نیویارک //موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ نے رپورٹ جاری کی ہے جس میں بین الحکومتی پینل کی جانب سے دنیا کو خبردار کیا گیا ہے۔انٹرگورنمنٹ پینل آن کلائمیٹ چینج نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں انسانی سرگرمیوں سے زمین کو پہنچنے والے نقصانات سے متعلق خبردار کیا ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گلوبل وارمنگ میں انسان کا کردار حد سے زیادہ اور واضح ہے، عالمی حدت 2030ء تک 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جائے گی۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق جنگلات، مٹی اور سمندر کی کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت مزید اخراج سے کمزور ہوجائے گی، دنیا کو ہیٹ ویو، بارشوں اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ فضا میں گرین ہاؤس گیسز کی مقدار پہلے ہی بہت زیادہ ہے جو کئی دہائیوں سے موسمیاتی مسائل کی وجہ بن رہی ہے۔’کوڈ ریڈ فار ہیومینیٹی‘ کے عنوان سے رپورٹ میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے زور دیا ہے کہ کوئلے اور آلودگی پھیلانے والے دیگر حیاتیاتی ایندھن کا استعمال روک دیا جائے۔گوتریس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں، اس سے پہلے کہ کوئلہ اور حیاتیاتی ایندھن ہمارے سیارے کو تباہ کر دیں اس رپورٹ پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔آئی پی سی سی کی رپورٹ اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے بلائی گئی اس کانفرنس سے تین مہینے پہلے سامنے آئی ہے جو سکاٹ لینڈ میں منعقد ہو گی۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن جن کا ملک کلائمیٹ کانفرنس کی میزبانی کرے گا، کا کہنا ہے کہ اگلی دہائی ہمارے سیارے کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے بہت اہم ہے۔