ضلع ادہم پور کی سڑکوں کی حالت ناگفتہ بہہ: لال چند مسافر
گورنر سے فور ی طور سڑکوں کی مرمت اور تعمیر سڑکوں کو چالوکروانے کی اپیل
ادہم پور//نیشنل کانفرنس رہنما اور صوبائی سیکریٹری لال چند مسافر نے حکومت جموں و کشمیر کی توجہ اسمبلی حلقہ چنہنی گھورڈی کی خستہ حال سڑکوں کی طرف دلا تے ہوئے کہا ہے کہ چنہنی تا ڈوڈو سڑک کے پہلے24کلومیٹر حصہ کو تو نیشنل ہائی وے244کے زمرہ میں شامل کیا گیا ہے۔اس سڑک کا تو حال یہ ہے کہ جگہ جگہ کھڈے پڑے ہوئے ہیں جس کے نتیجہ میں مقامی اور ہزاروں سیاحوں اور یاتریوں کو سدھ مہادیو آنے جانے میں نہایت مشکل آتی ہے۔سدھ مہادیو کی ایک سماجی تنظیم نے مجبور ہو کر اس سڑک پر کھڈے خود بھرے،سدھ مہا دیو تا لاٹی،ڈوڈو سڑک کی حالت کا حال اور برا ہے۔جکھینی تا گھورڈی چوکی سڑک تو ہفتہ ہفتہ بند رہتی ہے۔سڑک پر کئی حادثات میں کئی قیمتی جانیں تلف ہو چکی ہیں۔ادہم پور پنچاری لاندر سڑک کا خدا ہی حافظ ہے۔چنہنی تا پٹن گڑھ،بشٹی تا بائیں بینی سنگم سڑکیں مرمت طلب ہیں۔پندرہ پندرہ سال سے پی ایم بی ایس وائی کے تحت زیر تعمیر چنہنی تا کیتھر ارکٹی،کدھ تا مادہ سڑکیں تاوقت نا مکمل اور ٹریفک کیلئے کھولی نہیں گیں۔چمپیارٹی تا چنہنی کیلئے مکمل ہونے کے باوجود سڑک کھولی نہیں گئی ہے جس سے چنہنی جانے اور آنے والے ہزاروں مسافروں کو روانہ نیشنل ہائی وے کے جام سے خلاصی نہیں ہو رہی ہے۔پتنی ٹاپ تا گوری کنڈ سڑک کے بقایا4کلومیٹر حصہ کو تاوقت زیر تعمیر نہیں لایا گیا ہے۔جس سے مانتلائی سدھ مہادیو کو پتنی ٹاپ سے نہیں جوڑا گیا ہے۔انہوں نے ریاستی گورنر سے گذارش کی ہے کہ اپنی ذاتی توجہ فرماتے ہوئے اس پسماندہ اور دور افتادہ حلقہ کی سڑکوں کی ابتر حالت کو درست کروائیں۔
ویشنو دیوی شرائین بورڈ کی 63 ویں میٹنگ
نارائنہ ہسپتال کٹرہ کیلئے ہیلی کاپٹر ایمبولنس کی فراہمی کا فیصلہ
جموں//گورنر ستیہ پال ملک جو شرائین بورڈ کے چئیر مین بھی ہیں ، کی صدارت میں آج راج بھون سری نگر میں شری ماتا ویشنو دیوی شرائین بورڈ کی 63 ویں میٹنگ منعقد ہوئی ۔ میٹنگ میں ڈاکٹر ایس ایس بلوریہ ، ڈاکٹر اشوک بھان ، ایچ ایل مینی ، جسٹس ریٹائیرڈ پرمود کوہلی ، میجر جنرل ریٹائیرڈ شو کمار شرما اور بی بی ویاس کے علاوہ تمام بورڈ ممبران ، چیف سیکرٹری بی وی آر سبھرامنیم ، گورنر کے پرنسپل سیکرٹری امنگ نرولہ ، شرائین بورڈ کے سی ای او دھیرج گپتا ، شرائین بورڈ کے ڈزگنیٹ سی ای او سمرن دیپ سنگھ ، ایڈیشنل سی ای اوز ڈاکٹر ایم کے کمار اور انشل گرگ موجود تھے ۔ کٹڑہ سے بھون تک یاتریوں کیلئے طبی سہولیات میں بہتری لانے کے ایک خاص فیصلے کے تحت بورڈ نے لامبی کیری میں ایک نیا میڈیکل یونٹ قایم کرنے کا فیصلہ کیا جو آدھ کواری سانجی شت سیکٹر میں طبی سہولیات کو پورا کرنے میں کارآمد ثابت ہو گا ۔ اس طرح سے تمام ٹریکوں پر میڈیکل یونٹوں کی تعداد 8 ہو جائے گی ۔ بورڈ نے مستقبل کی ضروریات کے مدِ نظر ایک کروڑ روپے کی لاگت سے بھیروں مندر کے پاس ایک نئے میڈیکل یونٹ کو وجود میں لانے کا فیصلہ کیا ۔ اس کے علاوہ دل کے مریضوں اور ٹراما کیسوں سے نمٹنے کیلئے میڈیکل افسروں کو ایڈوانسڈ ٹراما لایف سپورٹ کے سلسلے میں تربیتی پروگرام منعقد کئے جائیں گے ۔ اسی طرح نیم طبی عملے کیلئے بھی باقاعدہ تربیتی پروگرام کا روسٹر ترتیب دیا جائے گا ۔بورڈ نے نازک مریضوں کو ایمر جنسی کی صورت میں سی ایچ سی کٹڑہ یا شری ماتا ویشنو دیوی نارائینا سُپر سپیشلٹی ہسپتال ککڑیال منتقل کرنے کیلئے دو کرٹیکل کئیر ایمبو لینسوں کو حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ۔اس کے علاوہ دل کے مریضوں اور شدید بیماروں کو سانجی چھت اور پنچھی ہیلی پیڈ سے شری ماتا ویشنو دیوی سُپر سپیشلٹی ہسپتال ککڑیال منتقل کرنے کیلئے ہیلی کاپٹر کی سہولیات فراہم کی جائے گی اور اس مقصد کیلئے اخراجات بورڈ برداشت کرے گا ۔ اس فیصلے کی بدولت کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکیں گی ۔
درج فہرست قبائل کیلئے 5ملک ولیج کا قیام زیر غور
راجوری اور پلوامہ ملک ولیجز کی کارکردگی تسلی بخش
جموں//ریاست میں حکومت ہند کے اشتراک سے اس سال ریاست میں پانچ اضافی ملک ولیج قایم کرنے کی تجویز ہے ۔ اس سکیم کے تحت 15 مستحقین کو مفت ایک گائے فراہم کی جاتی ہے جس کی بنیاد پر وہ ایک سوسائیٹی قایم کرتے ہیں اور حکومت کی طرف سے گائے کی خوراک اور طبی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں ۔ اس سکیم کو انتہائی موثر اور فائدہ مند قرار دیتے ہوئے سماجی بہبود ، امداد باہمی اور امور قبائل کے سیکرٹری ڈاکٹر فاروق احمد لون نے محکمہ کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ وہ ریاست میں شیڈول ٹرائیب طبقے کیلئے ملک ولیج تعمیر کرنے کی پیش رفت کا جائیزہ لینے کے لئے سرینگر میںامور قبائل محکمے کے افسران کی ایک میٹنگ کی صدارت کررہے تھے ۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ مرکزی حکومت نے سال 2016-17 میں دو ملک ولیجز کی منظوری دی جن میں سے ایک ایگری راجوری اور دوسرا پلوامہ میں سنگروانی میں قایم کئے گئے ۔ ہر ایک پروجیکٹ پر چار کروڑ روپے کی رقم خرچ کی گئی اور یہ ولیجز شیڈول ٹرائیب آبادی کیلئے بہت فائدہ مند ثابت ہوئے ۔میٹنگ میں ڈائریکٹر امور قبائل محمد رفیع ، ڈائریکٹر فاینانس ڈاکٹر ایس کے سین ، سپیشل سیکرٹری ایم ایس چودھری ، ڈپٹی سیکرٹری وویک مودی ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سُشیل گپتا اور محکمہ امور قبائل کے متعلقہ افسران میٹنگ میں موجود تھے ۔ ڈاکٹر لون نے متعلقہ افسران پر زور دیا کہ وہ اپنے فرایض تندہی اور ایمانداری سے انجام دیں اور ان سکیموں کا فائدہ زمینی سطح پر لوگوں تک پہنچائیں ۔ بعد میں ڈاکٹر لون نے زیر تعمیر ٹرائیبل ریسرچ انسٹی چیوٹ کی پیش رفت کا جائیزہ لیا ۔ انہوں نے ریاستی یونیورسٹی کے مختلف انویسٹگیٹروں کے ذریعے چلائے جا رہے تحقیقی پروگرام کا بھی جائیزہ لیا ۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ سرینگر کے کھمبر ہارون علاقے میں ٹی آر آئی تعمیر کیا جا رہا ہے اور اس پروجیکٹ پر 2.90 کروڑ روپے خرچ کئے جا رہے ہیں ۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ریاست کی کُل شیڈول ٹرائیب آبادی 1493299 ہے ۔
چار سال میں 11.11 لاکھ انفرادی گھریلو بیت الخلاء تعمیر
ریاست جموں کشمیر نے ایس بی ایم جی کے تحت 100 فیصد نشانہ حاصل کیا
سرینگر //جموںکشمیر نے سوچھ بھارت مشن گرامین ایس بی ایم جی کے تحت چار سال کے عرصے میں 11.11 لاکھ انفرادی گھریلو بیت الخلاء تعمیر کر کے سو فیصد نشانہ حاصل کیا ہے ۔ ان باتوں کا اظہار آج یہاں سٹیٹ ٹیکنیکل ایڈوائیزری کمیٹی ( ایس ٹی اے سی ) کے تحت منعقدہ ایک میٹنگ میں کیا گیا جس کی صدارت دیہی ترقی اور پنچائتی راج کی سیکرٹری شیتل نندا نے کی ۔ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری نے کہا کہ ریاست میں انفرادی گھریلو بیت الخلاء کی تعمیر میں بہتر پیش رفت حاصل کرنے کے بعد محکمہ اوپن ڈیفی کیشن فری او ڈی ایف کی طرف خصوصی توجہ دے رہا ہے ۔ اس موقعہ پر کمیٹی کے ممبران اور دیہی ترقی محکمے کے افسروں کے درمیان سالڈ اینڈ لیکوڈ بیسڈ منیجمنٹ پروجیکٹس اور گوبردھن سکیم کی عمل آوری پر سیر حاصل بحث ہوئی ۔ سیکرٹری نے ارکان پر زور دیا کہ وہ ریاست کے دیہی صحت و صفائی کے عمل میں بہتر کارکردگی حاصل کرنے کیلئے اپنے تجاوزات پیش کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی 80 فیصد آبادی دیہات میں رہتی ہے اور اُن کا روز گار پوری طرح زرعی شعبے کے ساتھ جُڑا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کسانوں میں بیداری پیدا کرنے سے یہ لوگ اپنے کھیتوں کیلئے کھاد خود ہی پیدا کر سکتے ہیں ۔ میٹنگ میں ڈائریکٹر رورل سینی ٹیشن جے اینڈ کے اندو کنول چب اور ایس ٹی اے سی کے نامزد ممبران کے علاوہ محکمہ زراعت ، پشو پالن ، بھیڑ پالن اور قابلِ تجدید توانائی محکموں کے نمائندے موجود تھے ۔