ڈاکٹر عریف جامعی
صداقت اور امانت ایسی آفاقی اور لافانی اقدار ہیں جن سے بین الانسانی تعلقات کا حسن قائم و دائم رہتا ہے۔ معاشرتی دائرے میں یہ اقدار انسانی گفتار اور رویے کا احاطہ کرتیں ہیں جبکہ عالم خلق و امر میں سے ان کا صدور حق کے طور پر ہوتا ہے کیونکہ رب کائنات ’’مولی الحق‘‘ (الانعام، ۶۲) ہے جس کا ہر فیصلہ ’’قول الحق‘‘ (الانعام، ۷۳) ہے اور اس نے زمین اور آسمانوں کو ’’الحق‘‘ (الانعام، ۷۳) پر پیدا کیا ہے۔ یہاں پر ہمیں اقدار اور قوانین کے درمیان ایک لطیف سے فرق کو جاننے کی کوشش کرنا ہوگی۔ بات دراصل یہ ہے کہ قوانین کے سامنے طوعاً و کرہاً سر تسلیم خم کرنا پڑتا ہے جبکہ اقدار دلی رغبت کے ساتھ کسی رویے پر مسلسل دوام کے ذریعے معرض وجود میں آتی ہیں۔ تاہم جس طرح انسانی سطح پر قوانین مستبد اور مطلق العنان حکمران کے ظلم و جبر سے اپنی افادیت کھودیتے ہیں، اسی طرح اقدار بھی آبا و اجداد اور جھوٹے پیشواؤں کی اندھی تقلید سے قابل عمل نہیں رہتیں۔
یہی وجہ ہے کہ وہی قوانین اور اقدار آفاقی رنگ ڈھنگ اختیار کرتی ہیں جو تکوینی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے رب کائنات کی طرف سے جاری ہوتی ہیں، کیونکہ وہ ’’واہب الصور‘‘ (صورتیں عطا کرنے والا) ہونے کے ساتھ ساتھ ’’مقلب القلوب‘‘ (دلوں کا پھیرنے والا) بھی ہے۔ یعنی مادی دنیا کی ترتیب و تنظیم بھی وہی کرتا ہے اور وہی دلوں کو راہ راست پر چلنے کی توفیق عطا کرکے انسان کو مثبت رویوں کا خوگر بنادیتا ہے۔ یہ اس لئے ضروری ہے کہ جس طرح ’’الحق‘‘ کی طرف سے ’’حق‘‘ (سچائی، صدق) ہی جاری ہوتا ہے اسی طرح انسانی رویے بھی ’’حق‘‘ کی بنیاد پر تشکیل پانے چاہئیں۔ ’’الحق‘‘ کا ہی یہ استحقاق یعنی دائرہ کار ہے کہ وہ کون و مکان کو اسی بنیاد پر خلق کرے اور اس کا قول (فرمان) اس بارے میں ’’قولہ الحق‘‘ یعنی سچائی پر مبنی کلام قرار پاتا ہے۔
علم الکلام کے بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ حق کسی واقعے کا محتاج نہیں ہوتا، جبکہ صدق واقعات ہی سے ثابت ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر خدا جو حق بلکہ الحق ہے، اس لئے اس کے وجود (جو کہ واجب الوجود ہے) کو ثابت کرنے کے لئے کسی دلیل کی حاجت نہیں ہے۔ اس کے برعکس دنیا یا مخلوقات کا وجود امکانی (ممکن الوجود) ہے۔ ظاہر ہے کہ ان موجودات کا ہونا بالفعل ایک سچائی، حقیقت یا صدق ہے، لیکن اس کا ثبوت خارجی دلائل پر منحصر ہے۔ تاہم حق کا حق ہونا انسانی سطح پر اس تعریف اور تصدیق سے معروف ہوتا ہے جو صادقین کے صدق یعنی سچوں کی سچائی سے آشکار ہوجاتا ہے۔ ان صادقین میں صدق کی صفت جمیلہ کے ساتھ ساتھ امانت اور دیانت کی صفت بھی بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے۔ یہ لوگ دراصل حق کی نمائندگی اسی لئے کرپاتے ہیں کہ امانت کا احساس انہیں سچائی یعنی صدق کے ساتھ ایسا کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ اس طرح امانت اور صداقت کی قدریں ایک دوسرے لئے لئے لازم و ملزوم بن جاتی ہیں۔
اس سلسلے میں جو بنیادی امانت رب تعالیٰ نے انسانیت کے سپرد کی ہے وہ آزادی و اختیار کی امانت ہے جس کے ذریعے انسان اپنی انسانیت کا آزادانہ اظہار کرنے کے قابل ہوجاتا ہے جس میں بے شک اس کے عقلی، اخلاقی اور جمالیاتی وجود کی جہات ثلاثہ کا اظہار بدرجہ اتم شامل ہے۔ ایک بار عظیم ہونے کی وجہ سے اس امانت کو قرآن نے ایک خاص پیرائے میں بیان کرکے ایک طرف انسان کی حوصلہ مندی کی طرف اشارہ کیا ہے، لیکن ساتھ ہی اس کے عزم کی خامی کو بھی مبرہن کیا ہے۔ بفحوائے الفاظ قرآنی: “ہم نے اپنی امانت کو آسمانوں پر، زمین پر اور پہاڑوں پر پیش کیا، لیکن سب نے اس کو اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے (مگر) انسان نے اسے اٹھالیا، وہ بڑا ہی ظالم جاہل ہے۔(الاحزاب، ۷۲) اس میں انسان کی کسی صورت میں بھی تصغیر نہیں کی گئی ہے، بلکہ صرف اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ امانت اتنی عظیم ہے کہ اس کے سامنے انسان بے شک کمزور ہے۔ (النساء، ۲۸)
انسانیت کی تاریخ میں اہل صدق و امانت کی اگرچہ کمی نہیں رہی ہے، تاہم جو ہستیاں ان اقدار کی معراج پر فائز رہی ہیں، وہ پیغمبران کرام علیہ السلام ہیں۔ انہوں نے امانت کے اس بار گراں کو کس طرح اپنے ذمہ لیا اور اس کے ساتھ جڑی ذمہ داریوں کو کس طرح نبھایا اس کا احاطہ اگرچہ تمام الہامی کتابوں نے کیا ہے، تاہم قرآن نے اس سرگزشت کو اپنا خاص موضوع بنایا ہے۔ چونکہ امانت و دیانت اور صدق و صفا کا یہ سفر نہایت صبر آزما رہا ہے، اس لئے اس میں ان ہستیوں کو ابتلاء اور آزمائش کی بھٹیوں سے گزرنا پڑا۔ انہی آزمائشوں کو عبور کرکے سیدنا ابراہیمؑ بھی دنیا کی امامت (البقرہ، ۱۲۴) پر فائز کیے گئے اور اسی قوت اور امانتداری (القصص، ۲۶) کا ثبوت دیکر سیدنا موسیٰ ؑ بھی ’’قلزم ہستی کو پار کرکے‘‘بنی اسرائیل کے لئے ایک نئی دنیا آباد کرنے میں کامیاب ہوئے۔ صداقت اور امانت کی اس داستان کی تکمیل محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی نے کی۔ آپؐ نے اپنے ارد گرد قدسیوں کی ایک ایسی جماعت تیار کی جس نے سیدنا ابراہیم ؑ کی دو ہزار پانچ سو سال قبل کی ہوئی دعا کی قبولیت کو ایک زمینی حقیقت میں تبدیل کیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو روئے زمین پر قیامت تک صداقت اور امانت پر مبنی وہ انقلاب عظیم برپا نہیں ہوسکتا تھا جس کے ذریعے ظلم و عدوان اور باطل پرستی کی جڑ اکھاڑ دی گئی۔ صادقین کی صدق کی خاطر یہ جانفشانی ہی دنیا کو آخرت کے لئے دارالعمل بناتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان نفوس قدسیہ کو قیامت کے روز اس صدق و صفا کے بارے میں اس طرح سوال کیا جائے گا: ’’تاکہ اللہ سچوں سے ان کی سچائی کے بارے میں دریافت فرمائے۔‘‘ (الاحزاب، ۸)
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دراصل خداوند قدوس نے اسی امانت اور صداقت کا ابدی، آفاقی اور عالمگیر نمونہ پیش کرنے کے لئے مبعوث فرمایا۔ چونکہ اس بنیادی امانت کو انسانی فطرت میں شامل کیا گیا، اس لئے اسی کا اظہار آپؐ کے ذریعے اسوہ حسنہ کے طور پر ہوا۔ چونکہ دین قیم (سیدھا دین) اسی فطرت کو ابھارتا اور پروان چڑھاتا ہے جس پر حق تعالی نے انسان کو پیدا کیا (الروم، ۳۰)، اس لئے محمدؐ نے اسی دین فطرت کی طرف کامل امانتداری کے ساتھ دعوت دی۔ ظاہر ہے کہ سیدنا ابراہیمؑ کی حنیفیت کا سچا وارث اور امین ہونے کی وجہ سے آپؐ نے ابتداء اسی ملت (طریقہ) ابراہیمی سے کی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ؐ بچپن ہی سے نہ صرف اصنام بلکہ قول زور (جھوٹ) اور لہو و لعب سے بھی مجتنب رہے۔ چونکہ دین ابراہیمی میں ایثار، قربانی، ہمدردی اور مہمان نوازی جیسی انسانی اقدار پر کافی زور رہا ہے، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان روایات کا نبوت سے قبل ہی ایک طرح کا احیا کرنا شروع کیا۔ اس سلسلے میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب مکہ کے انتشار زدہ ماحول میں کمزوروں، لاچاروں، یتیموں، بیواؤں، مظلوموں اور مہمانوں کا جینا دو بھر کردیا گیا، تو مکہ کے چند باحس اور ذی شعور افراد نے ایک معاہدہ کیا تاکہ اس صورتحال پر حتی الامکان قابو پایا جاسکے۔ اس معاہدے میں نبیؐ اپنے اعمام (چچاؤں) کے ساتھ بطور گواہ شامل تھے۔ اس طرح کے معاہدوں، جن کا خاص مقصد ظلم کا قلع قمع کرنا ہو، کے لئے آپؐ بعثت کے بعد بھی تیار رہتے تھے۔ (ابن ہشام)
پہلی وحی کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذرا گھبرائے ہوئے سیدہ خدیجہ ؓ کے پاس پہنچے اور ان سے اپنی جان کے خطرے کے بارے میں بات کی تو سیدہ ؓنے نہایت ہی اطمینان سے آپؐ کی فطرت کو ان الفاظ میں بیان کیا: ’’ہرگز نہیں، آپ کو یہ خوش خبری مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہیں فرمائے گا۔ خدا گواہ ہے کہ آپؐ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، کمزورں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، ناداروں کو مال دیتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور راہ حق میں مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔‘‘ ظاہر ہے کہ صدق و صفا اور امانت و دیانت کے اس پیکر کی خاطر سیدہ خدیجہؓ کی زبان سے یہ بے ساختہ تعریفی کلمات صرف آپ ؐ کی شریک حیات ہونے کی وجہ سے جاری نہیں ہوئے تھے۔ دراصل سیدہؓ نے آپؐ کے صادق اور امین ہونے کی شہادت اسی وقت دی تھی جب ان کی تجارت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور امانت نے چار چاند لگا دیئے تھے۔
قریش پر آپؐ کی امانتداری اور صداقت کا اتنا ہی اثر نہیں تھا کہ اس معاشرے کے اکثر لوگ آپؐ کے پاس اپنی امانتیں رکھتے تھے اور ہر چھوٹے بڑے مسئلے کو آپؐ کی گواہی سے طے کرتے تھے، بلکہ اکثر اوقات معاندین تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان صفات کا اقرار کرکے اپنی حیثیت کو مخدوش بنادیتے تھے۔ اعلانیہ دعوت کے سلسلے میں جب آپؐ نے قریش کو کوہ صفا سے بلایا تو لوگوں کی اچھی خاصی تعداد جمع ہوگئی جن میں آپؐ کا چچا ابو لہب بھی شامل تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصل بات بتانے سے پہلے مثال کے ذریعے لوگوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ اللہ کی نافرمانی کرکے وہ کتنے بڑے خطرے سے دوچار تھے۔ آپؐ لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمانے لگے کہ ’’اگر میں آپ سے یہ کہوں کہ اس پہاڑی کے عقب میں ایک فوج تیار بیٹھی ہے اور آپ پر حملہ آور ہوا چاہتی ہے تو کیا آپ مجھ پر اعتبار کریں گے؟‘‘ ان الفاظ کو لوگ یہی نہیں کہ سچ مان گئے بلکہ کئی لوگ یہ مان کر کہ واقعی پہاڑی کی دوسری جانب ایک فوج کھڑی ہے، سچ مچ بھاگ کھڑے ہوئے! اتنا ہی نہیں، بلکہ تمام تر مخاصمت اور دشمنی کے باوجود قریش کے اکثر لوگ آخر تک آپؐ کے پاس ہی اپنی امانتیں رکھتے رہے۔ جب بالآخر آپ ؐ نے ہجرت کا ارادہ فرمایا تو سیدنا علیؓ کو اپنے بستر پر لیٹنے کا حکم دیتے ہوئے یہ ہدایت بھی فرمائی کہ تمام امانتیں ان کے مالکوں کے حوالے کی جائیں۔
یہ حال تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حقوق العباد کے سلسلے میں صداقت اور امانت کے اہتمام کا۔ اللہ تعالی کی سب س بڑی امانت (جسے لانے والے فرشتے کو روح الامین یعنی امانتدار فرشتہ کہا گیا) جو آپؐ کے سپرد کی گئی تھی، وہ اللہ تعالی کا ابدی اور آخری ہدایت نامہ یعنی قرآن ہے۔ اس ضمن میں آپؐ کی فکرمندی کی کوئی حد نہیں تھی۔ آپؐ چاہتے تھے کہ بندگان خدا میں سے ہر ایک فرد تک اللہ تعالی کا یہ پیغام پہنچایا جائے۔ اس سلسلے میں اللہ تعالی نے خود فرمایا کہ آپؐ کی ذمہ داری صرف پیغام پہنچا دینا ہے، جبکہ ہدایت سے ہمکنار کرنا خدا کا کام ہے۔ قرآن کے الفاظ میں: ’’پس اگر یہ لوگ اس بات پر ایمان نہ لائیں تو کیا آپ ان کے پیچھے اسی رنج میں اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے؟‘‘ (الکہف، ۶) چونکہ اسی امانت کی بے کم و کاست ترسیل اور تبلیغ پر اس بات کا انحصار ہے کہ بندگان خدا ’’عہد الست‘‘ (الاعراف، ۱۷۲) کو مستحضر رکھ کر خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو استوار کریں، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس ذمہ داری کو انجام دینے کے لئے اس طرح خطاب کیا گیا: ’’اور اگر وہ ہم پر کوئی بات بنا لیتا، تو البتہ ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے۔‘‘(الحاقہ، ۴۴ و ۴۵) امانتوں میں وہ اختیار بھی ایک بڑی امانت ہے جو بین الانسانی تعلقات کو عدل و قسط پر قائم رکھنے کے لئے اقتدار یا عہدے کی صورت میں انسانوں میں سے کسی انسان کو عطا کیا جاتا ہے۔ ایسی امانت کسی کو تفویض کرنے کے سلسلے میں اللہ تعالی کا حکم ہے: ’’اللہ تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچاو!‘‘ (النساء، ۵۸) تاہم جس طرح ایک حاکم کے ذمہ عدل کا قیام ہے، بالکل اسی طرح کسی بھی کام کا ماہر اس بات کا ذمہ دار ہے کہ وہ کامل مہارت کے ساتھ ساتھ ہر وقت صداقت اور امانت کا ثبوت فراہم کرکے نبیوں علیہ السلام، صدیقین اور شہداء کی معیت حاصل کرے اور یہی الصادق الامین نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے (الترمذی) اور آخرت میں ایسے ہی سچوں کو ان کی سچائی فائدہ پہنچائے گی۔ (المائدہ، ۱۱۹)
(رابطہ9858571965)
[email protected]