غلط راستے کا انجام برُا ہوگا: رویندر رینہ
یو ا ین آئی
جموں// بھارتیہ جنتا پارٹی جموں وکشمیر یونٹ کے صدر رویندر رینہ نے علی گڑھ مسلم یونیوسٹی کے ریسرچ اسکالر سے جنگجو بننے والے منان بشیر وانی کی ہلاکت پر کہا کہ کشمیر میں جنگجوؤں کا چن چن کر صفایا کیا جائے گا۔ انہوں نے دھمکی دی کہ کشمیری علیحدگی پسند لیڈران و کارکنوں کو جیل میں سڑایا جائے گا۔ پاکستان، کشمیری علیحدگی پسندوں، جنگجوؤں اور سنگبازوں کے خلاف شعلہ بیانی کے لئے مشہور رویندر رینہ نے جمعرات کو یہاں میڈیا کو بتایا ’جو غلط راستے پر جائے گا اس کا انجام برا ہوگا۔ جو دیش کے خلاف بندوق اٹھائے گا اس کا انجام برا ہوگاوہ بچ نہیں پائے گا۔ جس دن یہ (منان) جنگجو بنا تھا ہم نے اسی دن کہا تھا کہ یہ چند دنوں کا کھیل ہے۔ ہم چن چن کر سب کا صفایا کریں گے۔ انہوں نے کہا ’حریت والے سب فراڈ ہیں۔ بند کی کال دینے والوں کو ہم بند کریں گے۔ ان سب حریت شریت گیلانی شیلانی کو ہم جیل میں ہی سڑائیں گے‘۔ دریں اثنا بی جے پی کی خاتون ترجمان پریہ سیٹھی نے پی ڈی پی صدر اور سابقہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے بیان کہ ’منان وانی کی موت ہم سب کا نقصان ہے‘ پر اپنے ردعمل میں کہا کہ مفتی اور عبداللہ خاندان نے گذشتہ 70 برسوں سے ریاست کے لوگوں کو دھوکہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا ’ ان کے اپنے بچے اچھی جگہوں پر پڑھتے ہیں ۔ کیا ان سب کو جنگجو بنائیں گے؟‘۔ انہوں نے کہا ’دہشت گرد دہشت گرد ہوتا ہے۔ جو اپنے دیش، اپنی فوج اور اپنے لوگوں کے خلاف بندوق اٹھاتا ہے اس کی صرف ایک پہنچان ہے کہ وہ دہشت گرد ہے‘۔ یو این آئی
قبائلی امور محکمہ کی کثیر شعبۂ جاتی ریاستی کمیٹی کی میٹنگ
سری نگر //قبائلی امور محکمہ کی ملٹی ڈسپلنری سٹیٹ کمیٹی کی ایک میٹنگ کے دوران رضا کارانہ تنظیموں اور غیر سرکاری تنظیموں کے 7 معاملات گرانٹ اِن ایڈ کے لئے قبائلی امورکی مرکزی وزارت کو بھیج دیئے گئے۔کمیٹی کی میٹنگ سیکرٹری سماجی بہبود اور قبائلی امور ڈاکٹر فاروق احمد لون کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں کمیٹی کے کام کاج اور قبائلی امور محکمہ کے دیگر معاملات کو زیر بحث لایا گیا۔سیکرٹری نے متعلقین کو ہدایت دی کہ وہ دستاویزات کی جانچ کے حوالے سے تمام خامیوں اور رکاوٹوں کو دُور کریں تا کہ معاملات کو جلد از جلد قبائلی امور کی مرکزی وزارت کو بھیجا جاسکے۔میٹنگ میں ایڈیشنل سیکریٹری صحت و طبی تعلیم عبدالستار، ڈپٹی سیکرٹری دیہی ترقی و پنچائتی راج سندیپ سنیورٹا، ڈپٹی سیکرٹری زراعت راجیشور سنگھ چاڑک اور کئی دیگر افسران بھی موجود تھے۔
ناظم اطلاعات کا پربھود جموال کے ساتھ اظہارتعزیت
سری نگر /ناظم اطلاعات و رابطہ عامہ نے روزنامہ کشمیر ٹائمز کے ایڈیٹر اِنچیف پربھود جموال کے والد سکھ دیو سنگھ جموال کے انتقال پر دُکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔اس سلسلے میں آج یہاں ناظم اطلاعات طارق احمد زرگر کی صدارت میں ایک تعزیتی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں محکمہ کے افسران اور ملازمین نے شرکت کی۔میٹنگ میں پربھود جموال کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے آنجہانی کی آتما کی شانتی کے لئے دُعا کی گئی۔
ایس ٹی طلاب کیلئے تعمیر ہو رہے 20 ہوسٹلوں کا جائیزہ
کاموں کا اعلیٰ معیار برقرار رکھاجائے :فاروق لون
سری نگر /سیکرٹری سماجی بہبود ، کواپریٹوز اور قبائلی امور ڈاکٹر فاروق احمد لون نے قبائلی امور محکمے کی ایک میٹنگ کے دوران ریاست کے مختلف اضلاع میں ایس ٹی طلاب کیلئے تعمیر کئے جا رہے ہوسٹلوں کا جائیزہ لیا ۔ میٹنگ میں ڈائریکٹر قبائلی امور محمد رفیع ، ڈائریکٹر فائنانس ڈاکٹر ایس کے سین ، سپیشل سیکرٹری ایم ایس چودھری کے علاوہ کئی دیگر افسران بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر لون نے افسروں سے کہا کہ وہ تندہی اور لگن کے ساتھ کام کر کے سماج کے پسماندہ طبقوں اور شیڈول ٹرائیب کی بہبودی سکیموں کی موثر عمل آوری کو یقینی بنائیں ۔ اس موقعہ پر انہیں بتایا گیا کہ ریاست کے مختلف ضلعوں میں ایس ٹی طلاب کیلئے 20 ہوسٹل تعمیر کئے جا رہے ہیں ۔ علاوہ ازیں گدی سپی اودھمپور میں 50 بستروں والا ایک ہوسٹل 3.43 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے جبکہ اسے چالو بھی کیا گیا ہے ۔ سیکرٹری موصوف کو دیگر ہوسٹلوں کی پیش رفت کے بارے میں بھی تفصیلی جانکاری دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ ہوسٹلوں کی تعمیر ایک مقررہ مدت کے اندر مکمل کی جانی چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ تعمیرات کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا جانا چاہئیے اور کاموں کے ساتھ سمجھوتے کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا ۔
جموں وکشمیر میں خواتین کی بہبودکیلئے اقدامات
۔13 مزید ون سٹاپ سینٹر قائم کئے جائیں گے: سیکرٹری سماجی بہبود
سری نگر //خواتین اور بچوں کی ترقی کی مرکزی وزارت نے جموں وکشمیر کی خواتین کے لئے13 نئے ون سٹاپ مراکز کے قیام کو منظوری دی ہے۔سیکرٹری سماجی بہبود ڈساکٹر فاروق احمد لون کے مطابق اس طرح کے مراکز سانبہ، اودہمپور، پونچھ، ریاسی ، رام بن، کشتواڑ ، پلوامہ، ببڈگام، گاندر بل، بارہ مولہ ،شوپیاں، کولگام اور کرگل میں قائم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح ریاست میں ایسے مراکز کی تعداد22 تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی سرکار نے اس مقصد کے لئے 5.65 کروڑ روپے مختص کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس تعلق سے پروجیکٹ منصوبہ سٹیٹ ریسورس سینٹر فار وومن سماجی بہبود محکمہ نے تیار کیا تھا۔ سیکرٹری موصوف نے کہا کہ او ایس سی قائم کرنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ تشدد سے متاثرہ خواتین کی معاونت کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی طرح کے تشدد سے متاثرہ خواتین کو ان مراکز میں ایک ہی جگہ پر طبی، قانونی، نفسیاتی اور کونسلنگ کی سہولیات دستیاب ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ خواتین کو طبی امداد کے لئے ان مراکز سے نزدیکی ہسپتال تک ریفر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس تعلق سے صحت و خاندانی بہبود محکمہ کے رہنما خطوط پر عمل کیا جائے گا۔سیکرٹری نے کہا کہ ان مراکز میں ایک تربیت یافتہ کونسلر کی خدمات بھی مہیا ہوں گی۔ علاوہ ازین وکلاء کے ذریعے سے قانونی امداد بھی بہم پہنچائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خواتین کو عارضی رہایشی بھی ان مراکز میں دستیاب ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ خواتین کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لئے ضرورت پڑنے پر ویڈیو کانفرنسنگ کی سہولیات بھی بہم رکھی جائیں گی۔
ہائی سکول کنڈرہ کادرجہ ہائرسکینڈری کرنے کامطالبہ
جموں//ریاسی کے گائوں کنڈرہ کے لوگوں نے ریاستی گورنرانتظامیہ سے ہائی سکول کادرجہ ہائرسکینڈری کرنے کی مانگ کی ہے۔اس سلسلے میں مقامی لوگوں نے بتایاکہ ہائی سکول کنڈرہ کادرجہ نہیں بڑھایاجارہاہے جوکہ ہماری دیرینہ مانگ ہے۔انہوں نے کہاکہ کنڈرہ سکول سے منسلک چارپنچایتوں کے لوگوں نے متعلقہ حکام کوپہلے ہی کئی بارمطلع کیاہے کہ یہ عوام کی جائزمانگ ہے لیکن اس پرحکام کوئی توجہ نہیں دے رہاہے جس کی وجہ سے کنڈرہ ،ڈیرہ بابابندہ ،وغیرہ پنچایتوں کے لوگوں حکام سے مایوس ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم لوگ آخرکب تک ظلم سہتے رہیں گے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے بچوں کوہرروزتیس کلومیٹرکاسفرکرکے ریاسی ہائرسکینڈری سکول جاناپڑتاہے جوکہ غریب عوام کیلئے پریشانی کاباعث ہے۔انہوں نے کہاکہ بچوں کاکافی ساراوقت سکول آنے جانے میں ضائع ہوجاتاہے جس کی وجہ سے ان کی تعلیم بری طرح متاثرہوتی ہے اوران کامستقبل دائوپرلگ جاتاہے۔ لوگوں نے کہاکہ یہاں پرلیڈرانتخابات کے دوران ہی آتے ہیں اورووٹ حاصل کرکے دوبارہ نہیں آتے جس کی وجہ سے عوام کے مسائل اورجائزمانگیں جوں کی توں ہی پڑی رہتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہائی سکول کنڈرہ کادرجہ بڑھاناعوام کی جائزمانگ ہے جس کوریاستی گورنرانتظامیہ کوبلاتاخیرپوراکرناچاہیئے۔ لوگوں نے ریاستی حکومت اورمتعلقہ حکام سے پرزورمانگ کی ہے کہ ہائی سکول کنڈرہ کادرجہ بڑھاکرہائرسکینڈری کیاجائے تاکہ علاقہ کے بچوں کی تعلیم متاثرنہ ہواوروہ دسویں کے بعدکی اعلیٰ تعلیم جاری رکھ سکیں۔