پونچھ // ضلع پونچھ میں محکمہ بجلی میں کام کرنے والے عارضی ملازمین کی گذشتہ بیس سالوں سے مستقلی کا انتظار کر رہے ہیں۔کیجول لیبرز کی بنیادوں پر تعینات ان عارضی ملازمین کا کہنا تھا کہ دن رات کام کر نے کے باوجود ان کے ساتھ انساف نہیں ہو رہاہے جس کی وجہ سے یہ اور ان کے اہل خانہ فاقہ کشی پر پہنچ گئے ہیں۔گُریز احمد نامی ایک ملازم کا کہنا تھا کہ سرکار کی طرف سے ان کے ساتھ سوتیلا سلوک جاری ہے اور نا معلوم وجوہات کی بناء پر ان کو برسوں سے مستقل نہیں کی جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک سرکار ان کے لئے کوئی جاب پالیسی بھی فریم نہیں کر پائی ہے جو کہ قابل افسوس ہے۔محمد یونس نامی ایک اور ملازم نے کہا کہ کہ ضلع میں تعینات سینکڑوں ملازمین دن رات اپنے فرائض کو محض چھ ہزار سات سوروپے کی ماہانہ اُجرت پر انجام دیتے ہیں اور وہ بھی وقت پر انہیں نہیں واگذار کی جاتی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ محکمہ اور سرکار نے اُنہیں فاقہ کشی پر اُتار دیا ہے جبکہ وہ بچوں ا سکولی و دیگر اخراجات پورے کرنے میں قاصر ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی کئی عارضی ملازمین بجلی کی کرنٹ و دوران ڈیوٹی دیگر کئی وجوہات کی وجہ سے لقمہ اجل بن گئے ہیں لیکن کو واضح پالیسی ان کے لئے مرتب نہ کئے جانے کی وجہ سے ان ملازمین کے بچے بھی آج پریشان ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ اُن کے کام میں ہر وقت خطرہ لاحق رہتا ہے اور اپنی جانوں کو ہتھیلی پہ رکھ کر مجبوری کی صورت میں وہ اپنے فرائض کو انجام دیتے آ رہے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ کئی ملازمین بیس سال سے زائید عرصے سے محکمہ میں اپنی خدمات انجام دیتے آ رہے ہیں لیکن ان کی مستقلی کے بارے میں ابھی تک کوئی بھی اقدام نہ اُٹھایا گیا ہے۔امتیاز احمد کا کہنا تھا کہ محکمہ کی طرف سے دور دور کے بنا بجلی کے علاقوں میں بجلی پہنچائی جا رہی ہے جس میں سب سے زیادہ ان ہی عارضی ملازمین سے کام لیا جاتا ہے لیکن ان کی اُجرتوں کے ساتھ ساتھ ان کے مستقبل کے بارے میں سرکار اور محکمہ کی طرف سے کوئی بھی ٹھوس اقدامات نہیں اُٹھائے جا رہے ہیں۔اُنہوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے تمام ملازموں کو مستقل کرنے کی اپیل کی۔