سرینگر //ماہ رمضان کے متبرک مہینے کے آغاز سے ہی وادی بھر میں بجلی کی آنکھ مچولی کا بدترین سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔اس غیر متوقع صورتحال سے لوگ ذہنی کوفت سے دوچار ہورہے ہیں۔افطاری کا وقت ہو یا سحری، اچانک بجلی بند کردی جاتی ہے۔محکمہ بجلی نے پرانی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ موسم میں آئی تبدیلی کے سبب اوورلوڈنگ میں اضافہ ہوا ہے اور فی الوقت وادی کو 1600میگاواٹ بجلی فراہم کی جاتی ہے ۔ماہ رمضان سے قبل بجلی کی سپلائی میں معقولیت نظر آرہی تھی اور بجلی کی تقسیم وادی کے ہر علاقے میں یکساں طور پر دکھائی دے رہی تھی۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ماہ رمضان کے شروع ہوتے ہی بجلی کی بدترین صورتحال پیدا کردی گئی ہے۔جنوری یا فروری میں محکمہ بجلی کا استدال یہ تھا کہ پانی کی کمی کی وجہ سے بجلی کی سپلائی متاثر ہورہی ہے لیکن اب مارچ سے ندی نالے پانی سے بھر گئے ہیں لیکن اس کے باوجود بجلی کی غیر اعلانیہ اور غیر متوقع کٹوتی کا آغاز کیا گیا ہے۔پچھلے 5روز سے نہ صرف شہر سرینگر بلکہ وادی بھر میں دن و رات بجلی کی کٹوتی کا ایک ایسا بے ہنگم طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ کئی علاقوں میں لوگ احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔حالانکہ جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر نے چند روز قبل ہی صوبائی انتظامیہ کو ہدایت دی تھی کہ ماہ صیام کے موقعہ پر بجلی اور پانی کی معقول سپلائی کو ہر ممکن یقینی بنایا جائے۔وادی کے لوگ بجلی کی آنکھ مچولی سے پریشان ہیں۔ پچھلے چار روز سے صبح اور شام و دن و رات میں وقفہ وقفہ سے بجلی بند کر دی جاتی ہے۔بجلی کی آنکھ مچولی کا یہ سلسلہ ہر علاقے اور ہر بستی میں جاری ہے۔محکمہ بجلی کے چیف انجینئر اعجاز احمد ڈار نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ بجلی سپلائی میں بہتری آئی ہے ،البتہ موسم خراب ہونے کے نتیجے میںاوولوڈنگ میں پھر اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت وادی کو 1600میگاواٹ بجلی دی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے لوگوں سے بار بار یہ گزارش کی ہے کہ صحری اور افطاری کے وقت بجلی پر چلنے والے آلات کا کم استعمال کیا جائے تاکہ لوڈ کم ہو اور بجلی سپلائی میں بھی خلل نہ پڑے لیکن ایسا نہیں کیا جاتا ہے ۔