سرینگر// حکومت کی جانب سے بلدیاتی و میونسپل حدود میں متبادل دنوں میں50فیصد تجارتی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے اعلان کے بعد پیر کو سرینگر سمیت وادی کے دیگر تحاصیل و ضلع ہیڈکوارٹروں میں پولیس نے دن بھر پبلک ایڈرس سسٹم کے ذریعہ بازاروں کا گشت لگا کر دکانداروں کو ان احکامات کو عملانے کی تاکید کی۔ لیفٹیننٹ گورنر کی سربراہی والی انتظامیہ کی جانب سے منگل کو کورونا وائرس کے پھیلائو کی روکتھام کیلئے متبادل ایام میں مرحلہ وار بنیادوں پر تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں،جس کے پیش نظر بدھ کو دن بھر تجارتی انجمنوں کے نمائندوں کے متعلقہ ضلع انتظامیہ کے افسراں کے ساتھ میٹنگوں کے ادوار جاری رہے۔ لالچوک کے علاوہ پائین شہر اور سیول لائنز کی تجارتی انجمنوں نے انتظامیہ و پولیس افسران کے ساتھ میٹنگیں کیں،جس میں طریقہ کار بھی وضع کیا گیا۔ اگر چہ پہلے روز بیشتر بازاروں حسب معمول کھلے رہیں اور تجارتی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ بازاروں میں پولیس گاڑیاں، لاوڈ ا سپیکروں پر اعلان کر رہی تھی کہ سرکاری احکامات کو جاری رکھا جائے۔ادھر سرکار نے مسافر بردار ٹرانسپورٹ میں موجود نشستوں کے برعکس نصف سواریوں کو ہی سوار کرنے کا حکم نامہ جاری کیا تھا،جس کے پیش نظر ٹریفک پولیس بھی جگہ جگہ اس حکم نامہ کو عملانے کیلئے سرگرم تھی۔ شہر کے مضافاتی علاقوں کے علاوہ قصبوں میں تاہم گاڑیوں میں مسافروں کی بھر مار تھی،اور حسب معمول ان گاڑیوں میں نشستوں کے علاوہ اضافی سواریوں کو بسوار ہوتے ہوئے دیکھا گیا۔ کئی ایک مقامات پر ڈرائیوروں و کنڈیکٹروں اور مسافروں کے درمیان کرائیوں پر بھی تلخ کلامی ہوئی کیونکہ مسافروں نے الزام عائد کیا کہ سواریوں کی تعداد میں کمی کرنے کے نتیجے میں ڈرائیور اںسے اضافی کرایہ وصول کرتے ہیں،جبکہ سرکاری حکم نامہ میں اس کا کہیں پر بھی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ تجارتی انجمنوں نے تاہم سرکاری حکم نامہ پر متضاد ردعمل پیش کیا۔محمد یاسین خان کی قیادت والی کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن نے کہا کہ دکانوں کو مرحلہ وار بنیادوں پر بند کرنے سے کورونا پر قابو پایا نہیں جاسکتا۔یاسین خان نے کہا کہ دفاتر،باغات،سڑکوں اور دیگر جگہوں پر لوگوں کی بھر مار ہے،اور اگر اس سے کورونا کے پھیلائو کو نہیں روکنا ہے تو دکانوں اور تجارتی مراکز کو بند کرنے سے کیا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ بیرون ریاستوں سے بغیر ٹیسٹ لوگ آرہے ہیں،ان کے ٹیسٹ نہیں کئے جا رہے۔ خان نے کہا کہ کورونا کو روکنے کیلئے طریقہ کار موافق نہیں ہے،اور اگر حکام سنجیدہ ہے تو انہیں معیاری عملیاتی طریقہ کار کو سختی سے عملانا ہوگا۔انہوں نے کہا ماہرین طب کا بھی ماننا ہے کہ اس طرح کی مشق کے برعکس سنجیدگی سے اقدامات اٹھانے ہونگے۔ کشمیر ٹریڈ الائنس کے صدر اعجاز شہدار نے کہا کہ شٹر ڈائون اقدامات کی وجہ سے کورونا کو روکا نہیں جا سکتا بلکہ اس کیلئے زمینی سطح پر طبی اداروں کی طرف سے جاری عمیاری عملیاتی طریقہ کار اور رہنما خطوط کو عملانا ہوگا۔ سٹی سینٹر ریذیڈنسی روڑ کی ٹریڈرس جوائنٹ کارڈی نیشن کمیٹی نے متبادل ایام میں لالچوک میں دکانوں و تجارتی مراکز کو کھولنے سے متعلق طریقہ کار ترتیب دیا ہے۔ کارڈی نیشن کمیٹی کے فرحان کتاب نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ بدھ کو لالچوک کی کئی ایک تجارتی انجمنوں کی میٹنگ منعقد ہوئی،جس کے دوران فیصلہ لیا گیا کہ لالچوک میں صبح11بجے سے شام5بجے تک بازا ر کھلے رہیں گے،جبکہ ہفتہ اور اتوار کو تجارتی مراکز بند رہیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ طاق،جفت کی بنیاد پر بازاروں میں دیگر اہم دکانیں کھلی رہیں گی اور اس دوران معیاری عملیاتی طریقہ کار پر سختی کے ساتھ کاربند رہا جائے گا۔کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن(بقال) کے صدر محمد صادق بقال نے کہا کہ ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر سے میٹنگ کے دوران اس بات کو واضح کیا گیا کہ اس طرح کا تجارتی فیصلہ لینے سے قبل تاجروں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ کو بعد میں کچھ ایک تجاویز دی گئیں جن میں ماسکوں کا استعمال،سماجی دوری اور دیگر رہنما خطوط کو سختی کے ساتھ عملانا بھی شامل ہے۔