔ شاید اس سے پہلے کبھی بھی ایسا نہیں ہواتھا ۔ لیکن اپنے خلاف آواز کو طاقت سے دبا دیا جاتا ہے ۔70سالوں سے ملک میں 15% اونچی ذات کا رہا ہے ، لیکن جو ریزوریشن پچھڑے طبقے کو پنڈت جواہر لعل نہرو وزیراعظم ہند نے دینے کے لئے پارلیمنٹ میں قانون بنایا تھا کیونکہ پہلے تو بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر الگ راجیہ مانگنے کی کی تیاری میں تھے ۔ لیکن اب تو ریزرویشن کو بھی ختم کرکے اونچی ذاتوں کو دینے کی تیاریاں کی جارہی ہیں ۔ لیکن ملک کے پچھڑے طبقے ہے ناجانے کیوں آواز بلند کرنے غیض وغضب میں ہیں۔ظاہر ہے ملک میں بغیر علان کے امرجنسی ٹھونسی جارہی ہے کسی کو خبر نہیں اقلیتوں میں عدم تحفظ پیدا کیاجارہاہے ۔ جن مسلمان بادشاہوں نے فرنگیوں کے خلاف جنگ کی تھی آزادی کیلئے انہیں ملک کاغدار قرار دیاجارہاہے ، لیکن ٹیپو سلطان کی تاریخ کو کبھی فراموش نہیں کیاجاسکتا ہے اور ہندو اونچی ذاتوں کے نام سے اتنی تنظیمیں تیار کی گئیں ہیں جن میں وشوہندوپریشد، بجرنگ دل ، ہندوشوسینا گرجہ راج ، پروین توگڑیہ ، ساکشی مہاراج ، اشوک سنگھل ۔ کلراج مترا۔ ونے کٹیار ، اوما بھارتی، شادھوی پرگیہ ۔ شری شری روی شنکر مہاراج، ہندو مہاسبھا ، اس کے علاوہ 100کے قریب کٹر پنتھی بڑے بڑے دھرم گوروں کی تنظیمیں ہیں سبھی اونچی ذاتوں سے ان میں بیشتر بڑے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ صدیوں سے ہندوستان میں پہلے بھی ان کا ہی راج تھا اور آزادی کے بعد سے آج بھی ان کا اقدار رہاہے ۔ یعنی آگے اقلیتوں بچھڑوں کے لئے ملک میں کوئی گنجائش وقانون میں مقام ہوگا ۔ کیونکہ بابا صاحب بھیم راؤ امیڈکر کا نام زور شور سے لیا جاتا ہے اوران کے پچھڑے طبقوں کے لئے خصوصی درجہ ختم کرکے پھر سے سیاسی تعلیمی ، تمدنی ، معاشی، اقتصادی غلامی کی راہیں ہموار کی جانے لگیں ہیں۔ آج بابا صاحب کی آتما اپنی قوم کی حالت دیکھ کر آنسو بہار رہی ہے کیاآزادی کا مفہوم اب اونچی ذاتوں کے لئے ہی ہوگا ۔ آج سرکاری نوکریوں کے علاوہ پرائیویٹ سیکٹروں میں بھی نوکریوں میں اقلیتوں کو نظر انداز کیاجانے لگا ہے، آج یورپین ۱۸ کے قریب ممالک ہیں سرحدوں کو کھول یعنی عام کردیا گیا ہے ، قانونی بندشیں ہٹا دی گئیں ہیں، تجارت کو کھلے عام بحال کردیا گیا ہے لیکن ہند پاک سرحدوں پر قدغن جاری ہے ۔ چین اگر سرحد پر سینک بھی مارتا ہے تو پردھان منتر فوری طوربات چیت کے لئے تیار ہوجاتے ہیں لیکن پاکستان کیسے دوہرہ معیار اپنایا جاتا ہے جبکہ دونوں ممالک کے عوام پیار محبت سے رہناچاہتے ہیں لیکن کشمیر پربات چیت منظورنہیں جبکہ دونوں اطراف ۷۰ سالوں سے کشیدگیاں جاری ہی ڈیفنس کی بجائے اگر سرمایہ ترقیاتی کاموں پرلگایا جائے ہزاروں میل امریکہ سے پاکستان کے تعلق بات جیت ہوسکتی ہے لیکن جموں سے سیالکوٹ ۴۲ میل بات نہ ہوگی ان باتوں کا دھیان ہٹانے کے لئے اقتدار پر بیٹھے سیاست داں لوگوںکو مذہبی خطوط پر بانٹنے میں ہی کرسی کی مضبوطی سمجھتے ہیں ۔ امریکہ دونوں ممالک کو جنگ کے لئے ہتھیار تو سپلائی کرسکتا ہے لیکن امن سکون کے لئے صلاح کے لئے نہیں کہہ سکتا ہے لیکن آگے دونوں ممالک کا مستقبل کیا ہوگا؟۔یعنی
الیکشن سے پہلے جموں میں فتنہ پرور سازشیں شروع
کٹھوعہ عصمت دری اور بے رحمانہ قتل کو لیکر جس طرح کچھ معتصب سیاستدانوں نے اپنی ہمنوا مذہبی تنظیموں کو ساتھ لیکر جموں کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوششیں کی ہیں وہ نا صرف قابل مذمت ہے بلکہ ایسے داغدار سیاستدانوں کیلئے لعنت ہے۔ہندوستان میں اس سال تقریباً بانچسوں کمین بچیاں شیطان صنعت لوگوں کی درندگی کا شکار ہوئی ہیں جن میں زیادہ تر پانچ سال سے بھی کم عمر کی تھیں اور قانونی اداروں نے بخوبی مجرموں کو گرفتار کر کے پابند سلاسل کیا ہے۔لیکن کٹھوعہ کی معصوم بچی کو باقاعدہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت درندگی کا شکار بنا کر صوبہ جموں کی پر امن فضا کو گندہ کرنے کیلئے شیطان صفت لوگ کھلے عام سڑکوں پر ننگا ناچ کرنے لگے اور مجرموں کی پشت پناہی کرتے ہوئے ناصرف ایک مذہبی تنظیم جو کہ دائیں بازو جماعت کی ہے بلکہ برسر اقتدار لیڈران بھی اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے کے لئے سرگرم نظر آئے۔جس سے صاف ظاہر ہو گیا کہ اقتدار میں رہ کر جموں کیلئے فرضی وعدے کرنے والے لوگوں کی توجہہ ایسی گھٹیا حرکتوں کی طرف بزول کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔جیسا کہ انہیں خود بھی معلوم ہے کہ اب انکا سیاسی مستقبل تاریک ہو رہے تو یہ اپنی پرانی حرکتوں کو بروئے کار لاکر جموں کے عوام کو گمراہ کرنے لگے ہیں اور اب کی بار پھر سے یہاں کے عوام کو بے وقوف بنا کر اقتدار میں آنا چاہیے ہیں۔2008ء کی طرح یہ فتنہ فساد کھڑا کر کے اگلے انتخابات کی تیاری کرنے لگے ہیں۔انہیں یہاں کے لوگوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے اور یہ کسی فتنے کو انجام دینے میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں تو اسکا سب سے زیادہ نقصان جموں کے ہی عوام کو بھگتا پڑے گا۔اچانک نمودار بر ساتی مینڈکوں کی طرف الگ الگ تنظیموں کے نام سے بے تکے سلے بنا کر ذرائع ابلاغ کے ذریعے تشہیر کر کے عوام کے جزبات کو بھڑکانا انکی پرانی عادت ہے۔جہاں تک کٹھوعہ کی معصوم بچی کے ساتھ درندگی اور قتل کا معاملہ ہے تو اب یہ تحقیقات کرائم برانچ کے ہاتھ میں آنے کے بعد صحیح صصمت میں جاری ہے اور لگتا ہے عنقریب یہ سازش اور اسکے کردار بے نقاب ہو جاینگے۔امید ہے ہماری ریاستی پولیس کے افسران اور اہلکار کسی سیاسی دبائو یا بلیک سیلنگ کے جھالنے میں نہیں آئینگے۔ہماری ریاست کی پولیس کی قابلیت کا اعتراف ملک کی باقی ریاستوں کی قانونی ایجنسیاں کرتی ہیں اور سب سے زیادہ اہم بات تو یہ ہے ریاست میں پچھلے30سال سے ناساعد حالات کے باوجود لوگوں کا اعتماد پولیس اور خاصکر کرائم برانچ پر قائم ہے جو نا صرف عوام کو تحفظ کا احساس دلاتی ہے بلکہ انصاف کے تقاضوں کو بھی پورا کرتی ہے اب ہمیں صبر سے کام لیتے ہوئے کرائم برانچ کی طرف سے چونکا دینے والے انکشافات کا انتظار کرنا چاہئے۔آچار و قرائین بتارہے ہیں کہ اب کلیدی مجرم اپنا اقبال جرم جلد کر لینگے تاکہ پس پردہ سازش کرنے والوں کے نام کبھی ظاہر نا ہو سکیں۔صوبہ جموں کے لوگوں کو بہکانے اور بھڑکانے کیلئے ابھی کچھ اور واقعات بھی ہو سکتے ہیں جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ریاست کے کسی کونے سے بھی کوئی آگ بھڑکالی جا سکتی ہے۔ہمیں بس ہوشیار رہنا ہے اور ایسی سازشوں کا قلع قمع کرنا ہے اور آپسی رواداری اور بھائی چارے کو روایتی طور قائم رکھنا ہے۔
محمد اسلم خان محلہ دلپتیاں
9419130635