ملک بھر میں کسانوں کے سڑکوں پر آنے کی اصل وجہ وہ تین زرعی اصلاحات ہیں جو حکومت ہند نے ستمبر کے مہینے میں منظور کئے۔رواں سال کے جون مہینہ میں بھا جپا حکومت نے آرڈیننس کے ذریعے ذرعی اصلاحات کے نام سے تین بل پیش کئے جو بعد ازاں ستمبر میں پارلیمنٹ سے بھی پاس کروا لئے گئے۔ ان قوانین کے وجود میں آتے ہی ملک بھر کے کسانوں کو حکومت کیخلاف احتجاج پر مجبور کر دیا۔ آجکل کسان بھارت کی راجدھانی دہلی میں احتجاج پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ویسے تو پورے ملک کے کسان ان نئے قوانین کے خلاف ہیں لیکن دہلی میں احتجاج پر بیٹھے زیادہ تر کسانوں کا تعلق پنجاب، ہریانہ اور یوپی سے ہے۔08 دسمبر کو ملک بھر کے کسانوں نے بھارت بند کی کال بھی دی تھی جسکا ملک بھر سے اپوزیشن کی لگ بھگ 24 سیاسی جماعتوں نے حمایت کا اعلان کیا تھا۔ اسکے بعد کسانوں و سرکار کے درمیان بات چیت ایک دور بھی ہوا جو بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا۔ اب اسوقت کسانوں کے تیور کافی سخت ہیں اور 12 دسمبر کی دوسری اور ملک گیر بند کی کال کے بعد 14 دسمبر کو بھوک ہڑتال کا کہا ہے۔کسانوں کے اس احتجاج کو لے کر طرح طرح کی من گھڑت تھیوریاں بھی گھڑنے کی کوشش کی جا رہی ہیں مثلاً یہ سب لوگ کسان نہیں ہیں، انکو سیاسی جماعتوں کی طرف سے ورغلایا جا رہا ہے، ایک کسان جینز کیسے پہن سکتا ہے اور کچھ تو اسے خالصتان اور پاکستان سے جوڑنے میں مصروف ہیں ۔اور ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا بلکہ گذشتہ سال شاہین باغ میں سی اے اے کیخلاف پروٹسٹ کرنے والوں کو بھی بد نام کرنے کی ایسے ہی کوششیں کی گئی تھی ۔ موجودہ حکومت کے متعدد وزراء اقلیت اور مظاہرین کے خلاف نفرت انگیز بیانات دیتے رہے تھے اور وہ بھی عوامی ریلیوں میں جسکا نتیجہ بعد میں دارالحکومت دہلی میں ہندو۔مسلم فساد کی صورت پیش آیا۔حکومت نے جو تین نئے ذرعی قوانین متعارف کروائے ہیں انکے خلاف خود بے جے پی ۔ آر ایس ایس کا کسان ونگ یعنی بھارتیہ کسان سنگ (بی کے ایس) بھی ناراضگی کا اظہار کر چکا ہے گو کہ یہ گروہ باقی کسان تنظیموں کی طرح حکومت کیخلاف سڑکوں پر نہیں اترا ۔ یہاں یہ سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ ان نئے زرعی قوانین میں ایسا کیا ہے جس نے نہ صرف ملک بھر کے کسانوں بلکہ اپوزیشن جماعتوں کو بھی اس ایشو پر ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا ہے۔ ویسے تو ان قوانین میں کچھ خامیاں موجود ہیں لیکن کسانوں کو جس چیز کا سب سے زیادہ ڈر ہے وہ ہے 'کارپوریٹ سیکٹر' کی اجارہ داری۔ کیا کسانوں کا یہ ڈر صحیح ہے یا حقیقت میں یہ نئے قوانین کسانوں کو کارپوریٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں گے؟ آئیے جائزہ لیتے ہیں :-
اس وقت بھارت میں لگ بھگ 7000 ایگریکلچرل پروڈیوز مارکیٹنگ کمیٹیز ہیں ۔ انہیں عرف عام میں منڈیاں کہاں جا تا ہے ۔ ان منڈیوں میں لائسنس ہولڈر مڈل مین ہوتے ہیں جو کسانوں سے مناسب ریٹ پر خریداری کرتے ہیں اور اسکو آگے بڑے تاجروں تک منتقل کرتے ہیں۔ یہ مڈل مین ایک فکسڈ قیمت یعنی مینیمم سیلنگ پرائز (ایم ایس پی) سے کم پر کسانوں سے نہیں خرید سکتے ۔ سادہ لفظوں میں فصلوں کے حکومتی ریٹ کو ایم ایس پی کہا جاتا ہے، اسطرح اس سے کسان کافی حد تک محفوظ ہوتے تھے کیونکہ ایک فکسڈ پرائیز سے نیچے کوئی بارگین نہیں کر سکتا ۔نئے قوانین کے تحت مڈل مین کو ہٹا دیا گیا ہے اور پرائیویٹ منڈیاں بھی کھلیں گی۔ اب کسان براہ راست کمپنیوں کو اپنا مال فروخت کر سکیں گے۔ پرائیویٹ منڈیوں کی وجہ سے موجودہ سرکاری منڈیاں اسلئے خطرے میں ہیں کہ پرائیویٹ منڈیاں کسی بھی قسم کے ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گی۔ اسکے برعکس گورنمنٹ منڈیوں میں ٹیکس بھی لگتا ہے ۔آئین ہند میں زراعت چونکہ ایک اسٹیٹ سبجیکٹ ہے اسلئے گورنمنٹ منڈیوں میں ٹیکس کی شرع مختلف ریاستوں میں مختلف ہے ۔یہاں پر کسانوں کو سب سے بڑا تحفظ یہ ہے چونکہ پرائیویٹ منڈیاں ٹیکس فری ہونگی اسلئے کمپنیاں گورنمنٹ کے بجائے پرائیویٹ کو ترجیح دیں گی جس سے ایم ایس پی کا نظام بھی ختم ہو جائے گا۔ کارپوریٹس جس طرح چاہیں گے اپنی مرضی کے مطابق کسانوں سے بارگینگ کریں گے۔ بھارت میں 80 فی صد کسانوں کی تعداد چھوٹے کسانوں کی ہے جو اس پوزیشن میں نہیں ہونگے کہ بڑی کمپنیوں کی تاب لا سکیں، کسان اس حالت میں ہوتا کہ وہ ان سے قانونی چارہ جوئی کر سکیں ۔ کسانوں کی مانگ کہ ایم ایس پی ہر صورت برقرار رہنا چاہیے اور اسکو مزید قانونی تحفظ دیا جانا چاہیے حق بجانب ہے۔ایسے زبانی تو حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ گورنمنٹ منڈیاں اور ایم سی پی ختم نہیں کئے جائیں گے لیکن حقیقت اس کے دوسری طرف ہے۔ اسکے لئے ٹیلی کمیونیکیشن کی دو کمپنیوں بھارتیہ سنچار نگم لمیٹڈ (بی ایس این ایل) اور ریلائینس جیو کی مثال رکھتا ہوں ۔ بی ایس این ایل سرکاری ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ہے جو آج سے چھ سات سال پہلے تک کافی مشہور تھی، اچھا خاصا مارکیٹ شیئر تھا لیکن 2014 میں مودی سرکار کے آتے ہی زوال پذیر ہو گئی۔ مودی سرکار کی کارپوریٹس کو نوازنے کی پالیسی کوئی نئی نہیں بلکہ یہ انکا خاص وطیرہ رہا ہے۔ اس حکومت نے مکیش امبانی کو نوازنے کے لیے ریلائینس کو اسپیس دیا۔ 2016 میں ریلائنس جیو نے مارکیٹس میں مفت سم بیچنے شروع کئے اور لوگوں کو کم قیمت پر فور جی انٹرنیٹ فراہم کیا ۔ بعد ازاں مارکیٹ بننے پر جیو نے سم بھی قیمتی کر دیں اور ریچارجز کی قیمتیں بھی بڑھا دیں۔ اسوقت ریلائینس جیو کے سامنے گورنمنٹ بی ایس این ایل کی حیثیت شیر کے سامنے لومڑی کی سی ہوگئی ہے۔ آنے والے آٹھ دس برسوں میں اسی طرح پرائیویٹ منڈیوں کا راج ہوگا، کارپوریٹس کی من مانیاں ہوگی کیونکہ انکو قانونی تحفظ ہوگا، سرکار کہیں نظر نہیں آ رہی ہوگی اور کسان انکے سامنے لاچار ہاتھ باندھے کھڑے ہونگے ۔دوسرا ان قوانین میں کسانوں کو جھانسا دینے کے لئیے یہ بھی کہا گیا ہے اب کسانوں کے لئے کوئی علاقائی قید نہیں وہ جہاں چاہے جس ریاست میں مرضی اپنے پروڈکٹس کو بیچ سکتا ہے ۔ دراصل یہ بھی حقیقت میں چھوٹے کسانوں کے لئے ممکن نہیں ہے – مثلاً ایک کسان جسکا تعلق ہریانہ سے ہے یا یوپی سے ہے وہ اگر اپنا مال مدھیہ پردیش یا کسی دوسری ریاست میں بیچنا چاہتا ہے تو اسکے لئے اسکے پاس ٹرانسپورٹ کا خرچہ کون دے گا اور دوسری ریاست میں اپنا اناج اسٹور کہاں کرے گا۔ اس سے پہلے منڈیوں میں ہزاروں کی تعداد میں جومزدور کام کرتے تھے وہ بھی بے روزگار ہو جائیں گے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ زراعت میں انسوسٹمنٹ گورنمنٹ چینل کے ذریعہ ہی رہنی چاہیے۔
ان نئے قوانین کو اگر کارپوریٹس تحفظ ایکٹس کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ کسانوں نے امبانی کے پروڈکٹس کے بائیکاٹ کا اعلان بھی کیا ہے۔احتجاج کے حوالے سے اسوقت کسانوں کی پوزیشن کافی مضبوط ہے ۔ انہیں سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کی بھی بھر پور حمایت حاصل ہے، اسلئے حکومت کے لئے انکو نظر انداز کرنا قطعی آسان نہیں ہے ۔فارمرز سے اظہار یکجہتی کیلئے کچھ ایوارڈ یافتہ اسپورٹس مینز نے اپنے ایوارڈ بھی واپس کر دئیے ہیں۔ان ناموں میں پدما شری و ارجن اورڈی کرتار سنگھ، ارجن اورڈی باسکٹ بال کھلاڑی ساجن سنگھ چیمہ اور ارجن اورڈی ہاکی کھلاڑی راجبیر کور شامل ہیں۔ اسی طرح پنجاب زرعی یونیورسٹی، لدھیانہ کے ایک زرعی سائنسدان وارندر پال سنگھ نے فرٹیلائزر ایسوسیشن آف انڈیا گولڈن جبلی ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ میرا ضمیر اجازت نہیں دیتا کہ ایک طرف کسان سڑکوں پر ہوں اور دوسری طرف میں ایوارڈ لوں۔
(کالم نگار جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں ریسرچ سکالر ہیں)
ای میل ۔ [email protected]