ایجنسیز
لندن//برطانیہ کے نئے وزیرِاعظم اینڈی برنہم منگل کو اپنی کابینہ کا پہلا اجلاس منعقد کریں گے، جب کہ انہوں نے سابق وزیرِاعظم کیر اسٹارمر کے قریبی حامیوں کو حکومت سے ہٹا کر نئی ٹیم تشکیل دینا شروع کر دی ہے۔برنہم نے عوام کو مالی دبائو سے کچھ ریلیف دینے کے اپنے وعدے پر ابتدائی عمل کرتے ہوئے توانائی کے بلوں پر ٹیکس میں کمی کا اعلان کیا، جس سے اوسط گھرانے کو سالانہ تقریباً 45 پائونڈ (60 امریکی ڈالر) کی بچت ہوگی۔ ان کے مطابق یہ کمی یکم اکتوبر سے نافذ ہوگی، جبکہ اس کے لیے درکار رقم اسٹارمر حکومت کے مجوزہ ڈیجیٹل شناختی کارڈ منصوبے کو ختم کرکے حاصل کی جائے گی۔گریٹر مانچسٹر کے سابق میئر برنہم پیر کے روز لیبر پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے بعد 10 ڈائوننگ اسٹریٹ پہنچے اور برطانیہ کے وزیرِاعظم کا منصب سنبھال لیا۔ وہ 2016 کے بعد برطانیہ کے ساتویں وزیرِاعظم ہیں۔ کیر اسٹارمر نے بھاری اکثریت سے انتخابات جیتنے کے صرف دو سال بعد استعفیٰ دے دیا، کیونکہ متعدد غلط فیصلوں اور پالیسیوں میں بار بار تبدیلی کے باعث ان کی اپنی جماعت نے ان سے حمایت واپس لے لی۔وزیرِاعظم کی حیثیت سے اپنے پہلے خطاب میں برنہم نے مہنگائی کے بوجھ میں کمی، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، صنعت کی بحالی اور بے گھر افراد کے سڑکوں پر سونے کے مسئلے کے خاتمے کا وعدہ کیا، اگرچہ یہ ایک بڑا اور مشکل ہدف تصور کیا جا رہا ہے۔اس کے بعد انہوں نے اپنی ترجیحات کے مطابق حکومت کی تشکیلِ نو شروع کر دی۔اسٹارمر کی وزیرِ خزانہ ریچل ریوز کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔