عبید احمد آخون
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اس دُنیامیں اس کی جگہ متعین کر دی ،انسان کو اللہ تعالیٰ نے عقل و شعور کے ساتھ تخلیق کیا ۔ اسے قوتِ گویائی سے نواز کر دوسرے سب جانداروں میں اسے ممتاز بنایا اس وصف کے بنا پر انسان کو حیوانِ ناطق بھی کہا جاتا ہے۔ زبان کو انسان ترسیل کے لیے استعمال کرتا ہے، وہ اپنےخیالات ،احساسات ،کیفیات ،فکر و سونچ ،نشیب و فراز کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے اس کا استعمال روزِ اول سے ہی کرتا آیا ہے, چناچہ اللہ تعالیٰ کی آسمانی کتابیں بشمول قران مجید بھی اس کی ایک عمدہ مثال ہے جو وقتاً فوقتاً پیغمبروں پر اُتاری گئیں،جن میںدرج اللہ کا فرمان انبیائے کرام، بنی آدم کو سُنایا و پڑھایا کرتے تھے۔
شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدے کا آرٹیکل 19 آزادی اظہار رائے کا حق بیان کرتا ہے، کہ ہر کسی کو بغیر کسی مداخلت کے رائے رکھنے کا حق حاصل ہوگا اور سرحدوں سے قطع نظر، ہر قسم کی معلومات اور نظریات تلاش کرنے، حاصل کرنے اور فراہم کرنے کی آزادی ہوگی۔ زبانی طور پر، تحریری طور پر یا پرنٹ میں، آرٹ کی شکل میں، یا اپنی پسند کے کسی دوسرے میڈیا کے ذریعے۔ جمہوریت میں میڈیا کو اس وقت تک جمہوریت کا چوتھا ستون نہیں مانا جا سکتا ہے جب تک کہ اس میںشفافیت نہیں ہوگی اور اس دور میں میڈیا کو روزمرہ کی ضرورت سمجھا جاتا ہے کیونکہ دن کا آغاز میڈیا سے ہوتا ہے اور اسی پر ختم ہوتا ہے، چاہے وہ اس کا سوشل میڈیا platform ہو یا پرنٹ میڈیا یا پھر الیکٹرانک میڈیا۔
ایک جمہوری ملک میں اپنے نظام کو پوری صلاحیت کے مطابق چلانے کے لیے عوام کی شرکت ناگزیر ہے، جس کے لیے یکے بعد دیگرے بڑے پیمانے پر لوگوں کی تعداد تک معلومات کی ترسیل کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کام جتنے بھی وسائل کےذریعے سے لوگوں تک پہنچائی جاتی ہے ع،رف عام میں اُسے ماس میڈیا کہتے ہیں۔
آج کل تعلیم و سیاست کی مناسبت سے میڈیا پر کچھ ایسے افراد بیان بازی کر رہےہیں، جن کو یہ شعور بھی نہیں کہ وہ کیا کہہ رہےہیں بلکہ اگر انسان تمسخر کے پیرایے میں بھی ایسے بیانات پر تبسم کرے تو ایمان ضائع ہونے کا خطرہ بھی لاحق ہوسکتا ہے اور کچھ میڈیا چینلز ایسے حواس باختہ افراد کو اپنا پلیٹ فارم مہیا کرا کے پروان چڑھا رہےہیں جو کہ ایک غیر شعوری اور غیر اخلاقی امر ہے۔ جب ایسے افراد یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، تو دو باتیں ہو سکتی ہیں، یا تو وہ جھوٹ بول رہےہیں یا پھر وہ ذہنی مریض ہیں۔ایسے افراد کے لیے حکومت نے شفاخانے قائم کیےہیں۔ اگر آپ کو بھی سماج میں ایسے افراد کہیں مل جائیں تو آپ پر یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ انہیں صحیح مقام پر پہنچا کر ثواب ِدارین حاصل کریں۔
[email protected]
ماس میڈیا کی ضرورت اور استعمال