سرینگر// جموں کشمیر میں سرکاری محکموں کے ذمہ کروڑوں روپے کا بجلی فیس واجب الادا ہے لیکن یہاں پولیس، فوج اور نیم فوجی دستے بھی زائد از425کروڑ روپے بجلی فیس کے مقروض ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق سرکاری محکموں کے علاوہ امن و قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں بھی بجلی فیس کی ادائیگی میں دیگر محکموں کی ہی طرح مقروض ہیں۔ اس فہرست میں مرکزی زیر انتظام خطے کا محکمہ داخلہ سر فہرست ہے جس پر206کروڑ94لاکھ روپے کا بجلی فیس واجب الادا ہے۔ اس فہرست میں محکمہ داخلہ کے تحت آنے والے مختلف شعبے جن میں پولیس،ٹریفک پولیس،تحقیقاتی شعبہ،خفیہ شعبہ ،مواصلاتی شعبہ، ٹرانسپورٹ ورکشاپ،فائر اینڈ ایمرجنسی،انتظامی شعبہ اور دیگر ذیلی شعبے بھی شامل ہیں۔ حق اطلاعات قانون کے تحت حاصل کی گئی معلومات کے مطابق اس فہرست میں نیم فوجی دستے سرحدی حفاظتی فورس(بی ایس ایف) بھی شامل ہے،جو محکمہ بجلی کا5لاکھ82ہزار روپے کا مقروض ہے۔ فوج اور فوج کے زیر اہتمام چلنے والے ادارے،فوجی تنصیبات،کنٹونمنٹ بورڈ،کیمپ،نکاسی پانی کے اسٹیشنوں کا بھی محکمہ بجلی کے93کروڑ76لاکھ روپے کا فیس واجب الادا ہے۔ فہرست میں سی آر پی ایف بھی شامل ہے،جس کو مجموعی طور پر120کروڑ85لاکھ روپے کی رقم محکمہ بجلی کو بطور بجلی فیس ادا کرنے ابھی باقی ہیں۔ سی آر پی ایف کو یہ بجلی فیس وادی میں پھیلے کیمپوں میں بجلی حاصل کر نے کے مد میں بقایا ہے۔تاہم مرکزی ادارہ ’سی بی آئی‘ اور گیریسن انجینئرنگ بادامی باغ ایسے ادارے ہیں جنہوں نے اپنا مکمل بجلی فیس ادا کیا ہے۔ اکتوبر 2020میں جموں کشمیر حکومت نے11ہزار کروڑ بجلی کے قرضوں کی ادائیگی کیلئے پاور فنانس کارپوریشن (پی ایف سی) لمیٹڈ اور آر ای سی لمیٹڈ سے قرضہ حاصل کرنے کا فیصلہ لیا اور سلسلے میں ایک مفاہمت عامہ پر دستخط بھی کئے۔ دسمبر میں خود کفیل بھارت مہم (ڈسکومس لیکویڈیٹی انفیوژن اسکیم) کے تحت11ہزار24کروڑ47لاکھ روپے کا قرضہ منظور کیا گیا۔